Monday , January 22 2018
Home / شب قدر، دعا اور شب جائزہ

شب قدر، دعا اور شب جائزہ

سید زبیر ہاشمی، مدرس جامعہ نظامیہ

سید زبیر ہاشمی، مدرس جامعہ نظامیہ
خالق کائنات رب ذو الجلال کا بے انتہاء شکر واحسان ہے کہ اس نے ہم تمام مسلمانوں کو ماہ ِرمضان المبارک عطا فرمایا اور ساتھ ہی ساتھ آخری عشرہ کی طاق راتیں {یعنی ۲۱، ۲۳ ، ۲۵ ، ۲۷اور ۲۹ } اور آج کا جمعہ۔ جمعۃ الوداع بھی نصیب فرمایا ، اور ان طاق راتوں میں سے آج کی بھی ایک رات ہے جو کہ انتہائی عظمت ،فضیلت ، برکت، رحمت ،سعادت والی رات ہے ۔ اِس رات میں ہم جتنی بھی عبادت وریاضت کریں گے یقینا اس کا فائدہ بے حد وبے حساب ملے گا۔ کیونکہ قدر کی رات میں اﷲ سبحانہٗ وتعالیٰ نے اپنے حبیب پاک حضور علیہ الصلوۃ والسلام پر قرآن مجید کو نازل فرمایاہے ۔ اور اس کے متعلق خالق کائنات نے سورئہ قدر کی شکل میں مکمل ایک سورت کو نازل فرمایا ہے ۔ اور فرمایا گیا ’’کہ قدر کی رات ہزار مہینے کی راتو ں سے بہتر اور افضل ہے‘‘ ۔ اگر ہزار مہینوں کا حساب کیا جائے گا تو تقریباً تراسی (۸۳) سال چار ماہ ہونگے ۔ تو پتہ چلاکہ اگر کوئی شخص ایک شب قدرمیں مکمل خشوع اور خضوع کے ساتھ عبادت و ریاضت کرے گا تو اﷲسبحانہٗ وتعالیٰ اس کو تراسی (۸۳)سال چار ماہ کی عبادت کا ثواب عطا فرمائے گا۔

شب قدر کے کئی فضائل بیان کئے گئے ہیں جن میں سے پہلی فضیلت یہ ہے کہ اس ایک رات میں اعمال خیر اختیار کرنے والوں کو ایک ہزار ماہ سے زیادہ عبادت کرنے کا ثواب عطا کیا جاتا ہے۔ شب قدر کو اﷲسبحانہٗ وتعالیٰ نے ماہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں پوشیدہ رکھا ہے ۔ یعنی ۲۱، ۲۳ ، ۲۵ ، ۲۷اور ۲۹ یہ پانچ طاق راتیں {جن میں سے تین یعنی ۲۱، ۲۳ اور ۲۵ ویں شب تو گزرچکی } ایسی ہیں جس میںشب قدر مخفی یعنی چھپی ہوئی ہیں ۔اب ہم بندگانِ خدا پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ بقیہ ان دو آنے والی طاق راتوں میں خلوصِ نیت کے ساتھ شب قدر کو تلاش کریں، کیونکہ اس سے بڑا فائدہ حاصل ہوگا۔

شب قدر کی علامات میں سے یہ بتلایا گیا ہے کہ اس شب میں نہ گرمی ہوگی اور نہ سردی بلکہ موسم معتدل ہوگا ۔اب رہا بعض حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ شب قدر میں کتوں کے بھوکنے کی آواز بھی نہیںآتی۔ اور سورج بغیر کرنوں کے طلوع ہوگا۔ اور یہ مذکورہ علامتیں ہرکس وناکس کو محسوس نہیں ہونگی بلکہ ان لوگوں کومحسوس ہونگی جو اﷲسبحانہٗ وتعالیٰ کی خلوص نیت کے ساتھ عبادت وریاضت کریگا۔

نکتۂ شب قدر: شب قدر کانکتہ یہ بیان کیاگیاہے جیساکہ حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے فرمایا ’’میں نے طاق عددوں پر تو سا ت سے زیادہ کسی طاق عدد کولائق اعتماد نہیں پایا‘‘ ۔ پھر جب سا ت کے عدد پر غور کیا جائے تو آسمان بھی سات ٭ زمین بھی سات٭ دریا بھی سات ٭ صفاومروہ کے درمیان سعی بھی سات ٭ خانہ کعبہ کا طواف بھی سات ٭ رمئی جمار بھی سات ٭ رات بھی سات ٭ انسان کی تخلیق بھی سات اعضاء سے ٭ انسانی چہرہ میں سات سوراخ ٭ قرآن پاک میں سات منزلیں٭ سورئہ فاتحہ میں سات اٰیات٭ سجدہ بھی سات اعضاء سے ہوتاہے ٭ جہنم کے سات دروازے ٭ اصحاب کہف سات تھے ٭ حضرت ایوب علیہ السلام اپنی آزمائش میں سات سال مبتلا رہے ٭ حضرت ام المؤمنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ میں سات سال کی تھی کہ رسول خدا علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھ سے نکاح فرمایا ٭ قوم عاد سات دن کی لگاتار آندھی سے ہلاک ہوئی ٭ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا طول اس زمانے کے سات گز کے برابر تھا اور آپ کے عصا کا طول بھی سات گز تھا ۔جب یہ ثابت ہوگیا کہ اکثر چیزیں سات ہیں تو اﷲتعالی نے سَلَامٌ ھِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْر {سورۂ قدر} فرماکر بندوں کو آگاہ کردیا کہ شب قدر ستائیسویں شب ہے {اس میں سات کا ہندسہ بھی شامل ہے} اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ شب قدر ستائیس تاریخ کو ہوتی ہے۔

دُعا کے متعلق احادیث شریفہ: ٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اس یقین کے ساتھ اللہ سے دعاء کرو کہ وہ اسے قبول فرمالے گا اور یہ بات اچھی طرح جان لو کہ غافل و بے پروا دل سے کی جانے والی دعاء کو اللہ تبارک و تعالیٰ قبول نہیں فرماتا‘‘۔ {خلاصۂ ترمذی} ٭ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’دعاء تقدیر کو پھیر دیتی ہے اور نیکی عمر میں اضافہ کرتی ہے‘‘ ۔ {خلاصۂ ترمذی} ٭ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعاء کے لئے ہاتھ اٹھاتے تو جب تک دونوں ہاتھ چہرے پر نہ پھیرلیتے انھیں نیچے نہ کرتے‘‘۔ {خلاصۂ ترمذی} ٭ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی دعائیں پسند فرماتے جو جامع ہوں اور باقی کو چھوڑ دیتے تھے ۔ {خلاصۂ ابوداؤد} ٭ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’غیر حاضر شخص کے بارے میں غائبانہ دعاء کو اللہ تعالیٰ بہت جلد قبول فرما لیتا ہے‘‘ ۔ {خلاصۂ ترمذی ، ابوداؤد} ٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’تین دعائیں ایسی ہیں جن کے قبول ہونے میں کوئی شک نہیں، باپ کی دعاء، مسافر کی دعاء ، مظلوم کی دعاء‘‘ ۔ {خلاصۂ ترمذی ، ابن ماجہ} ٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’تین قسم کے لوگوں کی دعائیں رد نہیں ہوتیں، افطار کے وقت روزہ دار کی دعاء ، عادل حاکم کی دعاء ، مظلوم کی دعاء ۔ مظلوم کی دعاء کو اللہ ابر کے اوپر اٹھاتا ہے اور اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’میرے عزت و جلال کی قسم ! میں تمہاری نصرت و اعانت کروں گا ‘‘ ۔ {خلاصۂ ترمذی} ٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’تم میں سے کوئی شخص دعاء کرے تو یہ نہ کہے کہ اے اللہ ! مجھے بخش دے اگر تو چاہے ۔ میرے اوپر رحم فرما اگر تو چاہے ۔ مجھے رزق دے اگر تو چاہے ۔ بلکہ اس کا پورا یقین رکھے کہ وہ جو چاہے کرے گا ، اس پر کوئی جبر کرنے والا نہیں‘‘۔ {خلاصۂ بخاری}

لیلۃ الجائزہ: لیلۃ الجائزہ (یعنی عید کی رات)کہتے ہیں اجرت کی رات کو، اور یہ عیدالفطر کی شب ہوتی ہے یعنی ماہ رمضان کے روزوں کے اختتام پر جوں ہی عیدالفطرکا چاند دکھ جاتا ہے اور جو شب گزرتی ہے اس کو لیلۃ الجائزہ کہتے ہیں۔جوبندہ ماہ رمضان کا حق ادا کرتا ہے وہ چاہتاہے کہ اسے اس ماہ کی محنت اور مشقت کا بدلہ اور اجرت اسے ملے۔ جس طریقہ سے دنیا کا دستو ر ہے کہ جب کوئی آدمی میں محنت ومزدوری کرتا ہے تو اس کے مالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی اجرت اس محنت و مزد وری کرنے والے کا پسینہ سوکھنے سے پہلے پہلے ادا کردی جائے۔ بالکل اسی طرح ایک بندہ ماہ رمضان میں نماز تراویح پڑھا،روزہ رکھا اور دیگرعبادتوں کو اختیار کیاہے تو یہ بھی ایک طرح کی محنت ہے اور اس کابدلہ واجرت ہربندہ طلب کرنا چاہتاہے تو اُسے چاہئے کہ لیلۃ الجائزہ میں بارگاہ رب العالمین میں حاضر ہوجائے اور رات کو خریداری، اور دیگر کام کاج میں گزارنے کے بجائے اپنے مولا سے اور عبادت کے ذریعہ اجرت پانے کی کوشش کریں، اور یہ بھی جان لیجئے کہ رب تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ایسے بندہ کو اجرت سے مالا مال کیا جائے گا۔
اب تمام مسلمانوں اورخاص طور ہم تمام نوجوانونان اسلام پر یہ ذمہ داری ہے کہ آج جمعہ الوداع کے موقع پر اور بقیہ طاق راتوں میں شب قدر کوتلاش کرنے اور لیلۃ الجائزہ کی قدر کی کوشش کریں تاکہ ہماری دنیوی اور اخروی زندگی کامیاب ہوجائے اور ہمارے دلوں میں خوف خدا و محبت رسول صلی اﷲ علیہ وسلم پیدا ہوجائے۔
مولائے حقیقی سے دعاء ہے کہ وہ ہم سب کوایسی متبرک راتوں اور دیگر اوقات میں خشوع وخضوع کے ساتھ عبادت اوردعا کی توفیق عطافرمائے ۔ اٰمین۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT