Monday , September 24 2018
Home / جرائم و حادثات / شریف النفس اور معمر مسلم شخص کا ہندو نوجوان نے بے رحمی سے قتل کر دیا

شریف النفس اور معمر مسلم شخص کا ہندو نوجوان نے بے رحمی سے قتل کر دیا

حیدرآباد ۔ 18 ؍ جنوری ( سیاست نیوز) شہر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے والے ایک واقعہ میں آج ایک مسلم عمر رسیدہ متقی پرہیزگار شخص کا بہیمانہ طور پر قتل کیا گیا ۔ مقتول کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے دوسرے فرقہ کے نوجوان کو ماں سے گالی گلوج کرنے سے منع کیا تھا جس پر برہم ہو کر اس نوجوان نے مسلم ضعیف شخص کو تلوار سے وار کر کے شہید ک

حیدرآباد ۔ 18 ؍ جنوری ( سیاست نیوز) شہر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے والے ایک واقعہ میں آج ایک مسلم عمر رسیدہ متقی پرہیزگار شخص کا بہیمانہ طور پر قتل کیا گیا ۔ مقتول کا قصور صرف اتنا تھا کہ انہوں نے دوسرے فرقہ کے نوجوان کو ماں سے گالی گلوج کرنے سے منع کیا تھا جس پر برہم ہو کر اس نوجوان نے مسلم ضعیف شخص کو تلوار سے وار کر کے شہید کر دیا ۔ اس واقعہ کے بعد شہر کے حساس علاقوں میں چوکسی اختیار کرلی گئی۔ تفصیلات کے بموجب 65 سالہ جناب سید نور الدین ساکن اعظم پورہ روبرو جی ایچ ایم سی وارڈ آفس جو پیشہ سے ریٹائرڈ ایروناٹیکل انجنیئر تھے وہ سعودی عربین ایر لائنس سے سبکدوشی کے بعد حیدرآباد منتقل ہوگئے تھے ۔ آج شام وہ عشاء کی نماز کے بعد اپنے مکان واپس لوٹے تھے کہ ان کے پڑوس میں رہنے والی مقامی بی جے پی لیڈر مہیشوری اور اس کے بیٹے راجیشور کے درمیان جھگڑا چل رہا تھا اور نورالدین نے ماں بیٹے کے جھگڑے کی یکسوئی کے لئے ان کے مکان پہنچ کر راجیشور کو ڈانٹ ڈپٹ کی اور اس کی ماں سے جھگڑا نہ کرنے کا مشورہ دیا ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ راجیشور نے سنکرانتی کے موقع پر اپنے مکان میں ڈی جے ریکارڈنگ لگائی تھی جس کی نورالدین نے مخالفت کی تھی ۔مقامی عوام نے یہ الزام عائد کیا کہ مہیشوری اور اس کے دو بیٹے راکیش جو چادرگھاٹ پولیس اسٹیشن کا روڈی شیٹر ہے اور راجیش کی مدد سے اپنے مکان میں ایک ناگ دیوتا کی مندر تعمیر کی اور اکثر بلند آواز سے بھجن اور دیگر پوجا کی ریکارڈنگ بجایا کرتے جس سے مقامی افراد کو کافی تکلیف ہو رہی تھی ۔ سید نورالدین نے بھی مہیشوری اور اس کے بیٹوں کی جانب سے بھجن کے ذریعہ علاقہ میں انتشار پیدا کرنے کی کوششوں پر اعتراض کیا تھا ۔ بتایا جاتا ہے کہ راجیشور نے ضعیف نورالدین سے انتقام کی غرض سے اپنے مکان میں موجود تلوار سے ان پر آج رات حملہ کر دیا اور کئی ضربات لگائے ‘ اس حملہ میں نورالدین شدید زخمی ہوگئے اور اپنے مکان کے روبرو خون میں لپ پت حالت میں گر پڑے ۔ مقامی نوجوانوں نے شدید زخمی نورالدین کو چادرگھاٹ کے ایک خانگی دواخانہ منتقل کیا جہاں پر ڈاکٹروں نے ان کی موت کی توثیق کی ۔ بعدازاں پولیس نے نعش کو دواخانہ عثمانیہ کے مردہ خانہ منتقل کیا ۔ قتل کی اطلاع پر اعظم پورہ اور دیگر اطراف و اکناف کے علاقوں میں کشیدگی پیدا ہوگئی جس کے نتیجہ میں علاقہ میں بھاری پولیس فورس متعین کر دی گئی ۔ حیدرآباد کے ایڈیشنل کمشنر لا اینڈ آرڈر مسٹر انجنی کمار اور ایسٹ زون ڈی سی پی ڈاکٹر اے رویندر مقامی وارادت پر پہنچ کر وہاں کا معائنہ کیا اور سراغ رسانی دستہ کلوز ٹیم کو طلب کر لیا ۔ پولیس نے رات دیر گئے مقتول کا دواخانہ عثمانیہ میں پوسٹ مارٹم کرایا اور نعش کو ورثاء کے حوالے کر دیا گیا ۔ ڈپٹی کمشنر پولیس ڈاکٹر رویندر نے بتایا کہ ملزم راجیشور کو فوری گرفتار کرلیا گیا ہے ‘اس کی تفتیش جاری ہے اور جبکہ چادرگھاٹ پولیس نے راجیشور کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرلیا ہے۔سید نورالدین کو دو لڑکے اور چار لڑکیاں ہیں اور وہ شریف النفس شخص کی حیثیت سے علاقہ میں جانے جاتے تھے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT