Tuesday , December 18 2018

شریعت کے احکامات کو زندگی کا جزو بنالینے کی تلقین

مادہ پرستی اور دنیاوی مفاد کی خاطر مسلم پرسنل لاء میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش، ہندوستان میں یکساں سیول کوڈ ناقابل عمل

مادہ پرستی اور دنیاوی مفاد کی خاطر مسلم پرسنل لاء میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش، ہندوستان میں یکساں سیول کوڈ ناقابل عمل
حیدرآباد 15 فروری (راست) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تفہیم شریعت کمیٹی برائے خواتین کی جانب سے منعقدہ ایک روزہ ورکشاپ بعنوان ’’مسلم پرسنل لا اور غلط فہمیاں‘‘ بمقام پوٹی سری راملو تلگو یونیورسٹی کے آڈیٹوریم سے خطاب کرتے ہوئے سابق جج سپریم کورٹ آف انڈیا جناب سید شاہ محمد قادری نے اپنے کلیدی خطبہ میں کہاکہ تیرہویں صدی تک اسلامی قوانین کے متعلق کوئی غلط فہمیوں کا وجود نہیں تھا جیسے جیسے لوگ مادہ پرست ہوتے گئے دنیاوی مفاد کیلئے غلط فہمیوں کو پیدا کیا گیا۔ جب لوگ اسلامی قوانین سے اپنی زندگیوں کو دور کردیتے ہیں، خدا سے بے خوف ہوجاتے ہیں، پیغمبروں کی تعلیمات کی پرواہ نہیں کرتے تب غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔ اُنھوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ شریعت کے احکامات کو اپنی زندگیوں کا جزو بنالیں۔ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے ہی بندوں کو انصاف ملتا ہے۔ زندگی میں امن و سکون حاصل ہوتا ہے۔ مولانا محمد عمر مدنی نے ’’قانون بنانے کے مقاصد‘‘ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ اسلامی قانون کا مقصد ’’انسان کی زندگی کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اس کے کردار اُس کی معیشت اُس کے اثاثہ کی حفاظت کرنا ہے۔ شراب کو اس لئے حرام قرار دیا گیا کہ انسان کی زندگی کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ اُس کے کردار کو مجروح کردیتی ہے۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سکریٹری و کنوینر تفہیم شریعت کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ’’اسلامی قوانین کے ماخذ‘‘ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ قانون بنانے کا حق صرف انسانوں کے خالق کو ہی حاصل ہے کیونکہ وہی انسانی فطرت اور ضروریات کا علم رکھتا ہے اور خالق ہی قوانین بناتے ہوئے اپنی تمام مخلوقات کے ساتھ انصاف کرسکتا ہے۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ اسلامی قوانین کے چار بنیادی ماخذ ہیں۔ پہلا قرآن، دوسرا نبیؐ کی سنت، تیسرے اجماع اُمت اور چوتھا قیاس (جو قرآن و حدیث کے حقائق پر مبنی ہو) قرآن میں 6666 آیتیں ہیں جن میں سے 500 آیتیں قوانین پر ہیں جس میں سے 70 آیتیں عائلی قوانین پر ہیں۔ ایڈوکیٹ شفیق الرحمن مہاجر نے ’’قانون نکاح و تعدد ازدواج‘‘ پر مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اسلام تعدد ازدواج کی اجازت مشروط دیتا ہے اور ہندوستان میں مسلمانوں میں تعدد ازدواج کا فیصد دوسری قوموں کی بہ نسبت کم ہے۔ قانونی طور پر نکاح کی عمر کم از کم 18 سال جو مقرر کی گئی ہے وہ غیر منطقی ہے۔ بلوغ کی عمر مختلف ممالک کے موسمی حالات، غذائی عادتیں، نسلی صفات پر منحصر ہوتی ہیں۔ مولانا محمد اعظم ندوی استاد المعہد العالی الاسلامی نے ’’قانون متبنیٰ کے اثرات‘‘ پر تقریر کرتے ہوئے کہاکہ کسی کو لے پالک بنالینا اتنا آسان نہیں ہے جیسا کہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا عائلی قوانین پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے جیسا کہ قانون وراثت، قانون ولایت، قانون وصیت، قانون ہبہ، قانون نکاح وغیرہ تمام کے تمام متاثر ہوتے ہیں اس لئے اسلام میں لے پالک کی گنجائش نہیں رکھی گئی لیکن یتیم اور محتاج بچوں کی کفالت کی ترغیب دی گئی ہے۔ وکیل محمد عبدالقدیر سابق پبلک پراسکیوٹر ہائی کورٹ نے ’’اسلامی قانون طلاق و خلع‘‘ پر کہاکہ اسلام نے سب سے ناپسندیدہ حلال چیز طلاق کو قرار دیا ہے۔ اُنھوں نے عوام الناس کو مشورہ دیا کہ اس کا غلط استعمال نہ کریں۔ مولانا محمد عبدالرحیم قریشی اسٹیٹ جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ’’یونیفارم سیول کوڈ کے اثرات‘‘ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ بعض وقت ہندوستان کے عدلیہ کے جج صاحبان قرآنی آیتوں کی ترجمانی کرتے ہوئے قوانین وضع کرتے ہیں جو عربی زبان کے مزاج سے ناواقف ہوتے ہیں اس طرح خدائی قانون کی حکمتوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس ضمن میں اُنھوں نے کہاکہ مطلقہ کا تاحیات نفقہ، طلاق سے پہلے تحکیم کا مسئلہ، متبنیٰ کا مسئلہ وغیرہ سیدھے سیدھے اسلامی شریعت میں راست مداخلت ہے۔ مزید یہ کہ یکساں سیول کوڈ کا نظریہ ہندوستان کے لئے ناقابل عمل ہے۔ چونکہ یہ ملک کئی قوموں پر مشتمل ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ناگالینڈ میزورم کے عائلی قوانین جوکہ ہندوستانی دستور کا ایک حصہ ہے جس میں اُن قبائیلیوں کے تشخص کی ضمانت دی گئی ہے لہذا ہندوستانی دستور خود یکساں سیول کوڈ میں رکاوٹ ہے۔ اس ورکشاپ کا آغاز محترمہ فوزیہ تحسین قاریہ کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ محترمہ فوزیہ انجم نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ محترمہ ثمینہ تحسین صدر مسلم ویمنس انٹلیکچول فورم نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ سیدہ لطف النساء سکریٹری مسلم ویمنس انٹلیکچول فورم نے تمام کا شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT