Saturday , November 17 2018
Home / Top Stories / شریعت کا تحفظ مسلمانوں کی ذمہ داری ، نکاح میں شرعی احکام نافذ کریں

شریعت کا تحفظ مسلمانوں کی ذمہ داری ، نکاح میں شرعی احکام نافذ کریں

مسلم پرسنل لاء بورڈ کمزور نہیں ، اللہ کے کرم سے امت مسلمہ کی خدمت جاری ، اجلاس عام سے مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی اور دیگر کا خطاب

٭ بابری مسجد کے حصول کیلئے مساجد کو آباد کرنا ضروری
٭ اللہ اور رسول کی نافرمانی سے بچنے کی تلقین

٭ احکام الٰہی میں ترمیم یا تحریف کا کسی کو حق حاصل نہیں
٭ انتقام وانتشار سے تنظیمیں غیر مستحکم ہوں گی

محمد مبشر الدین خرم
حیدرآباد ۔ /11 فبروری ۔ تحفظ شریعت مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ساتھ امت مسلمہ کی بھی ذمہ داری ہے اگر آپ شریعت کو مانتے ہیں تو اس کے مطابق زندگی کو ڈھالیں جس سے اسلام کو شہرت کے ساتھ آپ کی زندگی بھی خوشگوار ہوتی چلی جائے گی ۔ عفو و درگذر ، ایثار و قربانی کے ذریعہ ہی تنظیموں کو چلایا جاسکتا ہے ۔ انتقام ، انتشار کے ذریعہ تنظیموں کو مستحکم نہیں بنایا جاسکتا ۔ انتقام انتشار کی طرف لے جاتا ہے اور انتشار انحطاط کی طرف لے جانے کا سبب بنتا ہے ۔ اسی لئے ان برائیوں سے بچنا ضروری ہے ۔ بابری مسجد حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ مسلمان مساجد کو آباد کریں اور شریعت کے تحفظ کیلئے خود پر شریعت کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے جو لوگ مسلم پرسنل لا بورڈ کی عمر ہوگئی کہہ رہے ہیں انہیں یہ جان لینا چاہئیے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کا کام شخصیتوں سے نہیں چل رہا ہے بلکہ اللہ کے کرم سے یہ کام جاری و ساری ہے ۔ بورڈ کی موقف کی مخالفت کرتے ہوئے بابری مسجد سے دستبرداری اختیار کرنے کا مشورہ دینے والے مولانا سلمان ندوی کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے ۔ دارالسلام میں منعقدہ عظیم الشان جلسہ تحفظ شریعت و اصلاح معاشرہ سے علمائے اکرام نے خطاب کرتے ہوئے امت مسلمہ کو شریعت محمدی پر عمل کرنے کی تلقین کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا ۔ مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی نے کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کے زیراہتمام منعقدہ 26 ویں اجلاس عام کے سلسلے میں منعقد کئے گئے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نکاح و طلاق کے علاوہ دیگر امور زندگی میں بھی شرعی احکام کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ رب العزت نے اپنے حبیب پاک ﷺ کے توسط سے جو شریعت عطا کی ہے وہ انسانی نفسیات کے عین مطابق ہیں ۔ انہوں نے واضح کیا کہ احکام الٰہی میں ترمیم یا تحریف کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے بلکہ شریعت کے احکام نے انسانی تقاضوں کو پورا کیا ہے ۔ اگر کسی حکم پر عمل آوری میں دشواری ہوتی ہے تو یہ ہماری کوتاہی اور عمل کے سبب دشواری ہوتی ہے جبکہ شریعت انسان کی کیفیات کے مطابق ہے جسے اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں ۔ مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی نے بتایا کہ بعثت نبوی ﷺ عرب میں ہوئی اور اس زمانے میں عرب پڑھے لکھے لوگ نہیں تھے اور ان میں بہت سی خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں لیکن اللہ کے رسول ﷺ نے ان کی احکام شریعت کے ذریعہ اصلاح کی ۔ صدر کل ہند پرسنل لاء بورڈ نے نکاح میں شرعی احکام کو نافذ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ خوشگوار و آسان زندگی بنانے کیلئے نکاح کے دوران شرعی احکام کا خصوصی خیال رکھیں ۔ مولانا نے بتایا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے کی جانے والی جدوجہد و کوششیں کامیابی کے حصول کے ساتھ ساتھ اللہ کی رضا کیلئے کی جارہی ہیں تاکہ بروز قیامت اپنی کوششیں پیش کرسکیں ۔ شریعت پر عمل کے ذریعہ ہم اسلام پر ہونے والے اعتراضات دور کرسکتے ہیں اور اگر کوئی طاقت شریعت میں تبدیلی کیلئے آواز اٹھاتی ہے تو ہم اس کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیشہ تیار ہیں ۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کو بدنام کرنے کا سبب نہ بنیں ۔

 

صدر مجلس اتحادالمسلمین بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ بابری مسجد کی شہادت ہندوستانی مسلمانوں پر قرض ہے اور اس قرض کو ہمیں اتارنا ہے ۔ انہوں نے بابری مسجد کے مسئلہ کو انصاف کے تقاضوں کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پرسنل لاء بورڈکو اس بات کا یقین ہے کہ اس مسئلہ میں مسلمانوں کو کامیابی حاصل ہوگی ۔ انہوں نے مسجدوں کو آباد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے نوجوانوں کو شرعی احکام کا پابند بننے کا مشورہ دیا ۔ بیرسٹر اویسی نے مولانا سلمان ندوی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص مسجد کا نہیں ہورہا ہے وہ شخص مسجد الاسلام اور اسلامی یونیورسٹی کی بات کررہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ زندہ ہے اور زندہ رہے گا کیونکہ مسلم پرسنل لاء بورڈ شخصیتوں کا محتاج نہیں ہے ۔ انہوں نے جلسہ میں موجود شرکاء سے استفسار کیا کہ کیا وہ بابری مسجد دے دینے کیلئے تیار ہیں ؟ جس پر شرکاء نے بآواز بلند انکار میں جواب دیا ۔ اسد الدین اویسی نے مسلم پرسنل لاء بورڈکی قیادت پر مکمل ایقان کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ مولانا رابع حسنی ندوی کی قیادت پر اعتماد رکھیں ۔ بابری مسجد کی قانونی لڑائی جاری رہے گی اور جو لوگ بدگمانی پھیلارہے ہیں وہ گمنامی کی وادیوں میں بھٹک کر رہ جائیں گے ۔ انہوں نے سلمان ندوی پر حکومت کے اشاروں پر کام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑی بڑی باتیں صرف حکومت کے اشاروں پر ہی ممکن ہیں ۔ اسد اویسی نے بتایا کہ پرسنل لاء بورڈ کے قیام میں اکابرین کے آنسو اور خون شامل ہیں اسی لئے یہ ادارہ 45 سال سے تحفظ شریعت کیلئے سرگرم عمل ہے ۔ انہوں نے نریندر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مہنگائی ، پٹرول ڈیزل کی قیمتوں ، پکوڑوں ، ملازمتوں اور اسٹاک اکسچینج کے انحطاط کا بھی تذکرہ کیا ۔ مولانا مفتی خلیل احمد نے مطلقہ خاتون کے نان نفقہ کے مسئلہ پر ممبئی میں ہوئے جلسہ کی یاد تازہ کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی میں ہوئے اس جلسہ میں 170 سے زائد تنظیمیں ، افراد اور شخصیتیں و دانشور داعیان تھے اور اس کے بعد آج طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر ایسا نظارہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ کے دین اور شریعت کی مدد کرنا مسلمانوں کا فریضہ ہے ۔ مولانا مفتی خلیل احمد نے اللہ کے دین کی نصرت کیلئے شریعت پر عمل آوری کو ناگزیر قرار دیا ۔ مولانا فخرالدین اشرف نائب صدر کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ ، مولانا خالدسیف اللہ رحمانی ، مولانا ڈاکٹر یٰسین علی عثمانی ، مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ ، مولانا مسعود حسین مجتہدی ، جناب ظفر یاب جیلانی ، مولانا نثار حسین حیدر آغا ، پروفیسر شکیل صمدانی ، مولانا ثناء الہدیٰ ، مولانا پروفیسر شکیل احمد نے بھی اپنے خطاب کے دوران طلاق ثلاثہ مسئلہ پر امت مسلمہ کو متحد رہنے کے علاوہ شریعت پر عمل آوری کے ذریعہ شریعت میں ترمیم کی کوششوں کو مسترد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں جو کوششیں کی جارہی ہیں انہیں ناکام بنانے کیلئے آپسی اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا جانا ضروری ہے ۔ بیشتر مقررین نے حیدرآباد میں منعقد ہوئے سہ روزہ کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈکے 26 ویں اجلاس کے کامیاب انعقاد کیلئے بیرسٹر اسدالدین اویسی ، اکبر الدین اویسی کے علاوہ دیگر تنظیموں و دانشوروں کو مبارکباد پیش کی ۔ جلسہ عام میں مولانا سید ولی رحمانی ،مولانا سید قبول پاشاہ قادری شطاری ، مولانا خالد رشید فرنگ محلی ، مولانا عمرین ، جناب الحاج محمد سلیم صدرنشین تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ ، جناب منیر الدین مختار کے علاوہ دیگر معززین موجود تھے ۔ جناب رحیم الدین انصاری مہتمم دارالعلوم حیدرآباد نے نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔ مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صدر کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کی دعاء پر 26 ویں سہ روزہ اجلاس اور جلسہ عام کا اختتام عمل میں آیا ۔

TOPPOPULARRECENT