Sunday , November 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / شریعہ لاء کیخلاف عالمی جنگ پر دینی مدارس کی سرد مہری خواب خرگوش یا تجاہل عارفانہ

شریعہ لاء کیخلاف عالمی جنگ پر دینی مدارس کی سرد مہری خواب خرگوش یا تجاہل عارفانہ

امریکہ کی جس ریاست میں میں مقیم ہوں اس کا نام نارتھ کارولینا (North Carolina) ہے ، یہ ساری ریاست ان دنوں تیزی سے ترقی کررہی ہے ۔ تاحال یہاں کے باشندے مذہبی طورپر کثیر عیسائی ہیں ، یہاں ہر علاقہ میں کچھ فاصلے پر چرچ نظر آئیگا ، جس طرح ہمارے شہر حیدرآباد کے قدیم شہر میں جابجا مساجد کی بہتات ہے ۔ یہاں کے بعض علاقہ جات میں نہایت متعصب قسم کے لوگ رہتے ہیں ۔ ریاست کے جس علاقہ میں میں مقیم ہوں وہ (Bible Belt) بائبل بیلٹ کہلاتا ہے ۔ حال ہی میں اس ریاست کے قانون دانوں نے ایک بل پاس کیا جس کی رو سے ججس پر پابندی لگائی گئی کہ وہ اپنے فیصلے جات میں “Foreign Laws” کو اہمیت نہیں دیں گے ۔ “Foreign Laws” سے صرف اور صرف “Sharia Law” مقصود ہے ۔ اس بل کو پاس کرنے پر نارتھ کارولینا امریکہ کی ان چھ ریاستوں میں شامل ہوگئی جہاں باقاعدہ قانونی طورپر ’’شریعہ لاء ‘‘ پر پابندی لگائی گئی ہے جن میں South Dakota, Louisiana, Kansas, Arizona Oklahoma  اور Tennessee شامل ہیں۔
مغربی ممالک کی طرف حالیہ عرصہ میں اہل اسلام کی ہجرت ، دشمنانِ دین کے لئے تکلیف دہ ثابت ہورہی ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مغرب میں خاندانی نظام ، گھریلو معاشرت ، فیملی سسٹم مکمل طورپر تباہ ہوچکا ہے ۔ خواتین کسی بھی ملک کی کیوں نہ ہوں فطرت و طبیعت میں یکساں ہوتی ہیں اور اپنے ذہن و دماغ میں وفادار ، محبت کرنے والا ، خیال رکھنے والا شریک حیات کے خواب و خیال میں پروان چڑھتی ہیں۔ مغربی ممالک میں اسلام کی طرف رغبت کرنے والوں میں ایک کثیرتعداد خواتین کی ہے اور ان میں بیشتر وہ خواتین ہیں جو کسی مہاجر مسلمان سے شادی کرنے کی وجہ سے مشرف بہ اسلام ہوئی ہیں اور وہ خواتین غیرمسلم مغربی مردوں کے مقابل میں مسلمان شوہروں میں خود کو زیادہ محفوظ و مسرور پاتی ہیں ۔ مخفی مباد کہ جب ہم امریکہ میں کوئی Open House یا پروگرام کرتے ہیں امریکی باشندوں کو دعوت دیتے ہیں تو امریکی خواتین ، مسلمان خواتین کا بہت ہی گہرائی سے جائزہ لیتی ہیں ، ان کے لباس ، رہن سہن، پکوان اور طرزتکلم سے حد درجہ متاثر ہوتی ہیں اور امریکی خواتین ، مسلمان خواتین کے مقابل کئی معاملات میں خود کو کم تر محسوس کرتی ہیں ۔ ایک مرتبہ ایک امریکی دوست جس کی عمر ۷۰ سے متجاوز ہے وہ مجھ سے ملاقات کے لئے آیا ، اس دوران ایک فلسطینی خاتون اپنے نوجوان بچے کو مسجد لائی تھی اور وہ خاتون ، خواتین کے کمرے سے پس پردہ مجھ سے اس کے پچے کی شادی کے سلسلہ میں گفتگو کررہی تھی ۔ اُس کا لڑکا اور امریکی شخص دونوں میرے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ ہماری گفتگو سے امریکی شخص کارنگ بدل رہا ہے اور وہ بے ساختہ بلند آواز سے کہنے لگا کہ میری لڑکی چالیس سالہ ہے اس نے شادی نہیں ، اگر آپ لوگ راضی ہوں تو میں کارروائی آگے بڑھاتا ہوں ، ہم لوگ بات کو بدل دیئے ۔ وہی شخص ایک مرتبہ مجھ سے کہنے لگا کہ میری بچی شادی کرنا نہیں چاہتی اور جب میں مسلمان معصوم بچوں کو دیکھتا ہوں جس طرح وہ تمہاری عزت کرتے ہیں میں بھی اپنی نواسے اور نواسی کے لئے ترستا ہوں ۔ غرض امریکی و مغربی فیملی نظام تباہ ہوچکا ہے لہذا مغربی ممالک میں مقامی خواتین کا اسلام کی طرف بڑھتے رجحان کے سبب پوشیدہ زہر آلود مغربی دماغ بہت پریشان ہے اور وہ مغربی خواتین کو اسلام اور مسلمانوں سے بدظن کرنے کے لئے اسلام پر  بے بنیاد الزامات تراشنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں ۔
“Sharia Law How to Control Women”   نامی کتاب میں فاضل مصنف اپنی بددیانتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، کسی حوالہ و سند کے بغیر پورے وثوق سے بیان کرتا ہے :

According to Islamic teachings, females have no rights. Women and girls can be punished, beaten, or even killed, for disobying the males in their families.
’’اسلامی تعلیمات کے مطابق خواتین کے کوئی حقوق نہیں ، خواتین اور لڑکیوں کو مردوں کی نافرمانی کی پاداش میں سزا دی جاسکتی ہے ، مارا جاسکتا ہے حتی کہ ان کو قتل کیا جاسکتا ہے ‘‘۔
وہ مزید اسلامی تعلیمات پر تہمت اور جھوٹ باندھتے ہوئے لکھتا ہے :
In Muslim Countries With no restrictions on honor killing, Wives and daughters, and even Mothers have been beaten, burned by acid, stoned, raped, even buried alive and Under sharia Law, there are no legal or social repercussions for the deaths and disfigurements.
یعنی وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کررہا ہے کہ اسلام میں غیرت کے نام پر قتل کرنے پر کسی قسم کی کوئی پابندی یا سزا نہیں ہے ۔ بیوی ، بچی حتی کہ ماؤں کو مارا جاتا ہے ، ایسڈ سے جلایا جاتا ہے ، پتھر مارکر قتل کیا جاتا ہے ، ان سے زنا کیا جاتا ہے حتی کہ ان کو زندہ جلایا جاتا ہے یا زندرہ درگور کیا جاتا ہے اور ان جیسی اموات پر کوئی مواخذہ نہیں ۔
یہ پیراگرف پڑھنے کے بعد آپ کو اندازہ ہوجائیگا کہ یہ اسلام کے خلاف جھوٹ ، دروغ گوئی کا سہارا لے رہے ہیں اور بے بنیاد الزام تراشی کررہے ہیں لیکن اس قسم کا پروپگنڈہ اسلام کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے میں مؤثر رول ادا کررہا ہے ۔ کیا ہم یہ کہکر چھوڑدیں کہ یہ سب بکواس ہے ، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ۔ یا ہمیں اس کاسدِّباب یا تدارک کرنا چاہئے ۔ واضح رہے کہ یہ کتاب امریکہ میں چھپی ہے اور ناشر کو پتہ ہے کہ یہ مسئلہ کتنا حساس ہے اور آپ کو پتہ ہونا چاہئے کہ امریکہ کے لوگ قانونی گرفت سے حددرجہ ڈرتے ہیں ۔ اگر ناشر کے خلاف عدالت سے رجوع ہو اور ایک مسلمہ حقیقت کے خلاف غلط معلومات دینے پر کیس کیا جائے اور ثابت ہوجائے تو اس کو اتنا ہرجانہ ادا کرنا ہوگا کہ وہ اس کی ساری زندگی کی پونجی متاثر ہوجائیگی ۔ اس کے باوجود ناشر یہ کتاب شائع کرتا ہے ،اس کا مطلب یہ ہیکہ وہ قانونی طورپر حددرجہ مطمئن ہونے کے بعد یہ اقدام کررہا ہے اور آپ مصنف یا ناشر کو قانون کی گرفت میں لانے کی کوشش کریں تو میرے اندازہ کے مطابق ان کے پاس پہلے سے اس کا قانونی جواب موجود ہے ۔ انگریزی عبارت کی ترکیب کو دیکھ کر آپ اندازہ کریں گے کہ منصف نہ صرف اسلامی و شرعی احکام و قوانین پر حد درجہ مہارت رکھتے ہیں بلکہ وہ زبان و بیان پر بھی کافی قدرت رکھتا ہے۔ آپ سابقہ انگریزی فقرہ کو پھر ایک بار پڑھیں الفاظ کے انتخاب و بندش پر غور کریں مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے ادعاجات میں ضرور اخبارات و میگزینس کی رپورٹ پیش کریں گے جس میں لکھا ہوگا کہ کسی مسلم ملک میں کسی مسلمان نے غیرت کے نام پر اپنی بہو ، بیٹی ، بیوی یا ماں کو قتل کیا ، دنیا کے کسی کونے میں کوئی مسلمان اس قسم کی حرکت کرتا ہے تو ہمارا دشمن اس کو اسلام سے جوڑکر پیش کرتا ہے ۔ کیا موجودہ عالمی صورتحال کے تناظر میں دینی مدارس میں طلبہ و علماء کو عصر حاضر کے چیلنجس کا سامنا کرنے کا قابل بنانے کیلئے اصحاب حل و عقد کو دینی مدارس کے نصاب و طرز تدریس میں اضافہ و تبدیل کرنے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں ہورہی ہے ؟ کیا دینی دینی مدارس کے فارغین عصر حاضر میں اسلام کی نمائندگی کرنے میں کامیاب ہیں ؟

TOPPOPULARRECENT