Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / شدید بارش نے کیوبا میں اوباما کا استقبال کیا

شدید بارش نے کیوبا میں اوباما کا استقبال کیا

گذشتہ 88 سال میں دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر، پیالیس آف ریولیوشن میں صدر راول کاسٹرو سے ملاقات
ہوانا ۔ 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بارک اوباما گذشتہ 88 برسوں کے دوران ایسے پہلے امریکی صدر بن گئے ہیں جنہوں نے کیوبا کا دورہ کیا۔ ہوانا کی سرزمین پر قدم رکھنے کا مقصد کیوبا کے ساتھ جاری برسوں پرانی سردجنگ اور مخاصمت کا خاتمہ کرنا ہے۔ کیوبا کی سرزمین پر قدم رکھنے کے بعد انہوں نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے مقامی زبان ’’کیو بولا کیوبا‘‘ تحریر کیا جس کا مطلب ہوتا ہے’’کیا ہورہا ہے؟‘‘ یا ’’کیا چل رہا ہے؟‘‘ ’’ابھی ابھی کیوبا پہنچا ہوں اور اس بات کا خواہاں ہوں کہ کیوبا کے عوام سے راست طور پر کچھ سن سکوں اور انہیں راست طور پر کچھ کہہ سکوں‘‘۔ اوباما جس وقت کیوبا پہنچے اس وقت وہاں شدید بارش ہورہی تھی۔ وہ ایئرفورس ون سے اپنی اہلیہ خاتون اول مشیل اوباما اور دونوں بیٹیوں ساشا اور مالیا کے ساتھ چھتری لیکر طیارہ کی سیڑھیوں پر نمودار ہوئے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ اوباما نہ صرف پہلے عہدہ پر برقرار صدر کی حیثیت سے گذشتہ 88 سالوں میں کیوبا کا سفر کررہے ہیں جبکہ قبل ازیں 1928ء میں صدر کیالوین کولیج نے کیوبا کا دورہ کیا تھا۔ صدر اوباما کا استقبال کیوبا کے وزیرخارجہ یرونو راڈریگر نے کیا۔ اوباما اپنے ساتھ اپنی خصوصی کیڈیلاک کار ’’دی بیسٹ‘‘ بھی ساتھ لائے ہیں اور دونوں لیڈر بعدازاں اس کار میں سوار ہوگئے۔ اپنی میعاد کے آخری سال اوباما نے ہوانا میں واقع امریکی سفارتخانہ کا دورہ بھی کیا جسے عرصہ دراز کے بعد دوبارہ کھولا گیا ہے۔ اوباما صدر کیوبا راول کاسٹرو سے بات چیت کریں گے اور کل امریکہ واپس ہونے سے قبل ایک بیس بال میچ کا مشاہدہ بھی کریں گے۔ ہوانا میں چونکہ شدید بارش ہورہی ہے لہٰذا اس وقت سڑکیں اور دیگر علاقے سنسان نظر آرہے تھے اور ایسا معلوم ہورہا تھا کہ جیسے اوباما کا استقبال کرنے کیلئے وہاں ’’عوامی سطح‘‘ پر کوئی نہیں ہے تاہم بارش کے باوجود کیوبا شہر کی خوبصورتی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی اور وہ ایک دلکش نظارہ پیش کررہا تھا۔ جس وقت اوباما کے ایئرفورس ون ’’نے زمین کی سطح کو چھوا بالکل اسی وقت بارش شروع ہوگئی اور شاید یہی وجہ تھی کہ سڑکیں اور گلیاں سنسان نظر آرہی تھیں۔ تاریخی اولڈ ٹاؤن میں جگہ جگہ خفیہ پولیس کی جمعیت تعینات کی گئی تھی تاکہ وہ صدر اوباما کی گذرگاہ پر نظر رکھ سکیں کیونکہ اوباما کا پہلا توقف اولڈ ٹاؤن میں ہی ہونے والا تھا۔ کئی عمارتوں کی چھتوں پر بھی سیکوریٹی فورسیس کو تعینات کیا گیا تھا۔ اوباما اور راول کاسٹرو کی ملاقات ’’پیالیس آف دی ریولیوشن‘‘ میں طئے ہے جہاں 2008ء میں فیڈل کاسٹرو نے حکومت کی باگ ڈور اپنے بھائی راول کاسٹرو کو سونپ دی تھی۔ فلوریڈا سے کیوبا کا فضائی سفر صرف ایک گھنٹے کا ہے جبکہ 1928ء میں اس وقت کے امریکی صدر کیالوین کولیج کو بذریعہ ٹرین اور بعدازاں بحریہ کے جہاز سے کیوبا پہنچنے میں تین دن لگ گئے تھے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہیکہ امریکی صدر کے دورہ سے کیوبا کی سیاست پر عاجلانہ مثبت اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ دونوں ممالک کے تعلقات کو معمول پر لانا اتنا آسان نہیں ہے بلکہ اس کیلئے کئی سال درکار ہیں۔ انسانی حقوق ارکان کے ساتھ بھی اوباما کی ملاقات ہوگی جہاں ان کا خطاب بھی ہوگا اور جسے ٹی وی پر راست طور پر نشر کیا جائے گا۔ کیوبن نیشنل ٹیم اور میجر لیگ بیس بال کی ٹمپابے ریز کے درمیان بیس بال میچ کا مشاہدہ کے ساتھ ہی اوباما کا دورہ اختتام پذیر ہوجائے گا۔

TOPPOPULARRECENT