Saturday , December 16 2017
Home / ہندوستان / ششی کلا سے خصوصی سلوک کی تحقیقات ، چیف منسٹر کرناٹک کا حکم

ششی کلا سے خصوصی سلوک کی تحقیقات ، چیف منسٹر کرناٹک کا حکم

جیل کے اعلیٰ عہدیداروں میں ’’خصوصی سلوک‘‘ کے سلسلہ میں جھڑپ

بنگلورو 13 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر کرناٹک سدارامیا نے آج سنٹرل پریزن کی مبینہ بے قاعدگیوں کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا جن میں انا ڈی ایم کے کی قائد وی کے ششی کلا کے ساتھ خصوصی سلوک کی تحقیقات کا حکم بھی شامل ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ خاطی افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ بنگلورو سنٹرل پریزن میں بے قاعدگیوں کے الزام کا سنجیدہ نوٹ لیا گیا ہے اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ سدارامیا ضلع رائچور کے دورہ پر ہیں۔ اُنھوں نے اپنے ٹوئٹر میں اِس کا انکشاف کیا ہے۔ ایچ ایس ستیہ نارائن راؤ، ڈی آئی جی محابس ڈی روپا نے کل اپنی ایک رپورٹ داخل کی ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جیل کے قید خانے سے ششی کلا کیلئے خصوصی غذا فراہم کی جارہی ہے۔ یہ قید خانے کے قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ افواہیں ہے کہ باورچی خانے سے احکام جاری کرنے کے باوجود اور مسٹر راؤ کے علم میں اِس کی کارکردگی لائے جانے کے باوجود ششی کلا کے ساتھ خصوصی سلوک کا سلسلہ جاری ہے۔ مبینہ طور پر اِس کے لئے دو کروڑ روپئے کی رشوت دی گئی ہے۔ الزامات بدبختانہ ہیں اور مسٹر راؤ کے خلاف بھی ہیں۔ روپا نے جو رپورٹ پیش کی ہے اُس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ترجیحی سلوک کے بارے میں سوال پر پُرغرور رویہ اختیار کیا جارہا ہے۔ اِس اسکام کے سرغنہ مبینہ طور پر عبدالکریم تیلگی ہیں جو جعلی اسٹامپ پیپر مقدمے کے ملزم ہیں۔ اِن کے ساتھ بھی ترجیحی سلوک جاری ہے۔ ششی کلا اپنے دو رشتہ داروں وی این سدھاکرن اور الاوا راسی کے ساتھ سنٹرل پریزن میں محروس ہیں۔ اُنھیں فروری میں مجرم قرار دیا گیا تھا کیوں کہ اُن کے اثاثے جات اُن کی آمدنی سے غیر متناسب تھے۔ دریں اثناء ایک سینئر پولیس عہدیدار نے الزام عائد کیاکہ ششی کلا کے ساتھ ترجیحی سلوک کیا جارہا ہے۔ ڈی آئی جی محابس ڈی روپا نے اپنے الزامات پر مبنی چار صفحات کی رپورٹ داخل کی ہے۔ ڈی آئی جی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اُن کی معلومات کے مطابق تیلگی چلنے پھرنے سے قاصر ہیں اور نقل و حرکت کے لئے وہیل چیر استعمال کررہے ہیں۔ اُنھوں نے آج ایک پریس کانفرنس میں روپا کے الزامات کی تردید کی اور کہاکہ ششی کلا کے ساتھ کوئی غیر مستحقہ سلوک نہیں کیا جارہا ہے۔ قید خانے میں کوئی خصوصی باورچی خانہ نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ آزادانہ و کھلی تحقیقات کے بغیر ڈی روپا نے صرف افواہوں پر یقین کرتے ہوئے بغیر کسی ثبوت کے اپنی رپورٹ پیش کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT