Monday , August 20 2018
Home / ہندوستان / شری شری کے ایودھیا میں داخلہ پر حکومت پابندی لگائے : ویدانتی

شری شری کے ایودھیا میں داخلہ پر حکومت پابندی لگائے : ویدانتی

گورکھپور، 4 مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سابق ممبر پارلیمنٹ اور شری رام جنم بھومی ٹرسٹ سے منسلک ڈاکٹر رام ولاس ویدانتي نے اترپردیش حکومت سے شری شری روی شنکر کے اجودھیا میں داخلہ پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے ۔دہلی روانہ ہونے سے پہلے ڈا[؟]کٹر ویدانتي نے کل شام یہاں صحافیوں سے کہا کہ شری شری کا اجودھیا معاملہ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ وہ بلا وجہ ماضی میں ہونے والے معاہدوں سے الگ فارمولہ بنا رہے ہیں جو شری رام جنم بھومی معاملہ سے وابستہ لوگوں کو برداشت نہیں ہوگا، اس لیے ان کے اجودھیا میں داخلہ پر پابندی عائد کی جانی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ رام جنم بھومی معاملہ کو ملک کے سنتوں ، آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے نمایاں طور پر اٹھایا ہے اور اس کے لئے بہت سے سنت، پریشدکے کارکن اور بی جے پی لیڈر جیل گئے ہیں۔ اس پورے معاملہ میں شری شری کا کہیں پتہ نہیں تھا۔ اچانک اس معاملہ میں وہ مداخلت کر رہے ہیں جسے تحریک سے منسلک کوئی بھی شخص یا تنظیم قبول نہیں کرے گی۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ شری شری آرٹ آف لیونگ نام کا این جی او چلاتے ہیں ایسے میں رام جنم بھومی کو بھی وہ این جی او ہی سمجھ رہے ہیں اس لیے انہیں یہ کاروبار نہیں کرنے دیا جائے گا۔ سابق ایم پی نے شری شری پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ کسی دیوی دیوتا کو نہیں مانتے ہیں۔ایسے میں بھگوان شری رام کے تئیں اچانک یہ محبت کسی کو گلے نہیں اتر رہی ہے ۔ شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کی باتوں پر انہوں نے کہا کہ رضوی اس میر باقی کے خاندان کے ہیں جنہوں نے بابری مسجد بنوائی تھی۔انہوں نے کہا کہ ملک کے 80 فیصد مسلمان چاہتے ہیں کہ مندر وہیں بنے جہاں رام للا براجمان ہیں، توپھر کسی اور کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے ۔ ڈاکٹر ویدانتي یہاں گورکھپور میں ہولی جلوس میں شامل ہونے آئے ہوئے تھے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT