Monday , November 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / شب بیداری … اسلاف کا طرزِ عمل

شب بیداری … اسلاف کا طرزِ عمل

ہمارے اسلاف رات رات بھر جاگ کر عبادت کیا کرتے تھے۔ یہ جو ہم سنتے اور پڑھتے ہیں کہ یہ حضرات عشاء کے وضوء سے فجر کی نماز ادا کرلیتے تھے تو ظاہر ہے کہ رات کو سوتے بالکل نہیں تھے، کیونکہ سونے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے۔ میں ان بزرگوں کی شب بیداریوں اور عبادتوں کے واقعات دہرانا نہیں چاہتا، جن کو آج ہم قصوں اور افسانوں کی طرح پڑھتے اور سنتے ہیں، لیکن فی الواقع وہ تسلیم شدہ حقائق ہیں۔ کیا آج ہم ایسی عبادتیں کرسکتے ہیں؟ کیا ہم ہر رات اس طرح بیداری کی حالت میں گزار سکتے ہیں؟۔ ہم تو ان بزرگوں کے صرف نام لیوا ہیں، نہ ہماری آنکھوں میں سرور عشق ہے، نہ ہمارے چہروں پر ایمان و یقین کا نور ہے، نہ ہمارے دلوں میں امید و خوف کے چراغ روشن ہیں، نہ ہمارے جسموں میں وہ توانائی ہے جو ہمارے اسلاف میں تھی اور نہ ہم میں وہ استقامت ہے، جو ان میں تھی۔
غور کیجئے کہ ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہئے؟۔ مانا کہ ہم ویسی عبادتیں نہیں کرسکتے، ویسا ذکر نہیں کرسکتے، نہ ہر رات ویسی شب بیداری کرسکتے ہیں، لیکن کچھ تو کرسکتے ہیں۔ وہ اگر پانچ سو کیلو وزن اٹھالیتے تھے تو کیا ہم صرف دو تین کیلو وزن نہیں اٹھا سکتے؟۔ اگر وہ سال کی ۳۶۵راتیں جاگ کر گزارتے تھے تو کیا ہم سال میں بارہ راتیں جاگ کر نہیں گزارسکتے؟۔ کم از کم مہینہ میں ایک رات ہی ہم اپنے بزرگوں کے طرز پر اور ان کے نقش قدم پر گزارلیں۔ اگر ہم اس طرح کا کوئی پروگرام بنائیں تو وہ نصف شب کے بعد کا پروگرام ہو اور اس میں صرف عبادت کی جائے، یعنی ذکر، مراقبہ، تلاوت، نوافل، قضائے عمری، دعائیں، صلوۃ التسبیح، نماز تہجد، درود شریف (کم از کم دو تسبیحیں)، ختم شریف وغیرہ۔ یہ پروگرام گھر میں نہیں بلکہ مسجد میں کیا جائے۔ رفتہ رفتہ اس میں اپنے عزیز و اقارب اور دوست احباب کو بھی شرکت کی ترغیب دی جائے۔ یہ پروگرام درحقیقت خلوت مع اللہ کا پروگرام ہے، اس میں آپ ہوں گے اور اللہ رب العزت ہوگا۔ اپنے رب سے چپکے چپکے باتیں کیجئے، اپنی حاجتیں اس کے سامنے رکھئے، اس سے مانگئے اور ضدی سائل کی طرح مانگئے۔ اپنے لئے، عزیز و اقارب اور دوست احباب کے لئے دعائیں کیجئے۔ روئیے، گڑگڑائیے، اس سے دنیا ہی نہیں دین، آخرت، جنت، دوزخ سے پناہ، توفیق عبادت، استقامت، اس کا تقرب، یہاں تک کہ خود اسی کو مانگ لیجئے۔ یہ ہوئی شب بیداری اور عبادت گزاری، جو خاصان خدا کے دو اوصاف ہیں۔

خاصان خدا کا تیسرا وصف انفاق فی سبیل اللہ ہے، جس سے مراد صدقہ و خیرات ہے۔ اس کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں، لیکن ایک ابتدائی صورت موقع کی مناسبت سے یہ ہوسکتی ہے کہ ہر شخص دو آدمی کا کھانا اپنے گھر سے لے آئے، ایک خود کھائے اور دوسرا کھانا اللہ تعالی کے اس عبادت گزار مہمان کو کھلائے، جو آپ کی دعوت یا بغیر دعوت کے اس شب بیداری میں شریک ہوا ہے۔ اس کھانے میں تکلف بالکل نہ کریں، بس سیدھا سادہ سا کھانا ہو، جس کو واقعتاً ’’ماحضر‘‘ کہا جاسکے۔ آپ کا لایا ہوا یہ دوسرا کھانا انفاق فی سبیل اللہ ہوجائے گا۔ رات کے کسی حصہ میں ایک پیالی چائے کا انتظام بھی کرلیا جائے تو مناسب ہوگا۔ اس سلسلے میں یہ احتیاط برتیں کہ کھانا اتنا نہ کھائیں کہ عبادت میں سستی آجائے اور نہ اتنا کم کھائیں کہ کمزوری محسوس ہو، جس سے عبادت میں خلل آئے، بالخصوص اس پروگرام کے دن گیس بنانے والی غذاؤں سے پرہیز کریں۔
شب بیداری کے دوران اگر نیند کا غلبہ ہو تو تازہ وضوء بنالیں یا پھر ٹہلتے ہوئے ’’یاحی یاقیوم برحمتک استغیث‘‘ کا ورد کریں، ان شاء اللہ تعالیٰ اسے ’’لَاتاخذہ سنۃ ولَانوم‘‘ کا فیض آئے گا، نیند اور اونگھ ختم ہو جائے گی۔ سستانے یا کمر سیدھی کرنے کے لئے اگر دس پندرہ منٹ لیٹ جائیں تو کوئی حرج نہیں، تھوڑی دیر کا یہ آرام بھی ان شاء اللہ تعالی عبادت ہی میں شمار ہوگا۔ یہ ایسا ہی ہے، جیسے کوئی مزدور تھک کر اگر سستانے کے لئے بیٹھ جائے اور کام سے ہاتھ روک لے تو اس کا یہ آرام بھی کام میں شامل سمجھا جاتا ہے اور اجرت نہیں کاٹی جاتی، ان شاء اللہ تعالی آپ کا اجر بھی نہیں کاٹا جائے گا۔

شب بیداری کے اس پروگرام کو اس طرح مشترک رکھنے سے ان شاء اللہ تعالی درج ذیل فوائد حاصل ہوں گے: (۱) شب بیداری اجتماعی ہو تو جاگنا آسان ہو جاتا ہے (۲) اگر ایک شخص کی بھی عبادت قبول ہو جائے تو رب کریم کی طرف سے سب کی عبادت قبول کرلی جاتی ہے (۳) سعادت سے کوئی بھی محروم نہیں رہتا (۴) ہر عبادت گزار دوسرے سے متاثر ہوگا، کیونکہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے (۵) دیکھنے والوں میں بھی ان شاء اللہ تعالی عبادت و شب بیداری کا ذوق و شوق پیدا ہوگا اور یہ تبلیغ ہوگی (۶) اس پروگرام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اللہ رب العزت کے پاس شب بیدار عبادت گزاروں کی فہرست میں ہمارا نام آجائے گا۔
اس فائدے کو اس طرح سمجھ لیجئے کہ ایک بہت بڑا بینک ہے، جس میں بڑے بڑے تاجروں، سرمایہ داروں، امیروں اور دولت مندوں کے اکاؤنٹ کھلے ہوئے ہیں۔ ہر شخص کا لاکھوں، کروڑوں اور اربوں روپئے کا اکاؤنٹ ہے۔ اسی بینک میں کسی غریب نے بھی ہزار پانچ سو روپئے سے اکاؤنٹ کھلوایا، جب کہ اس غریب کا بینک بیلنس دوسرے اکاؤنٹ ہولڈرس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا، لیکن جب بینک اپنے اکاؤنٹ ہولڈرس کے فہرست بنائے گا تو کیا اس فہرست میں اس غریب کا نام نہ ہوگا؟ جس کا سرمایہ انتہائی قلیل ہے۔ بس اس مثال کو خوب اچھی طرح ذہن میں رکھئے۔ قیامت کے دن میدان حشر میں جب منادی پکارے گا کہ ’’کہاں ہیں وہ لوگ جو راتوں کو جاگ کر عبادت کرتے تھے‘‘ تو اس آواز پر صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، اولیاء اللہ اور مشائخ عظام کھڑے ہو جائیں گے، کیونکہ ان حضرات کے کھاتے میں سال کی ۳۶۵ شب بیداریاں ہوں گی، بے شمار نوافل ہوں گے اور ہزاروں مقبول دعائیں ہوگی۔ اس عظیم الشان سرمایہ عبادت کے ساتھ ہمارا انتہائی حقیر سرمایہ عبادت بھی ہوگا، یعنی مہینہ کی ایک شب بیداری۔ لیکن منادی کی آواز پر ان گزرگوں اور عبادت گزاروں کے ساتھ کھڑے ہونے کا ایک گونہ جواز ہمارے لئے بھی پیدا ہو جائے گا اور کیا عجب کہ ان اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ رب کریم ہمیں بھی حساب کے بغیر جنت میں داخل فرمادے۔ میں تو اس شب بیداری اور آہ سحر گاہی کو ’’خزانۂ توفیق‘‘ کہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمارا اور آپ کا حامی و ناصر ہو۔ (آمین) (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT