Saturday , November 18 2017
Home / ہندوستان / شخصی انتقام کیلئے ممبئی پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش

شخصی انتقام کیلئے ممبئی پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش

مسلم نوجوانوں کے خلاف عسکریت پسند تنظیم سے تعلقات کی شکایت جھوٹی ثابت
ممبئی۔/17مارچ، ( سیاست ڈاٹ کام ) گزشتہ چند سال کے دوران انگنت واقعات دیکھے گئے کہ کس طرح مسلم نوجوانوں کو آئی ایس آئی ایس کا ہمدرد اور سرگرم کارکن قرار دیتے ہوئے لوگوں نے شخصی انتقام لیا۔ ریاستی انسداد دہشت گردی دستہ (ATS) اور ممبئی سٹی پولیس کو گزشتہ 8سال کے دوران 300جعلی شکایات بشمول وکھرولی مسجد کے ایک80سالہ امام کے خلاف موصول ہوئی ہیں۔ جس کی تصدیق کے بعد تمام محروسین کو رہا کردیا گیا لیکن کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ تاہم ان مسلم نوجوانوں کے خاندانوں کو سخت آزمائش سے گذرنا پڑا کیونکہ کلین چٹ ملنے تک انہیں کئی ہفتوں تک انتظار کرنا پڑا۔ جوائنٹ پولیس کمشنر لاء اینڈ آرڈ دیوین بھارتی نے بتایا کہ جن لوگوں کے خلاف شکایت کی گئی ہے انہیں پوچھ تاچھ کے بعد چھوڑ دیا گیا کیونکہ بیشتر شکایات بے بنیاد اور جھوٹی ثابت ہوئیں۔ پولیس نے کسی بھی بے گناہ نوجوان کو گرفتار نہیں کیا۔ انہوں نے علاقہ کرلا میں پیش آئے ایک واقعہ سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ ایک کباب پاؤ فروخت نے والے کے خلاف آئی ایس آئی سے ربط ضبط کی شکایت کی گئی جوکہ ایک دکان کے روبرو ٹھیلہ بنڈی پر اپنا کاروبار کرتا تھا

لیکن اس دکاندار کو یہ پسند نہیں تھا اور دکاندار نے کباب پاؤ فروش کرونے والے کے خلاف جھوٹی شکایت درج کروادی کہ اس کے آئی ایس کے کارندوں سے تعلقات ہیں۔ لیکن دکاندار نے سختی کے ساتھ پوچھ تاچھ کرنے پر اصلیت ظاہر کردی۔ پولیس عہدیدار نے بتایا کہ کلیان کے 4نوجوانوں کی عراق روانگی اور آئی ایس سے وابستگی کا انکشاف ہونے کے بعد بعض لوگوں نے عسکریت پسند تنظیم کا استحصال شروع کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم نوجوانوں کو عسکریت پسندی کی سمت مائل ہونے سے روکنے کیلئے پولیس نے بیداری مہم شروع کردی ہے حتیٰ کہ مسلم علماء کے ذریعہ آئی ایس کے خلاف فتویٰ بھی جاری کروایا گیا لیکن بعض شرپسند عناصر شخصی انتقام کیلئے عسکریت پسند تنظیم کا استحصال کررہے ہیں۔ سٹی پولیس کے ترجمان اور ڈی سی پی مسٹر دھنجے کلکرنی نے بتایا کہ جیسے ہی کسی کے خلاف شکایت موصول ہوتی ہے تو پولیس تحقیقات شروع کردیتی ہے اس کا سابقہ پولیس ریکارڈ، کال ڈاٹا ریکارڈ بینک میں معاملتوں، بیرون شہر دوروں کی تفصیلات ان کے دوستوں کی سرگرمیوں کے بارے میں چھان بین کی جاتی ہے۔ بیشتر کیسوں میں مشتبہ افراد کو طلب بھی نہیں کیا جاتا اور اس کا کردار اطمینان بخش ہونے پر کیس بند کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چند ماہ قبل ایک نامعلوم خط انسداد دہشت گرد دستہ کو وصول ہوا جس میں یہ اطلاع دی گئی کہ مسجد وکھرولی کے امام اور ان کے رشتہ دار آئی ایس میں نوجوانوں کو بھرتی کروارہے ہیں، پولیس جب مسجد جاکر تحقیقات شروع کی تو پتہ چلا کہ 80 سالہ امام کی قوت سماعت کمزور ہے اور کسی بھی سوال کا فی الفور جواب دینے سے قاصر ہیں اور یہ امام گزشتہ 20سال سے خدمات انجام دے رہے ہیں

ان کا ریکارڈ بھی پاک و صاف ہے، ان کے فرزند اور دیگر رشتہ داروں کے خلاف الزامات بھی جھوٹے ثابت ہوئے، اور یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ مسجد کی انتظامی کمیٹی میں تنازعات کے باعث امام صاحب کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ تیسرے واقعہ میں ایک نوجوان خلیل احمد کو خبردار کئے جانے کے بعد بھی اپنی معشوقہ سے ملاقات ترک نہیں کی تھی جس پر لڑکی کے رشتہ داروں نے اے ٹی ایس میں خلیل احمد کے خلاف آئی ایس سے تعلقات کی شکایت کی تھی لیکن ایک ماہ کے بعد تحقیقات کے بعد اسے کلین چٹ دے دی گئی۔ علاوہ ازیں کمال نامی نوجوان کی کہانی بھی اسی طرح کی ہے۔ ابتداء میں کمال کے خاندان نے بنگلور کی ایک لڑکی کے رشتہ کو قبول کرلیا لیکن حیدرآباد کے اس رشتہ کو توڑ دیا جس پر برہم ہوکر لڑکی کے خاندان نے  ممبئی کرائم برانچ کو مطلع کیا کہ کمال کے آئی ایس سے تعلقات ہیں جو کہ بعد تحقیقات فرضی ثابت ہوئے۔ انسپکٹر جنرل اے ٹی ایس مسٹر نکیت کوشک نے بتایا کہ شکایت جھوٹی ہو یا سچی پولیس اپنا فریضہ انجام دیتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT