Thursday , April 26 2018
Home / ہندوستان / شرعی میچول فنڈ کی ہندوستان میں مقبولیت میں اضافہ

شرعی میچول فنڈ کی ہندوستان میں مقبولیت میں اضافہ

 

نئی دہلی ۔ 19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اسلامی قانون عملی مسلمانوں کو درست طرزحیات کے تفصیلی رہنمایانہ خطوط فراہم کرتا ہے جن سے عوام کو مدد ملتی ہیکہ مختلف حلال اور حرام چیزوں میں فرق کرسکیں۔ یہ رہنمایانہ خطوط سرمایہ کاری کے شعبہ میں بھی رہبری کرتی ہیں اور ربا یا مقررہ نفع اسلام میں حرام ہے۔ اس لئے مقررہ منافع کیلئے سرمایہ کاری نہیں کی جاسکتی اس میں وہ تمام سیونگ بینک کھاتے، فکسڈ ڈپازٹ، پوسٹل بچتیں، باونڈز، ڈیبینچرس وغیرہ شامل ہیں۔ شرح کی تعمیل یا حلال سرمایہ کاری ایک ایسا نظریہ ہے جو 1990ء کی دہائی کے اواخر میں ہندوستان میں پیش کیا گیا۔ تاہم اس طریقہ سے سرمایہ کاری محدود تھی جس کے بارے میں شعور کی بیداری بہت کم تھی۔ حالیہ برسوں میں شریعت کی تعمیل میں سرمایہ کاری ملک کے تمام سرمایہ کاروں میں زیادہ مقبولیت حاصل کرتی جارہی ہے۔ اس کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہورہا ہے۔ سرمایہ کاری کے ماحولیاتی نظام میں بہتری اور پختگی پیدا ہورہی ہے۔ شعور کی بیداری بہتر ہورہی ہے اور پورے ملک میں خاص طور پر بڑے شہروں میں شریعت کی تعمیل کے ساتھ میچول فنڈس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس سے دولت میں اضافہ کا موقع ملتا ہے جو مذہبی عقائد کے مطابق ہوتی ہے اور بہترین بات یہ ہیکہ یہ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے۔ شریعت فنڈ میں دیگر برادریاں بھی سرمایہ کاری کررہی ہیں۔ شرح کی تعمیل کے ساتھ میچول فنڈ بہترین راستہ ہے۔ ان سے اس بات کا تیقن حاصل ہوتا ہیکہ سرمایہ کاریاں شرعی قانون کے مطابق اور اسلامی فینانس کے اصولوں کے مطابق تمام ضروریات کی تکمیل کرتی ہیں۔ شریعت کے مطابق منافع اور نقصان کے امکانات مساوی ہونے چاہئیں۔ اس سے حصص بازاروں میں سرمایہ کاری کا جواز پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ سرمایہ کاری کے تناسب میں اضافہ ہوتا جارہا ہے تاہم حصص میں سرمایہ کاری کا ایک عام سرمایہ کار کیلئے ایک چیلنج سے کم نہیں کیونکہ آمدنی سرمایہ کاری کے تناسب سے ہوتی ہے۔ تاہم حصص میں سرمایہ کاری کے ذریعہ ایک عام سرمایہ کار یہ نہیں جانتا کہ کونسی کمپنی میں سرمایہ کاری بہتر ہوگی اور کونسی کمپنی کی کارروائیاں کس نوعیت کی ہیں۔ اس لئے قرآن اور حدیث کی تعمیل اسی صورت میں ممکن ہے جبکہ مکمل معلومات حاصل کی جائیں۔ شریعت کی تعمیل کرنے والی اسٹاک ایکسچینجس کی فہرست نے مثال کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہیں۔ بعض فہرستیں بی ایس ای سنسیکس، این ایس ای نٹی یا بی ایس ای 500 یا این ایس ای 500 کا چربہ ہوتی ہیں۔ تاہم بعض فہرستیں خاص طو رپر کمپنیوں کے حصص پر مشتمل ہوتی ہیں جو شریعت کی تعمیل کرتی ہیں اور ان کی جانچ کا ایک طریقہ کار موجود ہے۔ مثال کے طور پر نٹی شریعت 25 کے ذخائر بزنس اور فینانس کیلئے جانچ کے عمل سے گذرتے ہیں۔ بزنس کی جانچ میں منافع کی کمائی کی جانچ بھی شامل ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں اس سے تشدد، فحاکی اور تباہ کن ماحول باہر رکھے جاتے ہیں۔ معاشی جانچ کیلئے ایک کمیٹی قائم کی جاتی ہے جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ کمپنی کے کاروبار میں سود پر مبنی قرض یا منافع اعظم ترین حد کے اندر ہو جو شریعت کے علماء نے طئے کی ہے۔ چند شریعت کی تعمیل کرنے والے میچول فنڈ اسکیمیں ہندوستان میں بھی جاری ہیں جیسے کہ ٹاٹا اتھیکل فنڈ یہ سخت اسلامی سرمایہ کی قواعد کی پابندی کرتا ہے۔ قدر اور فروغ پر مبنی کمپنیاں شریعت کی تعمیل کرنے والے لوگوں کی ملکیت ہوتے ہیں۔ یہ فنڈس ایسی کسی کمپنی کو اپنی فہرست میں شامل نہیں کرتے جو تمباکو، شراب یا دیگر حرام مصنوعات تیار کرتی ہوں۔ اس کے علاوہ جن کمپنیوں کا اعلیٰ سطحی اثرورسوخ ہوتا ہے ان سے گریز کیا جاتا ہے۔ آخرکار فنڈ میں ممنوعہ آمدنی نہیں ہوتی بلکہ خالص اور پاکیزہ آمدنی ہوتی ہے جو شریعت کے مشوروں کے مطابق ہوتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT