Saturday , November 18 2017
Home / آپ کے سوال / شعبان کے آخری دن روزہ رکھنا

شعبان کے آخری دن روزہ رکھنا

سوال :  کیا  15 شعبان کے روزے کے بعد ختمِ شعبان تک روزہ رکھنا منع ہے ؟ کیونکہ میں نے سنا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نصف شعبان کے بعد روزے رکھنے سے منع کیا ہے ؟
محمد برہان الدین،قادری چمن
جواب :   جو شخص ماہ شعبان میں روزے رکھنے کا عادی ہے وہ سارا مہینہ روزہ رکھ سکتا ہے ۔ حدیث شریف میں ’’یوم الشک‘‘ روزہ کی ممانعت ہے ۔ یعنی صرف 30 شعبان کو اس نیت سے روزہ رکھنا کہ اگر چاند ہوگیا تو فرض رمضان کا ‘ چاند نہ ہو تو روزہ نفل شعبان کا ۔ اس کو شک کے دن کا روزہ کہتے ہیں۔ اس سے پرہیز کریں۔
مسجد اور طہارت خانہ کی تعمیر
سوال :  کیا جہاں نماز پڑھی گئی وہاں طہارت خانے بنائے جاسکتے ہیں یا وہ مقام ہمیشہ نماز ہی کیلئے رہے گا ۔ایک مسجد کی تنگی کی وجہ نماز پڑھی جاتی تھی، اب مسجد کو کشادگی کی بناء وہاں طہارت خانے بنائے گئے ہیں۔ برائے کرم جواب دیں تاکہ مسجد کی کمیٹی کی رہبری ہوسکے ؟
ممتاز خان، دبیر پورہ
جواب :  مسجد تا قیامت مسجد رہے گی ، اب اس پر نماز کے علاوہ کسی دوسرے مقصد میں اس کا استعمال شرعاً درست نہیں۔ البتہ مسجد میں تنگی کی وجہ سے نماز کے لئے متعینہ حصے کے علاوہ مسجد کی متصلہ اراضی پر یا صحن مسجد میں نماز ادا کی گئی ہو تو اس متصلہ اراضی یا صحن مسجد میں امام مؤذن کے لئے کمرے یا طہارت خانہ بنانا شرعاً جائز ہے۔
درمختار برحاشیہ رد المحتار جلد 1 ، کتاب الصلاۃ میں ہے : و کرہ تحریما الوط ء فوقہ والبول والتغوط لانہ مسجد الی عنان السماء ۔ رد المحتار میں ہے : و کذا الی تحت الثری (و اتخاذہ طریقا بغیر عذر) و صرح فی القنیۃ لفسقہ با عتبارہ (وادخال نجاسۃ فیہ و علیہ)
لہذا نماز کے لئے مختص حصے میں بوقت توسیع طہارت خانہ بنانا شرعاً مکروہ تحریمی ہے اور اگر وہ اراضی مسجد سے متصل ہو یا صحن مسجد میں ہو لیکن تنگی کی وجہ اس میں نماز ادا کی گئی ہو تو شرعاً متصلہ اراضی یا صحن مسجد میں طہارت خانہ بنانا درست ہے۔

نجاشی کا اسلام
سوال :  روایتوں میں ہمیں ملتا ہے کہ حبشہ کا بادشاہ نجاشی جب انتقال کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ غائبانہ پڑھی ۔ بعض کتابوں میں مجھے یہ بات ملی کہ نجاشی اسلام قبول نہیں کیا تھا۔
لہذا آپ سے التجا ہے کہ ملک حبش کے بادشاہ نے اسلام قبول کیا تھا یا نہیں ؟ وضاحت فرمائیں ۔
عبدالقدوس، ٹولی چوکی
جواب :  حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں افریقی ملک ، حبشہ  (Ethopia) پر اصحمہ بن ابجر نامی نجاشی حکومت کرتا تھا ۔ یہ وہی نیک دل حکمراں تھا جس کی سرپرستی میں 5 نبوی میں مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے جانے والے مسلمانوں نے نہایت امن و سکون سے وقت گزارا تھا ۔
6 ھ/ 628 ء میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے نام بھی ایک والا نامہ تحریر فرمایا ، جسے حضرت عمرؓ و بن امیہ الضمری اس کے پاس لے کر گئے ۔ نجاشی نے یہ نامہ مبارک پڑھا تو اس نے فوراً اسلام قبول کرلیا اور کہا : میں گواہی دیتا ہوں اور قسم کھاتا ہوں کہ آپ وہی نبی امی ہیں جن کا اہل کتاب انتظار کر رہے ہیں اور جس طرح حضرت موسیٰؑ نے راکب الحمار (گدھے کے سوار) کے عنوان سے حضرت عیسیٰؑ کی آمد کی بشارت دی ہے ، اسی طرح راکب الجمل (اونٹ سوار) سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے کی خوش خبری دی ہے اور مجھے آپؐ کی رسالت کا اس درجہ یقین ہے کہ عینی مشاہدے کے بعد بھی میرے یقین میں اضافہ نہ ہوگا (ابن قیم : زادالمعاد ، 3 : 690 ، الزرقانی : شرح المواھب ، 343:3 ۔ 345 )
اس کے علاوہ اس نے اپنے بیٹے کو حبشہ کے ساٹھ آدمیوں کے ہمراہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روانہ کیا لیکن سوء اتفاق سے ان کی کشتی سمندر میں ڈوب گئی اور اس پر سوار تمام لوگ ہلاک ہوگئے۔ رجب 9 ھ میں جب اس کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو نہ صرف اس کی موت کی اطلاع دی بلکہ اس پر غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھائی (البخاری ، کتاب الجنائز)۔ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جانشین کو بھی اسلام کی دعوت دی ، مگر اس کا اسلام لانا ثابت نہیں ہے۔

عدالت میں چھوٹی گواہی دینا
سوال :  فریق ثانی کے خلاف عدالت میں کسی شخص کو اجرت پیسے دیکر جھوٹی گواہی دلوانا کیسا ہے ؟ جبکہ عدالت کی جانب سے قبل از بیان خدا کے نام پر حلف دلوایا جاتا ہے ۔ خدا کی قسم میں جو بھی کہوں گا سچ کہوں گا ، سچ کے سوا جھوٹ نہیں کہوں گا ؟
مبشر خان، مانصاحب ٹینک
جواب :  جھوٹی گواہی دینا اور جھوٹی گواہی دلوانا دونوں کبیرہ گناہ ہیں۔ دونوں گنہگار ہیں ۔ ان دونوں پر فی الفور توبہ کرنا اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا عزم صمیم کرنا لازم ہے ۔
ازراہ مذاق طلاق دینا
سوال :  جویریہ کو انکے شوہر نے گھریلو تکرار کے دوران تین مرتبہ طلاق طلاق طلاق کہا ۔ بعد میں یہ کہہ رہا ہے کہ ’’ میں نے مذاق سے کہا ہوں‘‘ جویریہ حاملہ ہے ۔ ایسی صورت میں شرعاً کیا حکم ہے ؟
نام …
جواب :  صورت مسئول عنہا میں شوہر نے جویریہ کو اگر مذاقاً طلاق دی ہے تو بھی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر تعلق زوجیت بالکلیہ منقطع ہوگیا ۔ عالمگیری جلد اول کتاب الطلاق فصل فیما یقع طلاقہ میں ہے ۔  وطلاق اللاعب والھازل بہ واقع ۔ اور اسی کتاب میں ہے ۔ وزوال حل المناکحۃ متی تم ثلاثا۔ اب بغیر حلالہ دونوں آپس میں دوبارہ عقد بھی نہیں کرسکتے ۔ کنز الدقائق کتاب الطلاق فصل فیما یحل بہ المطلقۃ میں ہے : و ینکح مبانتہ فی العدۃ و بعدھا لا المبانۃ بالثلاث ولو حرۃ و بالثنتین لو أمۃ حتی یطاھا غیرہ ۔ حاملہ کی عدت و ضع حمل (زچگی) پر ختم ہوتی ہے ۔ فتاوی عالمگیری جلد اول باب العدۃ ص : 528 میں ہے ۔ ولیس للمعتدۃ بالحمل مدۃ سواء ولدت بعد الطلاق او الموت بیوم أو أقل ۔

نماز استسقاء
سوال :  ہر طرف برسات کی کمی ہے۔ شہر ، دیہات گاؤں ہر جگہ بارش کی قلت ہے۔ تمام لوگ پریشان ہیں۔آپ سے معروضہ یہ ہے کہ استسقاء کا مطلب کیا ہے۔ اس کی شرعی حیثیت اور نماز کا طریقہ کیا ہے ۔ ہم میں سے اکثر لوگ اس سے واقف نہیں ہیں۔ ہر شخص کو اس سے واقف ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ شخصی یا خاندانی معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی اور نازک مسئلہ ہے۔ براہ کرم اس کے متعلق شرعی احکامات سے باخبر فرمائیں تو باعث تشکر ہوگا۔
محمد فرخان علی ، نامپلی
جواب : استسقاء عربی لفظ ہے جس کے معنی بارش طلب کرنے کے ہیں اور اصطلاح میں توبہ و استغفار کے ذریعہ بارش برسنے کی دعاء کرنے کا نام استسقاء ہے ۔ عموماً خدا کی نافرمانی گناہ اور معصیت کی کثرت سے دنیا میں بلائیں نازل ہوتی ہیں اور بارش کا نہ برسنا بھی ایک عظیم بلا اور بہت بڑی مصیبت ہے۔ ایسے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونا گناہوں پر پشیمان و نادم ہونا اور ان کی بخشش و معافی کے لئے صدق دل سے توبہ کرنا، گر یہ وزاری اور عاجزی و مسکنت کا اظہار کرنا تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئے اور اس مصیبت سے نجات نصیب ہو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
استغفروا ربکم انہ کان غفارا یرسل السماء علیکم مدرارا (سورہ النوح / 11 ) (تم اپنے پروردگار سے معافی مانگو یقیناً وہ گناہوں کو خوب بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان کو مسلسل برسائیگا)
یہ آیت شریفہ استسقاء (بارش طلبی) کے لئے دلیل ہے کہ بارش کے نزول کیلئے دعاء ، توبہ اور استغفار کرناہے۔ چنانچہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے پاس استسقاء صرف دعاء اور توبہ کا نام ہے، اس میں کوئی نمازباجماعت نہیں البتہ تنہاتنہا پڑھ سکتے ہیں تاہم صاحبین یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد رحمتہ اللہ کے پاس نماز باجماعت بلا اذان و اقامت ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک اور خلفاء راشدین وغیرہ کے دور میں بھی استسقاء کا اہتمام کیا گیا۔امام علاء الدین ابوبکر بن مسعود الکاسانی الحنفی نے بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع ج : 1 میں نماز استسقاء سے متعلق مبسوط و مفصل بحث کی ہے۔ چنانچہ آپ نے ایک حدیث نقل کی۔
’’ انہ صلی الجمعۃ فقام رجل فقال : یا رسول اللہ ! اجدبت الارض وھلکت المواشی فاسق لنا الغیث، فرفع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یدیہ الی السماء ودعا فما ضم یدیہ حتی مطرت السماء، فقال رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم : للہ در ابی طالب، لوکان فی الاحیاء لقرت عیناہ ، فقال علی رضی اللہ عنہ : تعنی یا رسول اللہ قولہ :

وأبیض یستسقی الغمام بوجھہ + ثمال الیتامی عصمۃ للارامل
ترجمہ : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی نماز ادا فرمائی تھی کہ ایک صاحب کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ زمین خشک ہوگئی ۔ جانور و مویشی ہلاک ہوگئے۔ لہذا آپ ہمارے لئے بارش کی دعا فرمائیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دست مبارک دراز کئے اور دعاء فرمائے۔ ابھی آپ نے دعاء ختم کر کے اپنے دست مبارک کو ملایا بھی نہ تھا کہ بارش برسنا شروع ہوگئی۔ آپ نے فرمایا : ابو طالب نے کیا ہی خوب کہا ہے اگر وہ زندہ ہوتے تو آج ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجاتیں۔ حضر ت علی کرم اللہ وجھہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ ابو طالب کا وہ شعر مراد لے رہے ہیں جس میں انہوںنے کہا کہ آپ کے رخ زیبا کے وسیلہ سے بادلوں سے برسات طلب کی جاتی ہے ۔ آپ یتیموں کے سہارا اور بیواؤں کے آسرا ہیں۔ آپ نے فرمایا : ہاں اس سے میری مراد یہی ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد خلافت میں قحط ہوا تو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو منبر پر بٹھایا اور خود آپ کے بازو کھڑے ہوئے اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وسیلہ سے طویل دعاء کی پس آپ منبر پر سے اترے نہ تھے کہ بارش کا نزول ہوا۔ انہ خرج بالعباس فاجلسہ علی المنبر و وقف بجنبہ یدعو و یقول : اللھم انا نتوسل الیک بعم نبیک صلی اللہ علیہ وسلم و دعا بدعاء طویل فما نزل عن المنبر حتی سقوا (بخاری فی الاستسقاء باب سؤال الناس الامام الاستسقاء اذقحطوا)

عالمگیری ج : 1 ص : 153 تا 154 الباب التاسع عشر فی الاستسقاء میں ہے : مستحب ہے کہ لوگ تین دن تک مسلسل نماز استسقاء کے لئے پاپیادہ بوسیدہ کپڑوں میں سر جھکائے ہوئے اللہ تعالیٰ کے لئے عاجری اور تواضع کا اظہار کرتے ہوئے نکلیں اور روزانہ نکلنے سے پہلے خیرات و صدقہ کریں اور امام دو رکعت جہر کے ساتھ نماز پڑھائے گا۔ پہلی رکعت میں سورۃ الاعلی اور دوسری رکعت میں سورۃ الغاشیہ کی تلاوت کرے۔ نماز کے اختتام کے بعد عوام الناس کی طرف رخ کرکے زمین پرکھڑا ہوکر ایک یا دو خطبہ دے اوراللہ تعالیٰ سے دعا مانگے۔ تسبیح و تہلیل کرے تمام مسلمانوں کیلئے مغفرت کی دعاء کرے اور توبہ و استغفار کی تجدید کرتے ہوئے نزول بارش کیلئے نہایت تضرع سے دعاء مانگے۔

TOPPOPULARRECENT