Sunday , July 22 2018
Home / مذہبی صفحہ / شرک کا مرتکب کبھی بخشا نہیں جائیگا

شرک کا مرتکب کبھی بخشا نہیں جائیگا

مرسل : ابوزہیر نظامی

٭ کسی اور کو اللہ تعالیٰ کے برابر سمجھنا (یعنی اللہ کی ذات یا صفات یا استحقاق عبادت میں کسی اور کوشریک کرنا ) شرک ہے ۔
٭ شرک بہت بڑا گناہ ہے جس کا مرتکب (مشرک) کبھی بخشا نہ جائے گا بلکہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔
٭ شرک کی مختلف قسمیں ہیں یہاں چند عام فہم صورتیں بتادی جاتی ہیں :
٭ اللہ تعالیٰ کی ذات میں کسی اور کو شریک کرنے کی صورتیں: الف ۔ اللہ کے سواکسی اور کو خدا سمجھنا ۔
ب ۔ کسی سے یہ کہنا کہ اوپر خدا نیچے تم ( وغیرہ)
(۲) اللہ تعالیٰ کی صفات میں کسی اور کو شریک کرنے کی صورتیں : الف ۔ اللہ کی کل صفتوں یا کسی ایک صفت کو کسی مخلوق میں مستقل ثابت کرنا مثلاً کسی بزرگؤ‘ پیر ‘ فقیر وغیرہ کی نسبت اعتقاد رکھنا کہ وہ بالذات اللہ تعالیٰ کی طرح غیب کی تمام باتوں کو ہر وقت جانتے اور ہمارے تمام حالات سے خبردار ہیں ‘یا چھپی ‘ کھلی ‘ نزدیک و دور کی چیزوں کو دیکھتے ہیں ‘یا نزدیک و دور کی باتوں کو سنتے ہیں ‘یا رزق و روزی ‘ اولاد و ملازمت ‘ عزت و آبرو دینے ‘یا مارنے جِلانے ‘یا آفت و مصیبت کے دفع کرنے یا نفع و نقصان کے پہنچانے میں پورا اختیار وقدرت رکھتے ہیں (وغیرہ) ۔
٭ اللہ تعالیٰ کے استحقاق عبادت میں کسی اورکو شریک کرنے کی صورتیں :
الف ۔اللہ کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنا ۔
ب۔ اللہ کے سوا کسی اور کے نام کا روزہ رکھنا
ج ۔ اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر جانور ذبح کرنا
د ۔اللہ کے سوا کسی اور کا نام لے کر جانور چھوڑنا ۔
( تنبیہ) یہ اور اسی طرح کی باتیں سب شرک میں داخل ہیں ۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ ان سے بچیں اور یہ سمجھیں کہ تمام مخلوق کل صفات الٰہی سے خالی ہے۔ ہاں ‘ اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اپنے خاص بندوں کو علم اور قدرت دے رکھی ہے یا اور کوئی صفت عطا فرمائی ہے اورہمیشہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیضان عظیم کے تحت ہیں ۔ منتہی وہی ایک ذات ہے۔ اس کے حکم و ارادت کے بغیر کچھ نہیں ہوتا ۔ کوئی ذات ( خواہ آسمان کی رہنے والی ہو یا زمین کی) کسی کو کوئی نفع پہنچا سکتی ہے نہ نقصان ۔ پس نفع و نقصان کا پہنچانے والا اللہ تعالیٰ ہی کو سمجھنا اور اسی سے اپنی تمام حاجتیں اور مرادیں مانگنا چاہئے ۔ البتہ اس مانگنے میں انبیاء و اولیاء کو ( جو خدا کے مقبول و محبوب بندے ہیں ) وسیلہ بنانا مقبولیت دعاء کا سبب ہوسکتا ہے ۔ پس ان حضرات کو وسیلہ بنا کر دعاء مانگنا چاہئے ۔
(اقتباس: نصابِ اہلِ خدماتِ شرعیہ)

TOPPOPULARRECENT