Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / شرعی امور میں حکومت کی دخل اندازی ناقابل قبول،صدر مجلس علماء دکن کا بیان

شرعی امور میں حکومت کی دخل اندازی ناقابل قبول،صدر مجلس علماء دکن کا بیان

حیدرآباد ۔ /13 اکٹوبر (پریس نوٹ) صدر مجلس علماء دکن کی جانب سے حسب ذیل مشترکہ احتجاجی بیان بغرض اشاعت جاری کیا گیا ہے ۔ بیان جاری کرنے والوں میں حضرت مولانا سید محمد قبول بادشاہ قادری الشطاری معتمد صدر مجلس علماء دکن ، حضرت مولانا ڈاکٹر سید محمد گیسودراز خسرو حسینی ، سجادہ نشین بارگاہ سیدنا بندہ نوازؒ ، حضرت مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری ،حضرت مولانا مفتی محمد عظیم الدین ، حضرت مولانا مفتی خلیل احمد ،حضرت مولانا سید محمد صدیق حسینی عارف ، حضرت مولانا سید کاظم پاشاہ قادری الموسوی ، حضرت مولانا محمد خواجہ شریف ، حضرت مولانا ڈاکٹر سید حمیدالدین شرفی ، حضرت مولانا سید حسن ابراہیم حسینی سجاد پاشاہ قادری ، حضرت مولانا سید محمود باشاہ قادری زرین کلاہ ، حضرت مولانا سید محمود صفی اللہ وقار پاشاہ قادری ، حضرت مولانا سید اولیاء حسینی مرتضی پاشاہ قادری ، حضرت مولانا سید حامد محمد قادری افتخار پاشاہ ، معزز اراکین صدر مجلس علماء دکن شامل ہیں ۔ اخبارات کے ذریعہ یہ خبر شائع ہوئی کہ حکومت ہند حج کی نئی پالیسی وضع کررہی ہے حال ہی میں اس کا مسودہ وزیر متعلقہ کوپیش کردیا گیا ۔ اس میں یہ تجویز ہے کہ 45 سال کی عمر والی عورتوں کوبغیر محرم سفر حج کی اجازت دی جائے گی ۔ اسلام میں جو عبادتیں فرض کی گیئں ان میں حج بھی شامل ہے ۔ ہر عبادت کے طور طریق اصول و احکام شریعت اسلامیہ میں مدون کردیئے گئے ہیں ۔ اب مزید کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ۔ اگر عورت کے پاس محرم نہ ہو تو اسلام میں اس پر حج واجب نہیں کیا ۔ اسلام جس پر حج واجب نہیں کرتا اگر وہ حج نہ کرے تو اس کا نہ تو کوئی گناہ اور نہ کوئی مواخذہ۔ اسلام کی اس سہولت کے باوجود غیر ضروری طور پر حکومت ہند کا اس میں مداخلت کرتے ہوئے 45 سال کی عمر کی قید لگاتے ہوئے حج کی اجازت دینا بے معنی ہے ۔ حکومت ہند کو عبادات میں اور دیگر شرعی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہئیے ۔ احادیث صحیحہ سے ثابت شدہ چیز کے خلاف کوئی طریقہ اختیار کرنا یہ شریعت میں مداخلت ہے اور عبادات میں اپنی مرضی کو مسلط کرنا ہے ۔ جس کو کوئی بھی مسلمان قبول نہیں کرسکتا ۔ حکومت ہند کو چاہئیے کہ حاجیوں کی سہولت کی طرف توجہ کرے ۔ خواہ آمد و رفت میں ہو یا دوران حج و زیارت ، وہاں کے قیام سے متعلق ہو ۔ اسی طرح و دیگر سہولتیں جو ممکن ہیں وہ فراہم کی جائیں ۔ مذہبی معاملات میں دخل اندازی کے بجائے انتظامی امور کی طرف توجہ کرنا زیادہ مناسب ہوگا ۔ اسی لئے صدر مجلس علماء دکن حکومت ہند سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بغیر محرم عورت کو حج کی اجازت دینے کے مسئلہ پر خلاف شریعت قدم اٹھانے اور انتظامی امور کی طرف توجہ دیں ۔ کیونکہ اب تک حاجی کو جو سبسیڈی دی جارہی تھی وہ ہر سال بتدریج کم کی جارہی ہے ۔ اس کا متبادل تلاش کیا جائے تاکہ حاجی اپنے اہل خاندان کے ساتھ حج کرنے میں جو زیادہ زیر بار ہوتا ہے اس میں اس کو سہولت حاصل ہو ۔ امید کہ حکومت ہند صدر مجلس علماء دکن کے اس مطالبہ کو بھی قبول کرتے ہوئے مشیت اقدام کرے گی اور مسلمانوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ احکام شریعت پر مکمل عمل پیرا ہوں اور کسی بھی غیر شرعی چیز کو قبول نہ کرے ۔

TOPPOPULARRECENT