Saturday , April 21 2018
Home / Top Stories / شریعت پر منظم حملوں کو روکنا پرسنل لا بورڈ کا ذمہ

شریعت پر منظم حملوں کو روکنا پرسنل لا بورڈ کا ذمہ

دستور میں دی گئی مذہبی آزادی اکثریت کے دبائو سے چھینی نہیں جاسکتی، مولانا رابع حسنی ندوی کا خطاب

حیدرآباد۔10فروری (سیاست نیوز) دستور ہند نے اس ملک کے تمام شہریوں کو مذہبی آزادی فراہم کی ہے اور اس آزادی سے مسلمان کسی اکثریت کے دباؤ کے نتیجہ میں محروم نہیں ہوسکتا۔ مسلمانوں کے شرعی قوانین آفاقی ہیں اور ان قوانین میں ترمیم و تحریف کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ملک کے مسلمانوں کا نمائندہ ادارہ ہے اور اس ادارہ پر ہندستانی مسلمانو ں کو مکمل اعتماد حاصل ہے۔ مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صدر کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کے بورڈ کے اجلاس کے دوسرے دن اراکین سے خطاب کے دوران یہ بات کہی ۔ انہوںنے اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ مسلمانوں کا ضابطۂ حیات کائنات کے خالق و مالک رب العالمین کا عطا کردہ ہے اور ہم اغیار کی تو کجا اپنی مرضی سے بھی اس میں کوئی ترمیم نہیں کرسکتے ۔ مولانا رابع حسنی ندوی نے دوسرے دن کے پہلے اجلاس میں اراکین بورڈ کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہا کہ جن حالات میں بورڈ کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے وہ انتہائی اہمیت کے ہیں کیونکہ فی زمانہ ملک میں بعض گوشوں سے شریعت پر منظم انداز میں حملوں کی کوشش کی جا رہی ہے اور ان کوششوں کو روکنا پرسنل لاء بورڈ اپنی ذمہ داری تصور کرتا ہے ۔ مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ اراکین بورڈ ملی و مذہبی مسائل میں جس وحدت کا مظاہر ہ کر رہے ہیں اس کا سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا۔انہوں نے بتایا کہ طلاق ثلاثہ ‘ بابری مسجد کا مسئلہ اور مسلمانو ںمیں تفہیم شریعت جیسے امور کے سلسلہ میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سرگرم ہے اور جو کوششیں کی جا رہی ہیں وہ قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شرعی قوانین قرآن و سنت سے ماخوذ ہیں جو کہ نا قابل تغیر وناقابل تنسیخ ہیں ان امورمیں مداخلت کی کوششیں ناقابل برداشت ہیں اسی لئے کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے پر امن انداز میں جمہوری طریقہ کار کو اختیار کرتے ہوئے مہم چلائی جا رہی ہے ۔ اجلاس میں مولانا سید ولی رحمانی‘ مولانا سید ارشد مدنی‘مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ‘ مولانا سید قبول پاشاہ قادری شطاریمولانا خالد سیف اللہ رحمانی‘ جناب ظفر یاب جیلانی‘ بیرسٹر اسد الدین اویسی ‘ مولانا رحیم الدین انصاری‘ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ‘مولانا عمرین کے علاوہ دیگر ارکاعاملہ‘ تاسیسی و ارکان اعزازی موجود تھے۔ مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی نے اپنے خطبہ صدارت کے دوران واضح کیا کہ حکومت یا سیاسی قوتیں مسلمانوں کے شرعی معاملات میں کوئی مداخلت کی مجاز نہیں ہیں۔ مولانا نے طلاق ثلاثہ مسئلہ پر راجیہ سبھا میں بل میں ترمیم کی کا مطالبہ کرنے اور بل کی منظوری میں رکاوٹ پیدا کرنے والی سیاسی جماعتوں سے مجموعی طور پر اظہارتشکر کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کے ذریعہ طلاق پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ مسلمانوں کے شریعت میں مداخلت کے موافق ہے۔ مولانا رابع حسنی ندوی نے کہا کہ مسلمانوں کو حاصل مذہبی آزادی میں ان کے عائلی معاملات بھی شامل ہیں جو انہیں شریعت کے مطابق انجام دینے چاہئے ۔ انہوںنے بتایاکہ نکاح اور طلاق کے مسائل بھی ان کے مذہب کا حصہ ہے اور اس میں کوئی مفاہمت کی گنجائش نہیں ہے۔ مولانا نے بابری مسجد کی شہادت کو بدترین تشددو دہشت گردی کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو صورتحال ہے اس کا قانونی طور پر بورڈ کی جانب سے مقابلہ کیا جا رہا ہے اور بورڈ اس مسئلہ پر متفق ہے کہ بابری مسجد کے معاملہ میں قانونی فیصلہ کا احترام کیا جائے گا۔مولانا سید ولی رحمانی نے اجلاس کے دوران جنرل سیکریٹری رپورٹ پیش کرتے ہوئے بورڈ کی کارکردگی سے واقف کروایا اور بتایا کہ کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے ملک میں مسلمانوں کی خلاف جاری پروپگنڈہ اور شریعت میں مداخلت کی کوششوں کا مؤثر جواب دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندستان میں طلاق ثلاثہ مسئلہ پر حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ملک بھر میں دستخطی مہم کے ذریعہ عوام میں شعور بیداری مہم چلائی اور حکومت کو یہ پیغام دیا کہ ہندستانی مسلمان اپنی شریعت میں کسی بھی تحریف کے مخالف ہیں۔)
انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ ملک کے مسلمانوں کا متحدہ و مشترکہ نمائندہ ادارہ ہے جو کہ مسلمانوں کی مذہبی امورمیں رہنمائی کو اپنا فریضہ تصور کرتا ہے۔ مولانا سید ولی رحمانی نے اپنی رپورٹ کے دوران کلکتہ کے اجلاس میں منظور کردہ قراردادوں پر عمل آوری کی تفصیلات سے واقف کروایا ۔ انہوں نے بتایا کہ کلکتہ میں منعقد ہوئے اجلاس کے بعد سے اب تک مسلم پرسنل لاء بورڈ کے تین اہم عاملہ کے اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے چلائی جانی والی تفہیم شریعت مہم کے علاوہ مولانا ولی رحمانی نے نکاح و طلاق کے امور میں مسلمانوں سے توقعات اور بابری مسجد کے قضیہ میں عدالتی کاروائی میں تیزی پیدا کرنے کے سلسلہ میں کئے گئے مطالبات کا تذکرہ کیا ۔ بتایاجاتاہے کہ اجلاس کے دوران مسلم پرسنل لاء بورڈ کی خاتون ارکان کی بھی بری تعداد موجود تھیں ۔ بوراڈ کے اجلاس کے دوران اراکین کے پہلے اجلاس میں مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کے خطبۂ صدارت اور مولانا سید ولی رحمانی کی رپورٹ کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT