Wednesday , December 19 2018

شرابیوں اور فٹ پاتھس پر پیشاب کرنے والوں سے عام شہری پریشان

حیدرآباد ۔ 18 ۔ فروری : ( نمائندہ خصوصی ) : شہر میں آج کل شرابیوں ، شراب خانوں و وائن شاپس سے بعض عام شہری کافی پریشان ہیں ۔ سڑکوں فٹ پاتھوں اور عام مقامات پر نشے میں دھت شرابیوں کی ایسی کثیر تعداد آپ کو ضرور نظر آئے گی جو اپنا ایک ایک قدم بھی بڑی مشکل سے آگے بڑھاتے ہیں ۔ وائن شاپس پر تو کھلے عام شراب فروخت کی جارہی ہے ۔ یہاں تک کہ شہر کے اہ

حیدرآباد ۔ 18 ۔ فروری : ( نمائندہ خصوصی ) : شہر میں آج کل شرابیوں ، شراب خانوں و وائن شاپس سے بعض عام شہری کافی پریشان ہیں ۔ سڑکوں فٹ پاتھوں اور عام مقامات پر نشے میں دھت شرابیوں کی ایسی کثیر تعداد آپ کو ضرور نظر آئے گی جو اپنا ایک ایک قدم بھی بڑی مشکل سے آگے بڑھاتے ہیں ۔ وائن شاپس پر تو کھلے عام شراب فروخت کی جارہی ہے ۔ یہاں تک کہ شہر کے اہم ترین ہاسپٹلوں کے باہر بھی شرابیوں کے لیے نشہ کا سامان فراہم کیا جارہا ہے جس کے نتیجہ میں سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر خواتین کا چلنا پھرنا محال ہوگیا ہے ۔ اسکول ، مندروں ، مسجدوں اور دیگر عبادت گاہوں کے قریب شراب خانوں اور وائن شاپس کھولنے کی اجازت ہی نہیں ہے

اس کے باوجود عبادت گاہوں اور اسکولوں سے قریب بھی وائن شاپس بڑے پیمانے پر شراب فروخت کرتے ہوئے معاشرہ میں بد نظمی کا باعث بن رہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں ہم نے شہر کے اہم ترین مقامات کا دورہ کرتے ہوئے دیکھا کہ شرابیوں کے نتیجہ میں خواتین کو راستے تبدیل کرنے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے ۔ لب سڑک وائن شاپس تو کھلے شراب خانوں میں تبدیل ہوچکے ہیں اگر آپ شہر کا ایک چکر لگائیں گے تو ضرور دیکھیں گے کہ کئی مقامات پر نشے میں دھت لوگ لڑکھڑاتے گرتے پڑتے اپنی منزل کی جانب بڑھ رہے ہوں گے ۔ اس کے علاوہ آپ کی نظریں ان شرابیوں پر بھی ضرور پڑے گی جو حالت مدہوشی میں سڑکوں کے کنارے ، فٹ پاتھوں ، وغیرہ پر اور ٹھہری ہوئی گاڑیوں کے نیچے پڑے ہوئے ہوں گے ۔

یہاں تک کہ آپ کچھ شرابیوں کو کچرا کنڈیوں ( کوڑے دانوں ) کے قریب بھی آرام کرتا ہوا پائیں گے ۔ جہاں تک وائن شاپس کے کھلے باروں میں تبدیل ہونے کا سوال ہے قانون انسداد نشہ بندی کے تحت ایسے وائن شاپس کے خلاف کارروائی کی گنجائش ہے اس کے باوجود حکام اس جانب کوئی توجہ ہی نہیں دیتے ۔ اس عدم توجہ کی وجہ کیا ہے اس پر حکام ہی بہتر جانتے ہیں ۔ عام لوگوں کا یہی کہنا ہے کہ لب سڑک واقع وائن شاپس اور فٹ پاتھوں پر سے گذرنا آج کل بہت مشکل ہوگیا ہے ۔ وائن شاپ کے باہر سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر شرابیوں کی بھیڑ ہوتی ہے جب کہ فٹ پاتھ پر ایسے لوگ بھی دکھائی دیتے ہیں جو وہاں سے گذرنے والوں کا خیال کئے بناء پیشاب کرنے میں کوئی شرم ہی محسوس نہیں کرتے ۔ بعض خواتین نے بتایا کہ محکمہ نشہ بندی ( اکسائز ڈپارٹمنٹ ) اور جی ایچ ایم سی کو ان سنگین مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ ہمارے شہر کو صاف ستھرا شہر ہونے کا جو اعزاز حاصل ہے اس اعزاز سے حیدرآباد محروم ہوجائے گا ۔ ایک اندازہ کے مطابق دونوں شہروں میں 262 تا 300 وائن شاپس ہیں ان میں سے اکثر کے باہر لوگ شراب پیتے دکھائی دیتے ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محکمہ اکسائز اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا کررہا ہے ۔ کچھ عرصہ قبل ایم ایم اے فاروقی ڈپٹی کمشنر اکسائز نے واضح طور پر کہا تھا کہ وائن شاپس کے باہر شراب نوشی کی اجازت نہیں ۔ ہاں اگر کوئی شکایت کرتا ہے تو کارروائی کی جاسکتی ہے ۔

دوسری جانب جسٹس اے لکشمن راؤ جیسی شخصیتوں نے بھی یہ کہتے ہوئے نفاذ قانون کی ایجنسیوں کو خبردار کیا تھا کہ خواتین پر حملوں کے زیادہ تر واقعات شراب نوشی کے باعث ہی پیش آرہے ہیں انہوں نے بالکل سچ ہی کہا کیوں کہ شراب پینے کے بعد انسان انسان کہاں رہتا ہے وہ تو حیوان بن جاتا ہے ۔ اس میں اچھے برے کی تمیز ختم ہوجاتی ہے ۔ محکمہ اکسائز کو چاہئے کہ وہ حیدرآباد و سکندرآباد کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے عوامی شکایات کا جائزہ لے اور ان شراب خانوں کو فوری بند کروائے جو عبادت گاہوں اور تعلیمی اداروں کے قریب قائم کردئیے گئے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT