Wednesday , December 19 2018

شریعت میں جھینگے کا استعمال

حالیہ عرصہ میں Sea Food کی طرف عوام کی رغبت بڑھ گئی ہے ۔ نیز ٹکنالوجی کے فروغ کے سبب Sea food بطور خاص جھینگے کی فارمنگ کو کافی حد تک فروغ ہوا ہے۔ جھینگے کی طرف رغبت کا عالم یہ ہے کہ امریکہ میں اوسطاً ہر شخص سالانہ 4.2 پاؤنڈ جھینگا کا استعمال کرتا ہے ۔ ہندوستان میں اس کی کھپت اور تجارت روز افزوں ترقی پذیر ہے ۔ جھینگے کو عربی میں ’’روبیان، اربیان ، جبری‘‘ کہا جاتا ہے جبکہ انگریزی میں ادنیٰ فرق سے اس کو “Shrimp” یا “Prawns” کہا جاتا ہے ۔ قرآن مجید ، احادیث شریفہ اور کتب فقہ اسلامی میں ان الفاظ کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ نیز حضور پاکﷺ کا بنفس نفیس جھینگا استعمال کرنا یا اس کو منع کرنا یا آپ ﷺ کی موجودگی میں کسی صحابی کا اس کو استعمال کرنے کاکوئی ذکر نہیں ملتا ۔ عرب کا ایک علاقہ سمندر سے گھیرا ہوا ہونے کے باوجود عہد رسالت میں جھینگے کا بطور غذا استعمال کا ثبوت بھی نہیں ملتا ۔
اہل اسلام کو حلال و پاکیزہ غذائیں کھانے کا حکم ہے۔ ارشاد ربانی ہے : ’’اے گروہِ انبیاء ! پاکیزہ کھاؤ اور نیک عمل کرو (سورۃ المومنون ؍۵۱)
سورۃ المائدہ میں ہے : ’’اے محبوب ! وہ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ ان کے لئے کیا حلال ہے ۔ آپ ان سے فرمادیجئے کہ تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال ہیں‘‘۔
سورۃ الاعراف میں نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کے دو تشریعی صفات کا ذکر ہے : ’’آپ ان کے لئے پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دیتے ہیں اور ناپاک و خبیث اشیاء کو حرام کردیتے ہیں ‘‘۔
سمندری جانوروں میں صرف مچھلی کو قرآن مجید میں لَحْماً طریاء (تازہ گوشت ) فرمایا ہے ۔ …
وہی ذات ہے جس نے سمندر کو ( تمہارے ) تابع کیا تاکہ تم اس سے تازہ گوشت کھاؤ ۔ ( سورۃ النحل ؍۱۴)
سمندر کے حیوانات میں کتنے ایک زہریلے ، خطرناک ، جنگلی ، آدم خور جانور ہوتے ہیں مزید یہ کہ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ و سلم نے صراحت کے ساتھ مینڈک کو ’’خبیثۃ من الخبائث ‘‘ ناپاک جانوروں میں سے ایک قرار دیا ہے ۔ ( مسند احمد بن حنبل ۲؍۳۸۱؍ ابوداؤد (۳۷۹۹) کتاب الاطعمۃ ۔
علامہ مرفینانی نے اپنی کرشماتی تالیف ’’الھدایۃ ‘‘ کتاب الذبائح فصل بیما حل اکلہ ومالا یحل میں مچھلی کے علاوہ سمندر کے تمام جانوروں کو ’’خبیث‘‘ میں ذکر کیا ہے ۔ قلنا : قولہ تعالیٰ ( ویحرم علیھم الخبئث ‘ وما سوی السمک خبیث ۔
جدید طبی و سائنسی تحقیقات کی روشنی میں جھینگا حیوانات کی جماعت “Decapoda” سے تعلق رکھتا ہے ۔ “Deca” دس کے لئے اور “Poda” پاؤں کے لئے یعنی دس پاؤں والے جانور کے طبقہ سے ہے ۔ وہ کیکڑے کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے اس کو مچھلی سے کسی قسم کی کوئی مناسب نہیں۔ تفصیلات کے لئے دیکھئے : مدراس ہائی کورٹ فیصلہ : Agricultural Produce Cess Act 1940: کے تحت جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی فقہی مقالات جلد سوم ’’جھینگے کی شرعی حیثیت‘‘ ص : ۲۱۶ میں رقمطراز ہیں: ’’لیکن موجودہ دور کے علم حیوانات کے ماہرین ’’جھینگا‘‘ کو مچھلی میں شمار نہیں کرتے بلکہ ان کے نزدیک ’’جھینگا‘‘ پانی کے حیوانات کی ایک مستقل قسم ہے ، ان کا کہنا ہے کہ جھینگا کیکڑے کے خاندان کا ایک فرد ہے نہ کہ مچھلی کی کوئی قسم ‘‘۔
ماہرین حیوانات کے ہاں مچھلی کیتعریف یہ ہے : ’’وہ ریڑھ کی ہڈوی والا جانور ہے جو پانی میں رہتا ہے اپنے پروں سے تیرتا ہے اور گلپھڑوں سے سانس لیتا ہے ‘‘۔ ( انسائیکلو پیڈیا آف بریٹانیکا ۹؍۳۰۵ مطبوعہ ۱۹۵۰؁ ء ) اس تعریف کی رو سے جھینگا مچھلی میں داخل نہیں ہے ، کیونکہ جھینگے میں ریڑھ کی ہڈی بھی نہیں ہے اور نہ جھینگا گلپھڑوں سے سانس لیتا ہے ۔ نیز جدید علم حیوان ، حیوانات کو دو بڑی قسموں میں تقسیم کرتا ہے (۱) الحیوانات الفقریۃ (Vertebrate) ، (۲) الحیوانات غیرالفقریۃ (Invertebrate) ۔
پہلی قسم ان حیوانات کی ہے جن میں ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے اور جس میں اعصابی نظام بھی موجود ہے اور دوسری قسم ان حیوانات کی ہے جن میں ریڑھ کی ہڈی نہیں ہوتی ۔ اس تقسیم کے لحاظ سے مچھلی حیوانات کی پہلی قسم میں شمار ہوتی ہے جبکہ جھینگا دوسری قسم میں شمار ہوتا ہے ۔ انسائیکلو پیڈیا آف بریٹانیکا (۶؍۳۶۳ مطبوعہ ۱۹۸۸ء ) کے مطابق نوے فیصد حیوانات کا تعلق اس دوسری قسم سے ہے ۔ نیز یہ قسم تمام چھال والے جانور اور حشرات الارض کو بھی شامل ہے ‘‘ ۔ (اقتباس ختم ہوا )
پس جدید علم حیوانا کے ماہرین اور سائنسی و بیالوجی تحقیقات کی واضح تصریحات کی روشنی میں یہ بات بالکل عیاں ہوگئی کہ مچھلی اور جھینگا میں اصالتاً کوئی مناسبت نہیں ہے وہ کیکڑے کے خاندان سے ہے ، خشکی کے جانوروں میں حشراب الارض کیڑے مکوڑے کی جنس سے ہے۔ اور علامہ علاء الدین ابی بکر بن مسعود الکاسانی نے بدائع الصناع جلد چہارم ص : ۱۴۴کتاب الذبائج والصیود میں کیکڑے ، مینڈک ، سانپ اور ان کے ہم جنس جانوروں کو ’’خبائث ‘‘ ( ناپاک) لکھا ہیاور از روئے آیت قرآنی ’’خبائث‘‘ حرام ہیں۔ وقولہ عزشأنہ : (ویحرم ……) والضفدع والسرطان والحیۃ و نحوھا من الخبائث ۔
جدید تحقیقات سامنے آنے کی بناء بہت سے ماہرین لغت کی خودبخود تردید ہوگئی جنھوں نے جھینگا کو مچھلی کی ایک قسم لکھا تھا ۔ چنانچہ ابن درید نے جمھرۃ اللغۃ میں ، جوھری نے الصحاح میں ، علامہ دمیری نے ’’حیاۃ الحیوان‘‘ میں ، مجد فیروزآبادی نے القاموس المحیط میں نیز تاج العروس و دیگر لغات میں جھینگا کو جو مچھلی کی قسم کہا گیا وہ سب ساقط الاعتبار قرار پایا ، ان سے جھینگا کو مچھلی کی قسم ثابت کرنا کوئی حجت و دلیل نہیں ہوسکتا ۔ اب سوال یہ ہے کہ احناف کے نزدیک سمندری جانوروں میں صرف مچھلی ہی کیوں جائز ہے باقی جانوروں کا کھانا جائز کیوں نہیں ؟ اس کامختصر جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کی واضح نص قطعی ہے : تم پر مردار جانور ، خون اور خنزیر کا گوشت حرام کردیا گیا ‘‘۔ سورۃ المائدہ؍۳)
اس آیت شریفہ میں ’’المیتۃ ‘‘ مردار جانور حرام ہے اور یہ حکم مطلق اور عام ہے ۔ اس مںے خشکی اور سمندری جانوروں کی کوئی قید نہیں ہے لہذا ہر وہ جانور جو مردہ پایا جائے ( جس کو شرعی طورپر ذبح نہ کیا گیا ہو ) وہ حرام ہے خواہ اس کاتعلق زمینی اور خشکی کے جانوروں سے ہو یا سمندری حیوانات سے ۔ اس حکم کے لحاظ سے ہر قسم کے سمندری جانور جو مردار ہوں حرام قرار پاتے ہیں۔ جس میں مچھلی ، جھینگا ، کیکڑا ، انبیل ، مینڈک ، مگرمچھ ، سمندری انسان ، پانی کا سانپ ، گھوڑا ، کتا ، خنزیر دیگر سمندر کے زہریلے جانور شامل ہیں۔ تام نبی اکرم ﷺ نے اس عام حرمت کے حکم سے سمندری جانوروں میں سے صرف اور صرف مچھلی کو مستثنیٰ اور مخصوص کیا اور فرمایا : ’’ہمارے لئے دو مردار اور دو قسم کے خون حلال ہیں۔ اب رہا دو مردار تو مچھلی اور ’’الجراد‘‘ (ٹڈی) ہیں اور دو خون وہ جگر اور تلی ہیں ‘‘ ( سنن دارقطنی۲۵؍۴)
متذکرہ آیت قرآنی اور حدیث شریف سے واضح ہواکہ سمندر کے مردار جانوروں میں سے صرف اور صرف مچھلی کو حلال کیا گیاہے مابقی تمام جانور علی حالہ ناجائز برقرار رہے ۔
موطا امام مالک میں حضرت ابوھریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اﷲ ﷺ ہم سمندر پر سوار ہوتے ہیں اور اپنے ہمراہ تھوڑا پانی لیتے ہیں اگر ہم اس سے وضو کرلیں تو پیاسے رہ جائیں گے کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کرلیں تو پیاسے رہ جائیں گے کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں۔ حضور پاک ﷺ نے فرمایا : سمندر کا پانی پاک کرنے والا ہے اور اس کا مردار جانور حلال ہے ۔ (موطا باب الطپورللوضوء ، الترمذی باب ماجاء فی ماء البحر انہ طھور حدیث نمبر ۶۹ ص : ۲۷)
’’الحل میتۃ ‘‘ یعنی اس کا مردار جانور حلال ہے اس سے بظاہر یہ سمجھ میں آتا ہے کہ سمندر کا ہر وہ جانور جو مردار ہو اس کا کھانا حلال ہے لیکن علامہ مرغینانی کتاب ’’الھدایہ‘‘ میں فرماتے ہیں ( سمندر کے مردار سے اس وقت مردار مچھلی ہی عرف عام میں مفہوم ہوتی تھی اس لئے ) وہ صرف مچھلی پر محملو ہوگی اور مابقی تمام جانور خبیث برقرار رہیں گے ( الھدایۃ ، کتاب الذبائح فصل فیما حیل أکلہ ومالایحل)
اس بحث میں ایک مشہور آیت قابلذکر ہے جو سمندری جانوروں کے شکار اور اس کے کھانے کے حلال ہونے سے تعلق رکھتی ہے ۔ ارشاد الٰہی ہے : تمہارے لئے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا تمہارے لئے اور سفر کے لئے بطور منفعت حلال کیا گیا ہے اور تم پر خشکی کا شکار حرام ہے جب تک تم حالت احرام میں ہو اور اﷲ تعالیٰ سے ڈرو جس کی طرف تمکو جمع کیا جائے گا ‘‘۔ ( سورۃ المائدۃ ؍ ۹۶)
احناف کے نزدیک یہ آیت شریفہ سمندر کے مردار جانوروں کو حلال قرار دینے کیلئے نازل نہیں ہوئی بلکہ یہ آیت حالت احرام میں خشکی اور سمندر کے شکار کی حلت اور حرمت کو بتانے کیلئے نازل ہوئی ہے ۔
اب رہا دیگر ائمہ میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک سمندر کے تمام جانور حلال ہیں حتی کہ ان کے نزدیک کسی ذبح کی بھی ضرورت نہیں ۔ حضرت لیث بن سعد کے نزدیک مچھلی کے علاوہ تمام جانور مثلاً مینڈک ، کیکڑا ، پانی کا سانپ، کتا ذبیحہ ہوں تو حلال ہیں سوائے سمندر کے انسان اور خنزیر کے وہ ہر حال میں حرام ہیں ان سب ائمہ نے مذکورہ آیت قرآنی ’’احل لکم صید البحر‘‘ سے استدلال کیا ہے ۔ جس کی تفصل احکام القرآن اللجصاص : اور تفسیرات احمدیہ میں بضمن آیت شریفہ مذکور ہے )
پس احناس کے اصل مذہب میں پانی کے جانوروں میں سے صرف مچھلی اور مچھلی کی ہر نوع جائز ہے اس کے لاعوہ دیگر جانور جھینگا ، کیکڑا وغیرہ ناجائز ہیں۔
حدیث شریف کیں ہیکہ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان میں چند اُمور متشابہ اور مشکوک ہیں۔ پس ہم مسلمانوں کو حکم ہے کہ جو واضح طورپر حلاہل ہے اس کو اختیار کریں اور جو حرام ہیں اس کو ترک کردیں اور جس میں شبہ ہو اس سے اجتناب کریں۔

TOPPOPULARRECENT