Sunday , December 17 2017
Home / مضامین / شرعی بینک کاری … آزمانے کا وقت آچکا!

شرعی بینک کاری … آزمانے کا وقت آچکا!

نوٹ بندی کے تناظر میں مسلم برادری کو جس مشکل کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس سے شریعت کی تعمیل کرنے والی بینک کاری کے اداروں اور اسکیمات کے لئے مطالبات بڑھنے لگے ہیں۔
غریب اور متوسط طبقہ کے افراد چاہے اُن کا تعلق کسی بھی ذات، طبقہ اور برادری سے ہو، نریندر مودی حکومت کے نوٹ بندی فیصلے سے بڑے متاثر ہوئے ہیں، لیکن مسلم کمیونٹی پر سب سے زیادہ اثر پڑا۔ اس کی بڑی وجہ یہ برادری کی بینک کاری سرگرمیوں میں کم شرکت، تشویشناک غربت، اور خواندگی کی کم سطحیں ہے۔ چنانچہ قیاس کے عین مطابق نوٹ بندی کے تلخ تجربے نے آبادی کے اس بڑے گوشے کے لئے شریعت سے مطابقت رکھنے والے بینک کاری ادارے تشکیل دینے کے مطالبے میں شدت پیدا کردی ہے۔
ٹاملناڈو میں ضلع ویلور کے چند آزمائشی معاملے مثال کے طور پر پیش کئے جارہے ہیں۔ یہ انڈین سنٹر فار اسلامک فینانس کی جانب سے کیا گیا، جو شرعی بینک کاری اداروں کے قیام کا مطالبہ کرنے میں پیش پیش رہنے والی تنظیم ہے۔ 65 سالہ قدوس جو ویلور ٹاؤن کے قلعہ والے علاقے کے مکانات سے اسکراپ والی پُرانی اشیاء خرید کر کچھ نفع یا کمیشن کی خاطر تاجرین کو بیچ دیتا ہے، ان کی روزانہ کی آمدنی 400-500 روپئے سے گھٹ کر 20-30 روپئے ہوگئی ہے۔ قریبی آرکٹ ٹاؤن کی کستوری مارکیٹ کا عرفان (40 سال) جو میوے اور ترکاریاں کچھ کمیشن پانے کے لئے فروخت کرتا ہے، اس کی روزانہ کی آمدنی بھی معمولی 50-60 روپئے فی یوم ہوچلی ہے۔ اسی ضلع کے رانی پیٹ ٹاؤن کا بکرقصاب اقبال (45 سال) نے بھی دیکھا کہ نوٹ بندی کے پہلے ہفتے میں اس کی روزانہ کی کمائی ہَوا ہوگئی۔ بعد والے ہفتوں میں آمدنی چند سو ہوئی لیکن خود وہ اور اس کے گاہک اُدھاری پر مجبور ہوگئے تھے۔ اور لوگوں کی طرح اقبال بھی اپنی فیملی کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے جدوجہد سے دوچار ہے۔ ایک مسلم خاتون (60 سال) جو تنہا ہے اور جس کا گزارہ سرکاری وظیفہ پر ہے ، اسے نوٹ بندی کے پہلے ہفتے میں ہر روز بینک کی قطار میں ٹھہرنا پڑا تاکہ اپنا معمولی رقم والا پنشن لے سکے لیکن روز قطار میں ٹھہرنا بھی کچھ کام نہ آیا۔ اسے دوسرے ہفتے میں ہی کچھ رقم حاصل ہوپائی۔
اس سروے میں بنارسی ساڑیاں بنانے والے وارانسی کے لوگوں، مرادآباد میں پیتل اور فیروزآباد میں شیشہ کی صنعت والوں، علی گڑھ کے قفل سازوں اور لکھنو میں چکن اور زردوزی کا ہنر رکھنے والے ورکرز کو بھی شامل کیا گیا۔ ان سب کی آمدنیاں لگ بھگ صفر ہوگئیں اور ان کی بچتیں جو انھوں نے زیادہ تر 500 روپئے اور 1,000 روپئے کی کرنسی نوٹوں کی شکل میں مکانوں میں رکھے تھے، یکایک غیرکارکرد ہوگئی۔
مسلمانوں سے جُڑے مسائل پر تحقیق کرنے والے شفیق رحمن کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے زیادہ متاثر ہونے کی وجوہات میں شریعت نمایاں ہے ، جیسا کہ کئی لوگ بینک کھاتے نہیں رکھتے ہیں کیونکہ اسلام ، بچتوں پر سود حاصل کرنے سے منع کرتا ہے۔ صرف 63 فی صد مسلمانوں کے بینک کھاتے ہیں، جس کے مقابل قومی اوسط 78 فی صد ہے اور پوسٹ آفس اکاؤنٹس کے معاملے میں بھی مسلمان قومی اوسط 14 فی صد کے برخلاف 9 فی صد کے ساتھ پیچھے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ 37 فی صد مسلم آبادی بینکنگ سسٹم سے دور ہے اور نوٹ بندی نے انھیں یکایک حیرانی و پریشانی میں مبتلا کردیا۔
شفیق رحمن کے مطابق مسلمانوں کو اپنی خواندگی کی سطح (مسلمانوں کی شرح خواندگی 69 فی صد اور قومی اوسط 73 فی صد ہے) کے ساتھ ساتھ کم آمدنیوں کی وجہ سے بھی زیادہ متاثر ہونا پڑا ہے۔ 63 فی صد مسلمانوں کی کمائی 1.20 لاکھ روپئے سالانہ ہے اور صرف 6 فی صد لوگ ہی 3 لاکھ یا زائد کماتے ہیں۔ نوٹ بندی کے پیش نظر نومبر میں 55 اموات میں سے 12 مسلم کمیونٹی میں ہوئیں۔ تحقیقاتی جائزے کے مطابق یہ انکشاف بھی ہوا کہ مسلمان زیادہ تر چھوٹے پیمانے کی تجارتی سرگرمیوں میں مشغول یا خودروزگار سے جُڑے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق غیرمنظم شعبے سے ہے جہاں ان کی آمدنیوں کا کوئی حساب یا تنقیح نہیں ہوتی، اور اسی لئے بینکنگ سرگرمیوں میں ان کی کم شرکت ہے۔ اس پس منظر کے مجموعی نتیجے میں یہ لوگوں کو نوٹ بندی کے تناظر میں بڑی کاری ضرب کا سامنا ہوا۔
جنرل سکریٹری انڈین سنٹر فار اسلامک فینانس اور انڈیا میں اسلامی بینک کاری سے متعلق کمیٹی کے کنوینر ایچ عبدالرقیب کا کہنا ہے کہ عملاً وزیراعظم مودی نے اسلامک بینکنگ کے مسئلے کو پھر سے چھیڑدیا ہے۔ ’’اگر وزیراعظم واقعی ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کی اپنی سعی میں نقدی سے عاری (کیشلس) معیشت کے ذریعے اپنے ’ڈیجیٹل انڈیا‘ ویژن کو شرمندۂ تعبیر بنانے میں سنجیدہ ہوں تو انھیں اس ملک میں مسلمانوں کی زبوں حالی پر توجہ دیتے ہوئے اس تعلق سے کچھ کرنا چاہئے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ اسلامک بینکنگ کو غلط سمجھا گیا کہ یہ صرف مسلمانوں کے لئے ہے اور اسی لئے بعض گوشے مخالف ہیں۔ یہ سرمایہ مشغول کرنے کا واجبی طریقہ ہے ، جس میں دنیا بھر کے ملکوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ’’برطانیہ، ہانگ کانگ، سنگاپور اور فرانس نے اپنے بینکنگ سسٹم میں اسلامی بینک کاری کو قبول کیا ہے۔ انڈیا کیوں ایسا نہیں کرسکتا ہے؟‘‘ ان کا استفسار ہے کہ جب شریعت کی تعمیل والے میوچول فنڈز اور اسٹاکس پر ہندوستان میں عمل ہورہا ہے تو یہ اَمر ناقابل توضیح ہے کہ کیوں اس طرح گنجائش حکومت بینکنگ سسٹم میں فراہم نہیں کرسکتی، جس سے مسلمان اصل دھارے والے بینک کاری نظام کا حصہ بن سکتے ہیں۔
’’شریعت کی تعمیل کا سادہ مطلب سود سے پاک سرمایہ کاری ہے؛ نیز یہ رقم ایسے اسٹاکس یا فنڈز میں مشغول نہ کی جائے جو تمباکو، الکحل یا جوے (گیمبلنگ) سے تعلق رکھتے ہوں۔ یہ بس کاروبار اور لین دین کا ایک اور طریقہ ہے، اور اس عمل کو کسی کمیونٹی سے منسوب کردینا درست نہیں ہے۔‘‘درحقیقت عبدالرقیب کی تنظیم کی پُراستقلال مہم اور مودی کے اصرار برائے اقتصادی شمولیت کے سبب ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے جولائی 2015ء میں اس تعلق سے ایک کمیٹی تشکیل دی، جس کی صدارت اُس وقت کے گورنر آر بی آئی رگھورام راجن نے کی تھی۔ اس کمیٹی نے 28 ڈسمبر 2015ء کو حکومت کو پیش کردہ اپنی رپورٹ میں واضح طور پر بیان کیا کہ ’’مذہبی اعتقادوں کی اساس پر عدم شمولیت کو معمول کے بینکوں میں علحدہ گوشہ کے ذریعے سود سے پاک سادہ سے فینانشل پراڈکٹس پیش کرتے ہوئے دور کیا جاسکتا ہے‘‘۔
سود (interest) سے پاک بینک کاری کا خاکہ کھینچتے ہوئے اس رپورٹ میں وضاحت کی گئی : ’’سود سے پاک بینکنگ اور فینانس میں مرکزی خیال ہے انصاف، جسے بنیادی طور پر جوکھم کی تقسیم کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔ تمام متعلقین کو نفع اور نقصان بانٹ لینا پڑتا ہے، سود عائد کرنا ممنوع ہے … جو سود سے پاک اقتصادی سرگرمیوں کے لئے سختی سے لاگو واجبی سرمایہ کاری کا ضابطہ ہے۔‘‘ اس رپورٹ نے اس قسم کی مالی سرگرمی کے لئے بطور تجویز نو فینانشل پراڈکٹس کی جامع فہرست پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی اقتصادی سرگرمی نے دنیا کے دیگر حصوں بشمول بعض ایشیائی ملکوں میں رفتار پکڑلی ہے، لیکن انڈیا میں دلچسپی کے اظہار میں پتہ نہیں کیوںسردمہری سے کام لیا گیا ہے۔ چنانچہ نتیجہ یہ ہے کہ سماج کے ایک بڑے گوشے کے لئے مناسب بینکنگ پراڈکٹس کی عدم دستیابی ہے اور یہ برادری مذہبی وجوہات کی بناء بینک خدمات تک رسائی سے بدستور قاصر ہے اور اس طرح اقتصادی عدم شمولیت کا سامنا کررہی ہے۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ انڈیا میں کمرشیل بینکوں کو سود سے پاک خصوصی گنجائشیں شروع کرنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے جہاں سادہ پراڈکٹس پیش کئے جائیں جیسے ڈیمانڈ ڈپازٹس، وغیرہ۔ اس غیرمبہم سفارش اور بعد میں نقدی سے عاری معیشت کی سمت اقدام کے تناظر میں، ہوسکتا ہے وزیراعظم اس خیال پر واپس ہوتے ہوئے بعض اقدامات کریں گے اور اپنے سیاسی نظام کے فرقہ پرست عناصر کے دباؤ کا شکار نہیں ہوں گے، جس سے ماضی میں وہ متاثر ہوئے تھے۔
شریعت کے مطابق میوچول فنڈ
ڈسمبر 2014ء میں نریندر مودی زیرقیادت نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) حکومت نے روایت شکن فیصلہ میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) میں ’’اسلامک بینکنگ وِنڈو‘‘ شروع کرائی۔ نومبر 2014ء میں حکومت اعلان کرچکی تھی کہ شریعت سے مطابقت والے میوچول فنڈ ، ایس بی آئی میوچول فنڈ کے ذریعے دستیاب کرائے جائیں گے۔ Shariah Equity Fund کے نام سے بلاحد والے یہ حصص فنڈ کی پیشکش یکم ڈسمبر 2014ء کو شروع اور 15 ڈسمبر 2014ء کو بند ہونے والی تھی۔ یہ ایس بی آئی اور AMUNDI کے درمیان جوائنٹ وینچر ہونے والا تھا۔ لیکن بعض قائدین جیسے سبرامنیم سوامی نے اس کی مخالفت کی، اور اس پہل کو روک دیا گیا۔ سبرامنیم سوامی نے وزیراعظم کو ایک مکتوب تحریر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس خیال کو فوری ترک کردیا جائے۔ اس اقدام کی مخالفت اور رگھورام راجن پر کھلے طور لفظی حملے کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) لیڈر نے کہا کہ شریعت کی تعمیل والا اقتصادی ادارہ ’’سیاسی اور معاشی طور پر اس ملک کے لئے تباہ کن‘‘ رہے گا۔ سوامی نے وزیراعظم سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے بھروسہ ہے ، آپ یقینی بنائیں گے کہ مغربی ایشیا سے مشکوک فنڈز شریعت سے مطابقت والے اقتصادی اداروں کے قانونی حیثیت کے حامل مذہبی ذرائع سے ہمارے ملک میں داخل نہ ہونے پائیں۔ ‘‘ اس مکتوب کے بعد ایس بی آئی میوچول فنڈ نے یہ فنڈ آفر سے دستبرداری اختیار کرلی۔ بڑے روزناموں میں نمایاں اشتہارات دیتے ہوئے اس نے اعلان کیا کہ ’’ایس بی آئی شرعیہ اِکویٹی فنڈ کے نئے فنڈ آفر کی شروعات کو موخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘‘۔ کوئی وجوہات نہیں بتائی گئیں، کوئی وضاحتیں پیش نہیں کی گئیں۔
عبدالرقیب کو امید ہے وزیراعظم فرقہ واری ذہنیتوں سے اوپر اُٹھ کر کام کرتے ہوئے حقیقی معنوں میں تمام طبقات کی اقتصادی شمولیت کا موجب بننے والے اقدامات کریں گے۔ ’’اگر اس ملک میں شریعت سے مطابقت والے حصص ہوسکتے ہیں جو ریلائنس اور ٹاٹا جیسی کمپنیوں کے پاس ہیں، اگر آئی سی آئی سی آئی بینک اور کوٹک خلیج میں اسلامک بینکنگ چلاسکتے ہیں تو پھر ہم بھارت میں اسلامی بینک کاری کیونکر نہیں کرسکتے؟‘‘
انھوں نے بتایا کہ بامبے اسٹاک اکسچینج (BSE) کی فہرست میں شامل 6,000 کمپنیوں میں سے لگ بھگ 4,200 شریعت کی تعمیل والی ہیں، جن کا تعلق زیادہ تر سافٹ ویئر، فارماسیوٹیکل اور آٹوموبائل والے اداروں سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ بی ایس ای کا شریعت کی تعمیل والی کمپنیوں کا اشاریہ ’’BSE TASIS Sharia 50 Index‘‘ ہے جس میں Reliance Ind، بھارتی ایئرٹیل اور Tata Tele جیسی کمپنیاں شامل ہیں۔اسلامک بینکنگ ایسا آئیڈیا ہے جسے اختیار کرنے کا وقت آچکا ہے۔ اخلاقی اعتبار سے واجبی مالیاتی سرگرمیاں ایسا خیال ہے جس کا اقرار تو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو تک ہے۔
(بشکریہ ’فرنٹ لائن‘)

TOPPOPULARRECENT