Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / شریعت میں مداخلت کی کوشش ، بی جے پی کی سیاسی چال

شریعت میں مداخلت کی کوشش ، بی جے پی کی سیاسی چال

یوپی انتخابات میں ہندو ووٹ مستحکم کرنے یکساں سیول کوڈ کا ہوّا کھڑا کیا جارہا ہے
حیدرآباد۔18اکٹوبر(سیاست نیوز) سپریم کورٹ میں جاری طلاق ثلاثہ و تعداد ازواج مقدمہ میں فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہونے کا امکان نہیں ہے۔ صدر جمیعۃ علماء ہند تلنگانہ و آندھرا پردیش حافظ پیر شبیر احمد نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جمیعۃ مقدمہ میں فریق ہے لیکن اس کے باوجود یہ خدشہ پایا جاتا ہے کہ حکومت کے اس موقف کے بعد فیصلہ مسلمانوں کے حق میں نہیں ہوگا کیونکہ مسلمانوں میں شریعت سے واقف اور قرآنی علوم سے بہرہ ور وکلاء کا فقدان ہے۔ جمیعۃ علماء ہند کی جانب سے منعقدہ گول میز کانفرنس میں مختلف مذاہب کے علاوہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیتیں موجود تھیں اس اجلاس میں مولانا سید شاہ قبول بادشاہ قادری شطاری ‘ مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری سجادہ نشین درگاہ حضرت شاہ خاموشؒ ‘ مولانا حامد محمد خان امیر جماعت اسلامی حلقہ تلنگانہ ‘ آندھرا پردیش و اڑیسہ‘ مولانا محمد رحیم الدین انصاری ‘ مولانا سید محمد احمدالحسینی سعید قادری‘ مولانا عبدالمغنی مظاہری‘ مولانا قاضی سمیع الدین‘ جناب مشتاق ملک‘ مولانا ارشد قاسمی تحفظ ختم نبوتؐ ‘ مولانا مجاہد ہاشمی ‘ مولانا حافظ خلیق احمد صابر‘ جناب منیر الدین مختار‘ جناب محمد اظہر الدین‘ بالادیر غدر‘ پروفیسر کانچہ ایلیا‘ جناب نانک سنگھ نشتر کے علاوہ دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران شریعت میں مداخلت کی ان کوششوں کے سیاسی پس منظر پر بھی غور کیا گیا اور بیشتر شرکاء نے اس مسئلہ کو اترپردیش انتخابات سے مربوط کرتے ہوئے مشاہدہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔  جناب حامد محمد خان نے بتایا کہ شریعت میں مداخلت اور یکساں سیول کوڈ کے نام پر بی جے پی اتر پردیش میں ہندو ووٹ کو متحد کرنے کی کوشش میں مصروف ہے اور اگر مسلمان فوری تحریک میں شدت پیدا کرتے ہیں تو اس کا راست فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو اتر پردیش میں ہوگا ان کی اس رائے کو کئی شرکاء کی تائید حاصل ہوئی۔

 

مولانا قبول پاشاہ قادری شطاری نے اس موقع پر خطاب کے دوران کہا کہ شریعت میں مداخلت کے معاملہ میں مسلمان عقائد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک جگہ جمع ہو رہے ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ امت واحدہ کی جھلک ان اجلاسوں میں نظر آنے لگی ہے اور اس کی برقراری کیلئے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ متحد ہوں تو بڑی سے بڑی طاقت سے ٹکرانے کی ہم قوت رکھتے ہیں۔مولانا قاضی سمیع الدین نے کہا کہ حکومت نے اس مسئلہ کو چھیڑتے ہوئے ہمیں شریعت کی تبلیغ و تعلیم کا ایک موقع فراہم کیا ہے جس سے استفادہ کیا جانا چاہئے۔ اسی طرح طلاق کے متعلق نوجوانوں اور دیگر ابنائے وطن کو تفصیلات سے واقف کروانے کا موقع حاصل ہوا ہے۔ اس اجلاس نے فیصلہ کیا کہ بڑے پیمانے پر خواتین کی ایک کانفرنس منعقد کی جائے علاوہ ازیں مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے چلائی جانے والی دستخطی مہم میں شدت پیدا کرتے ہوئے ائمہ و خطباء کو اس مسئلہ کے متعلق شعور اجاگر کرنے کی تاکید کی جائے۔ اجلاس نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے موقف سے مکمل اتفاق کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلہ میں متحدہ کوششیں جاری رہیں گی۔ اس اجلاس سے مخاطب کرنے والی تمام اہم شخصیات نے متفقہ طور پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے احکام کے مطابق عمل کا اعلان کیا۔ سردار نانک سنگھ نشتر نے اس اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ یہ حالات صرف مسلم اقلیت کے لئے خطرناک نہیں ہیں بلکہ ملک کی تمام اقلیتوں کیلئے حکومت کی یہ کوششیں تشویشناک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں نوجوانوں کو با شعور بناتے ہوئے انہیں مذہبی علوم سے واقف کروانے کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں حکومت کی جانب سے دستور سے چھیڑ چھاڑ کی ان کوششوں کے سیاسی پس منظر کا جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور کہا گیا کہ رائے دہندوں کو مذہبی خطوط پر منقسم کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کی حکمت عملی بھی تیار کی جانی چاہئے تاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ناپاک منصوبوں میں کامیابی سے روکا جائے۔

TOPPOPULARRECENT