Sunday , May 27 2018
Home / آپ کے سوال / شراب پینے سے نماز کا قبول نہ ہونا

شراب پینے سے نماز کا قبول نہ ہونا

سوال : شراب پینا حرام ہے ، میں نے سنا کہ جو شخص شراب پیتا ہے اس روز سے چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہیں ہوتی ۔ کیا یہ صحیح ہے ؟ اس کی دلیل بیان کیجئے ؟
محمد وسیم الدین، ورنگل
جواب : شراب کا پینا حرام ہے اور وہ کبیرہ گناہ ہے، اس سے دوری اختیار کرنا اور پرہیز کرنا لازم ہے ۔ ارشاد الٰہی ہے : یایھاالذین آمنو انما القمر والمیسر والأنصاب والأزلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ لعلکم تفلحون انما یرید الشطیان ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر المیسر و یصدکم عن ذکراللہ و عن الصلاۃ فھل انتم منتھون (سورۃ المائدۃ : 91-90 )
ترجمہ : اے ایمان والو ! بیشک شراب اور جوا اور نصب کئے گئے بت اور فال کے تیر (سب ) ناپاک شیطانی کام ہیں، سو تم ان سے بچو تاکہ تم کا میاب ہوجاؤ۔
شیطان یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور کینہ ڈلوادے اور تمہیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے روک دے۔ کیا تم (ان سب باتوں سے) باز آؤگے۔
شرابی کی مذمت میں بہت ساری احادیث وارد ہوئی ہیں۔ منجملہ ان میں ایک یہ بھی ہے : کل مسکر حرام ، وان علی اللہ عھدا لمن یشرب المسکرأن یسقیہ من طینۃ الخبال قالوا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وما طینۃالخبال ؟ قال : عرق اھل النار او عصارۃ اھل النار (اخرجہ مسلم و النسائی)
نشہ آور چیز حرام ہے اور یقیناً اللہ تعالیٰ کے ذمہ عہد ہے کہ وہ شرابی کو ’’طینہ الخبال‘‘ سے سیراب کرے۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’طینۃ الخیال‘‘ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ دوزخیوں کا پسینہ ہے۔
یہ سچ ہے کہ شرابی کی نمازیں چالیس دن تک قبول نہیں ہوتی کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : من شرب الخمر لم تقبل لہ صلاۃ اربعین صباحا فان تاب تاب اللہ علیہ ، فان عادلم یقبل اللہ لہ صلاۃ اربعین صباحا فان تاب تاب اللہ علیہ فان عاد لم یقبل اللہ صلاۃ اربعین صبا حا فان تاب تاب اللہ علیہ فان عاد فی الربعۃ لم یقبل اللہ صلاۃ اربعین صبا حافان تاب لم یتب اللہ علیہ و سیقاہ الہ من نھر الخبال (ترمذی ، ابوداود ، نسائی)
ترجمہ : جس نے شراب پی اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی۔ پس اگر وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے ۔ پھر اگر وہ دوبارہ شراب پیئے تو اس کی نمازیں چالیس دن تک قبول نہیں ہوتی۔ پس اگر وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرماتا ہے پھر شراب پیئے تو اس کی چالیس دن کی نمازیں قبول نہیں ہوتی اور وہ توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ اگر وہ چوتھی دفعہ پھر پیئے تو اس کی نمازیں چالیس دن تک قبول نہیں ہوتی اور اگر وہ توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول بھی نہیں فرماتا اور اس کو ’’نھرالخبال‘‘ سے سیراب کرتا ہے یعنی دوزخیوں کا پحپ ان کوپلایا جاتا ہے۔پس اگر کوئی شراب پی لے تو اس پر لازم ہے کہ وہ صدق دل سے توبہ کرے، اپنے کئے پر نادم و شرمسار ہو اور اللہ سے معافی طلب کرے اور ائندہ اس کا ارتکاب نہ کرے۔
واضح رہے کہ شرابی کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں کی جاتی کا مفہوم یہ ہیکہ نماز ادا کرنے سے نماز کی فرضیت تو ساقط ہوجاتی ہے لیکن اس کو نماز کا ثواب دو چند نہیں ملتا۔ وہ مقبولیت اور رضاء سے محروم رہتا ہے۔ فالاوجہ ان یقال : المراد من عدم القبول عدم تضعیف الاجر لکنہ اذا فعلھا بشروطھا برئت ذمتہ من المطالبۃ بھا و یفوتہ قبول الرضا عنہ (فیض ا لقدیر للمنادر)

سودی لین دین کرنے والے کا کھانا
سوال : کچھ لوگ سود کھاتے ہیں، سود لیتے ہیں اور سود سے قرض لیتے ہیں۔ ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ہم نے سنا کہ ان کے گھر کا کھانا حرام ہے۔
محمد شکیل ، بارکس
جواب : ربوا (سود) نص قطعی سے حرام ہے، اس کا مرتکب گناہ کبیرہ کا مرتکب فاسق و فاجر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یا یھا الذین آمنوا لا تأکلوا الربو اضعا فامضعفہ واتقواللہ لعلکم تفلحون ۔ اے ایمان والو ٗ دوگنا اور چوگنا کر کے سودمت کھایا کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ (سورۃ آل عمران 130/3 ) سورۃ البقرۃ میں ہے : الذین یاکلون الربوا لا یقومون الا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطان من المس ذلک بانھم قالوا انما البیع مثل الربوا و احل اللہ البیع و حرم الربوا … یمحق اللہ الربوا و یربی الصدقت واللہ لا یحب کل کفار اثیم)
ترجمہ : جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (روز قیامت) کھڑے نہیں ہوسکیں گے ، مگر جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان (آسیب) نے چھوکر بدحواس کردیا ہو، یہ اس لئے کہ وہ کہتے تھے کہ تجارت (خرید و فروخت) بھی تو سود کی مانند ہے ، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کیا ہے جس کے اپس اس کے رب کے پاس نصیحت پہنچی اور وہ (سود سے) باز آگیا ۔ پس اس کیلئے وہ ہے جو گزرچکا اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور جس نے پھر (سود) لیا ہو سو ایسے لوگ جہنمی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اللہ سود کو مٹاتا ہے (یعنی سودی مال سے برکت ختم کردیتا ہے) اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر ناشکرے (منکر) گنہگار کو پسند نہیں فرماتا(سوۃ البقرۃ 276/275/2 )
اور جو مال تم سود پر دیتے ہو تاکہ وہ لوگوں کے مالوں میں بڑھتا رہے تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھے گا اور جو مال تم زکوۃ میں دیتے ہو اللہ کی رضا چاہتے ہوئے تو وہی لوگ (اپنا مال اللہ کے پاس) کثرت سے بڑھانے والے ہیں۔ وما آتیتم من ربا لیربوا فی اموال الناس فلو یربوا عنداللہ وما آتیتم من زکوۃ تریدون وجہ اللہ فاولئیک ھم المضعفون (سورۃ الردم 39/30 )
سورۃ بقرہ ہی میں اللہ کا ارشاد ہے : یایھاالذین آمنوا اتقوا اللہ و ذرو مابقی من الربوا ان کنتم مومنین فان لم تفعلوا فاذا نوا بحرب من اللہ و رسولہ وان تبتم فلکم رؤ وس اموالکم لا تظلمون ولا تظلمون۔اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ بھی سود میں سے باقی رہ گیا ہے چھوڑدو اگر تم ایمان رکھتے ہو۔
پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ پر خبردار ہوجاؤ اور اگر تم توبہ کرلو تو تمہارے لئے تمہارے اصل سرمایہ (جائز) ہے، نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے(سورۃ البقرۃ 278-277/2 )
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم سات ہلاک کرنے والے گناہ سے بچو۔ صحابہ نے عرض کیا ! وہ کیا ہیں ؟ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ، جادو قتل اور سود کھانا … الیٰ آخر الحدیث)
سود لینا اور دینا دونوں گناہ ہیں، اس سے صدقہ بھی کرے تو قبول نہیں ہوتا، اس کی وجہ سے عمر اور کسب معاش سے برکت ختم ہوجاتی ہے ۔ دل سخت ہوجاتا ہے ۔ سودی معاملہ کرنے والا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت کا حقدار ہوتا ہے ۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے : لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آ کل الربوا و موکلہ و کاتبہ و شاھدیہ و قال ھم سواء (الحدیث)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانیوالے ، کھلانے والے ، لکھنے والے اوراس کے گواہوں پر لعنت بھیجی ہے اور فرمایا کہ وہ سب برابر ہیں۔ اس کی وجہ سے خاتمہ خراب ہوتا ہے اور وہ شخص دوزخ کا مستحق ہوجاتا ہے ۔
فقہاء نے صراحت کی ہے کہ جس کی بالکلیہ سود کی آمدنی ہو تو اس کی دعوت میں قطعاً نہیں جانا چاہئے اور اگر اس کے حلال ذرائع آمدنی بھی ہوں تو اس کی دعوت قبول کی جاسکتی ہے ۔ مگر احتیاط کا تقاضہ ہے کہ اس کی دعوت کا کھانا نہ کھایا جائے۔

کتوں کی تجارت
سوال : کتوں کی خرید و فروخت آج بہت عام ہے۔بعض کتے چھوٹے قد کے ہوتے ہیں لیکن خوشنما و خوش نظر ہوتے ہیں۔ کئی لوگ ایسے کتوں کو اپنے گھر میں رکھتے ہیں اور پالتے ہیں۔ وہ بہت قیمتی ہوتے ہیں ۔ اس کی تجارت میں بہت فوائد ہیں۔ شرعی نقطہ نظر سے ایسے کتے پالنا اور ان کی تجارت کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟
عبدالقدوس،ملے پلی
جواب : کتا بالاتفاق ناپاک و نجس ہے۔ اس کا خریدنا ، بیچنا، شوقیہ پالنا ، ناجائز ہے۔ ہاں اگر چوروں سے حفاظت مقصود ہو اور کھیتی اور مویشی جانوروں کی صیانت یا شکار کی غرض سے رکھا جائے تو شرعاً جائز ہے۔ عالمگیری ج : 5 ص : 361 میں ہے: وفی الاجناس لا ینبغی ان یتخد کلبا الا ان یخاف من اللصوص … و یجب ان یعلم بان اقتناء الکلب لاجل الحرس جائز شرعاً و کذلک اقتناء ہ للا صطیاد مباح و کذلک اقتناء ہ لحفظ الزرع والماشیۃ جائز ، کذا فی الذخیرۃ۔
سوال میں صراحت کردہ کتے سے چونکہ حفاظت و صیانت اور شکار مقصود نہیں ہوتا بلکہ اس کو محض شوقیہ طور پر پالا جاتا ہے اس لئے اس کی تجارت شرعاً درست نہیں۔

بہنوائی سے پردہ
سوال : زیداپنی بیوی کو اس کے بہنوائی سے اس کے بعض ناروا اخلاق و عادات کی بناء پر دہ کروانا چاہتا ہے اور ان کے گھر بھی لے جانا نہیں چاہتا۔ خاندان والے والد و والدہ و دیگر افراد دباؤ ڈال رہے ہیں کہ بہن کے گھر اس کو روانہ کرتے رہیں۔ ان حالات میں کیا ان کو ان کی بہن کے گھر نہ جانے دیں تو کیا یہ درست عمل ہے یا نہیں ؟
محمد برہان، شاہین نگر
جواب : بہنوائی شریعت میں غیر محرم ہے اس سے پردہ شرعاً لازم ہے ۔ بہن کے گھر سال میں ایک مرتبہ جانے کی اجازت ہے۔ بشرطیکہ وہاں اس کے بہنوائی کی وجہ کوئی خطرہ نہ ہو ۔ بہن اگر اپنی بہن کے گھر میں آکر ملاقات کرے تو اس کی شرعاً اجازت ہے۔

سردی کی بناء ، تیمم کرنا
سوال : میری عمر ساٹھ (70) سال ہے، میں نماز کا بچپن سے پابند ہوں۔ حالیہ عرصہ میں بیمار ہوا تھا، الحمد للہ اب بہتر ہوں، بسا اوقات فجر کے وقت سردی محسوس ہوتی ہے تو کیا ایسے وقت میں مجھے تیمم کی اجازت مل سکتی ہے یا مجھے وضو کرنا چا ہئے۔
مومن بیگ، ملک پیٹ
جواب : سردی کی وجہ سے تمام ائمہ کے اجماع کے مطابق تیمم کرنا صحیح نہیں، البتہ اتنی سخت سردی ہو کہ جس کی وجہ سے عضو کے تلف ہوجانے کا اندیشہ ہو یا بیماری کے بڑھنے کا خدشہ ہو تو ایسی صورت میں تیمم کرنا درست ہے۔ نفع المفتی والسائل ص : 14 میں ہے : اذا الم تخف فوات العضو اوزیادۃ المرض وغیرہ من الاعذار المرخصۃ للتیمم لا یجوز التیمم بمجرد شدۃ البرد بالا جماع من خزانۃ الروایۃ عن الغیاثیۃ۔
لہذا حسب صراحت صدر آپ عمل کریں۔ تاہم سردی کے موقع پر آپ پانی گرم کر کے وضو کرلیا کریں تو بہتر ہے۔

TOPPOPULARRECENT