Wednesday , December 13 2017
Home / ہندوستان / شرد یادو کی یونیورسٹی طلبہ پر پولیس تشدد کی مذمت

شرد یادو کی یونیورسٹی طلبہ پر پولیس تشدد کی مذمت

لڑکیوں کو چھیڑنے کے واقعات میں اضافہ کے خلاف احتجاج‘ طلبہ پر پولیس لاٹھی چارج
نئی دہلی ۔ 24ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) جنتادل ( یونائٹیڈ) کے سینئر قائد شرد یادو نے آج مبینہ پولیس کارروائی کی جو بنارس ہندو یونیورسٹی کے احتجاجی طلبہ کے خلاف کی گئی تھی مذمت کی ۔ یہ طلبہ یونیورسٹی کے احاطہ میں لڑکیوں کو چھیڑنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف احتجاج کررہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اس مسئلہ کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جانا چاہیئے ۔ طلبہ کے گروپ نے یونیورسٹی کے اہم باب الداخلہ پر دھرنا دیا جب کہ شعبہ آرٹس کی ایک خاتون طالبہ کو مبینہ طور پر تین موٹر سیکل سوار مردوں نے یونیورسٹی کے احاطہ میں ہراساں کیا تھا ۔ احتجاجی طلبہ پر مبینہ طور پر کل رات پولیس نے لاٹھی چارج کیا تھا ۔ جنتادل ( یو) کے سینئر قائد شرد یادو نے کہا کہ ایسا بنارس ہندو یونیورسٹی میں قبل ازیں کبھی نہیں ہوا تھا ۔ یہ آزادی تقریر اور آزادی اظہار کی صریح خلاف ورزی ہے ‘ حالانکہ ان دونوں آزادیوں کی دستور ہند میں ضمانت دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس مسئلہ کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے ‘ جمہوریت میں عدم رواداری پر حکومت کو معذرت خواہی کرنی چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندو یونیورسٹی کے طلبہ نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں یونیورسٹی کے احاطہ میں باقاعدہ طور پر لڑکیوں کو چھیڑنے کے واقعات کا سامنا ہے اور یونیورسٹی کا انتظامیہ اشرار کو روکنے کیلئے کوئی کارروائی نہیں کررہا ہے ۔
تاہم بنارس ہندو یونیورسٹی نے کہا کہ طلبہ کا یہ احتجاج سرکاری تحریک پر مبنی ہے اور اس کا مقصد یونیورسٹی کی شبیہہ کو مسخ کرنا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT