Wednesday , December 19 2018

شاہ عبداللہ ۔السیسی کا علاقائی بحرانوں پر تبادلہ ٔ خیال

ملاقات سے عالم عرب کے مسائل حل ہونے کی توقع، سعودی وزیر خارجہ کا تاثر

ملاقات سے عالم عرب کے مسائل حل ہونے کی توقع، سعودی وزیر خارجہ کا تاثر
جدہ۔ 11 اگست (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے ملک عبداللہ نے شام، عراق، غزہ اور لیبیا میں تبدیلیوں پر صدر مصر عبدالفتاح السیسی سے اُن کے اولین دورۂ سعودی عرب کے موقع پر تبادلہ خیال کیا۔ سیسی کل رات دیر گئے بذریعہ طیارہ جدہ پہنچے تھے اور عمرہ کی ادائیگی کے لئے روانہ ہونے سے قبل انہوں نے سعودی حکمراں سے علاقائی بحرانوں پر تبادلہ خیال کیا۔ سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارہ ’’اِسپا‘‘ دونوں ممالک کے قائدین کی اس ملاقات کو اہم قرار دیا، کیونکہ عالم عرب اور عالم اسلام کو کئی مسائل درپیش ہیں۔ خبر رساں ادارہ نے کہا کہ اس چھوٹی چوٹی کانفرنس کے بارے میں وزیر خارجہ سعودی عرب سعودالفیصل نے اُمید ظاہر کی ہے کہ دونوں قائدین کا اجلاس عالم عرب کے مسائل کی یکسوئی میں مددگار ثابت ہوگا۔ فلسطینیوں اور شامیوں کو درپیش مشکلات کے علاوہ عراق میں انتہا پسندی اور لیبیا میں اختلافات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اِسپا کی خبر کے بموجب ملک عبداللہ نے غزہ پر اسرائیلی جارحانہ حملے کے خاتمہ کی جاری کوششوں پر غوروخوض کیا۔ سیسی کا ملک ایک ماہ قدیم اسرائیل ۔ فلسطین جنگ کے خاتمہ اور پائیدار امن کے قیام کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔ دونوں قائدین نے باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے ذرائع پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ سعودی عرب ، مصر کو اربوں ڈالرس مالی امداد دے چکا ہے تاکہ منتخبہ اسلامی حکومت کے خلاف گزشتہ سال جولائی میں فوجی بغاوت کے بعد ابتر ہوتی ہوئی معیشت بحال کی جاسکے۔ السیسی کی حکومت نے سابق صدر مصر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف پورے مصر میں کارروائیاں کی ہیں جن میں سڑکوں پر جھڑپوں میں 1400 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور 16,000 اسلام پسند اور احتجاجی قید کئے جاچکے ہیں۔ وزیر خارجہ امارات شیخ عبداللہ بن زائد النہیان نے بھی کل جدہ پہنچ کر وزیر خارجہ سعودی عرب سے تبادلہ خیال کیا۔ سعودی عرب کی طرح متحدہ عرب امارات بھی سیاسی اور معاشی لحاظ سے السیسی کی بھرپور تائید کررہا ہے۔ سعودی عرب نے مرسی کی اِخوان المسلمین کو ’’دہشت گرد تنظیم‘‘ قرار دے دیا ہے اور متحدہ عرب امارات بھی اسلامی کارکنوں کے خلاف اپنی سرزمین پر کارروائیاں کررہی ہے۔ ماہِ مئی میں اپنے ایک انٹرویو میں السیسی نے کہا کہ خلیجی شاہی خاندانوں سے مصر کو 20 ارب امریکی ڈالرس امداد حاصل ہوچکی ہے۔ تیل کی دولت سے مالامال قطر نے اخوان المسلمین کے خلاف کارروائی کا الزام السیسی پر عائد کیا ہے۔ قطر وہ واحد مملکت ہے جو مرسی کا حامی تھا۔ اس کے تعلقات سعودی عرب اور بیشتر پڑوسی خلیجی ممالک سے اسی وقت سے کشیدہ ہوگئے ہیں۔ تائید کے واضح اظہار کے بعد ملک عبداللہ نے 20 جون کو قاہرہ کا دورہ کیا تھا۔ یہ السیسی کی انتخابی کامیابی کے بعد کسی بھی عرب حکمراں کا اولین دورۂ مصر تھا۔ کل عبدالفتاح السیسی روس کا سفر کریں گے جس نے ان کی صدارت کی تائید کی تھی جبکہ وہ بحیثیت سربراہ فوج مصر روس کا دورہ کررہے تھے۔

TOPPOPULARRECENT