Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / شریعت محمدیؐ میں مداخلت ناقابل قبول: محمد محمود علی

شریعت محمدیؐ میں مداخلت ناقابل قبول: محمد محمود علی

وزیراعظم سے نمائندگی کا تیقن، ڈپٹی چیف منسٹر کا تہنیتی تقریب سے خطاب
حیدرآباد۔8اکٹوبر(سیاست نیوز) اقتدار میں رہنے تک اور اس کے بعد بھی میری زندگی کا مقصد قوم او رملت کی ترقی اور اس کی فلاح وبہبود ہی رہے گا۔نائب وزیراعلی تلنگانہ ریاست محمد محمودعلی نے آج یہاں جامعتہ المومنات مغل پور ہ کی شرعی عدالت کے زیر اہتمام منعقدہ تہنیتی تقریب سے مخاطب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ مرکزی وزیر داخلہ سے شریعت محمدی ؐ میںمداخلت نہ کرنے کے متعلق جناب محمد محمودعلی کی نمائندگی کے پیش نظر تہنیتی تقریب منعقد کی گئی تھی۔ تقریب کی نگرانی مفتی محمد حسن الدین نے کی جبکہ مولانا سید درویش محی الدین قادری ‘ مفتی صادق محی الدین فہیم ‘ مولانا حامد محمد خان صدر جماعت اسلامی ہند تلنگانہ وآندھرا‘مولانا سیدعثمان نقشبندی ،صدر تلنگانہ ایڈوکیٹ فورم جناب عبدالوحید ایڈوکیٹ‘ ابرا ر حسین آزاد‘ مولانا افتخارپاشاہ‘مولانا غلام محی الدین قادری ‘ رحیم اللہ خان نیازی ‘ ایم اے ذیشان‘ فاروق علی خان ایڈوکیٹ نے بھی محمدمحمودعلی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ تقریب کا آغاز حافظ محمد صابر پاشاہ کی قرات کلام پاک سے ہوا جبکہ صوفی سلطان شطاری قادری نقشبندی اور راشد عبدالرزاق میمن نے بارگاہ رسالت مآب میں نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔ علماء دین ‘ اکابرین ملت‘ او ردانشواران قوم کی موجودگی میں جناب محمدمحمودعلی کو محبوب ملت کے لقب سے نواز ا گیا اور جامعتہ المومنات کی شرعی عدالت کی جانب سے انہیں محبو ب ملت کا سپاس نامہ اور مومنٹو بھی پیش کرکے دستار بندی اور تہنیت پیش کی گئی۔ جناب محمدمحمودعلی نے کہاکہ مسلمان ہر چیز برداشت کرسکتا ہے مگر شریعت محمدی میںمداخلت ہمارے قابلِ قبول نہیں ہے ۔ ہم نے اس ضمن میںمرکزی وزیر داخلہ سے حکومت تلنگانہ کے موقف کی وضاحت کردی ہے جس پر راجناتھ سنگھ نے شریعت میںتبدیلی کے متعلق گریز کا بھی تیقن دیاتھا ۔ انہوں نے کہاکہ ضرورت پڑنے پر حکومت سے وزیر اعظم سے بھی نمائندگی کرتے ہوئے شرعی معاملات میںمرکزی حکومت کی جانب سے مداخلت کی کوششوںسے مرکز کو روکنے کی نمائندگی کی جائے گی ۔ مرکز میںبی جے پی اقتدار میں آنے سے قبل اپنے انتخابی منشور میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کو روبعمل لانے کا وعدہ کیاتھا جس پر عمل کی کوششیں بھی کی جارہی ہوںگی مگر مرکزی حکومت کواس بات کا انداز کرلینا چاہئے کہ مسلمان کچھ بھی برداشت کرسکتا ہے مگر شریعت محمد یؐ میں کسی بھی قسم کی مداخلت ہمارے لئے ناقابلِ قبول ہوگی۔ جناب محمدمحمودعلی نے کہاکہ ساڑھے چار کروڑ تلنگانہ واسیوں کا نائب وزیراعلی ہونے کے ناطے مجھ پر دیگر قوموں اور مذہب کے ماننے والو ں کابھی احترام لازمی ہے ۔ریاست میںامن وامان کی برقراری اور تمام کی خوشحالی ہماری اولین ذمہ داری ہے جس پر حکومت تیزی کے ساتھ کام کررہی ہے ۔ ضرورت پڑنے پر حکومت شریعت میں مداخلت کے متعلق ایک قانونی مشیروں کی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے حکومت سے عدالت سے بھی رجوع ہوگی۔ طلاق اور کثرت ازدواج کے مسئلہ پر مسلمانو ں کو عدالتوں سے رجوع ہونے کے بجائے شرعی عدالتوں سے رجوع ہوناچاہئے تاکہ غیر مسلمانو ںکو ہم پر نکتہ چینی کا موقع نہیںدیا جاسکے۔جناب محمدمحمودعلی نے کہاکہ اس سلسلے میں مشاورت کے بعد ایک شرعی بورڈ بھی نافذ کرنے کا فیصلہ لیاجائے گا جو محکمہ اوقاف بورڈ کے تحت ہوجہاں پر خواتین اور مردوں کی کونسلنگ کی جائے گی اورشرعی معاملات کا حل تلاش کیاجائے گا۔ صدرتقریب مفتی محمد حسن الدین نے جناب محمد محمودعلی کوعلماء اور اکابرین کا محبو ب قائد قراردیا۔ انہو ںنے کہاکہ تیقن کے باوجود بھی اگر مرکزی حکومت شریعت میں مداخلت کی کوشش کرتا ہے تو مسلمانوں خاموش تماشائی نہیں بنیں گے۔مفتی صادق محی الدین فہیم نے مرکزی وزیرداخلہ سے دوٹوک انداز میںجناب محمدمحمودعلی کی نمائندگی کو قابلِ تقلید قراردیتے ہوئے مستقبل میںبھی ایسے ہی نمائندگیوں کی امید ظاہر کی۔ جناب حامد محمد خان نے یکساں سیول کوڈ کے خطرات سے نمٹنے کے لئے آپسی اختلافات کو ختم کرنے اور متحد رہنے کو ضروری قراردیا جبکہ فسطائی طاقتیں منظم اندازمیںہمارے نظریاتی اختلافات کا فائدہ اٹھانے کی کوششیں کررہے ہیں۔فاروق علی خان نے کہاکہ یکسا ں سیول کوڈ کے خلاف نمائندگی کے علاوہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے بی سی کمیشن کے قیام کا فیصلہ جناب محمد محمودعلی کو تہنیت پیش کرنے کے لئے ہمیںمجبورکردیا ہے۔ ناظم جامعتہ المومنات مفتی محمدمستان علی نے جامعہ کی کارکردگی پر روشنی ڈالی۔

TOPPOPULARRECENT