Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / شعبہ اردو ۔ جامعہ عثمانیہ کے تحت ایک روزہ قومی سمینار و معائب سخن کا رسم اجراء

شعبہ اردو ۔ جامعہ عثمانیہ کے تحت ایک روزہ قومی سمینار و معائب سخن کا رسم اجراء

جناب زاہد علی خاں و پروفیسر اشرف رفیع کی مخاطبت ، فلم پروڈیوسر ، ڈائرکٹر سمیرا عزیز کی خصوصی شرکت
حیدرآباد ۔ 11 ۔ نومبر : ( پریس نوٹ ) : زندہ قومیں وہ ہوتی ہیں جو اپنے وجود کا ثبوت پیش کرتی رہتی ہیں ۔ زندگی کے ہر شعبہ میں خواہ وہ سماجی ہو کہ سیاسی صحافتی ہو کہ ادبی فنون لطیفہ میں شعر و شاعری کو جو افضلیت حاصل ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ، شعر و شاعری بالخصوص صنف غزل شیشہ گری کا فن ہے اور شیشہ گری تکنیک کی متقاضی ہوتی ہے ۔ شاعر ان باتوں سے واقف نہ ہو تو اس کا فن سامع کے لیے دلچسپی کا سبب ہرگز نہیں بن سکتا ۔ اس موضوع کے تحت ڈاکٹر معید جاوید صدر شعبہ جامعہ عثمانیہ بہ اشتراک واحد نظام آبادی نے انہی حقائق کے پیش نظر اپنی کتاب ’ معائب سخن ‘ و ہدایت نامہ شاعری تصنیف نہ صرف شائع کروائی بلکہ اسکے شایان شان رسم اجراء بھی عمل میں لائی ۔ ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست بحیثیت مہمان خصوصی مخاطب کرتے ہوئے کیا اور مصنف کو مبارکباد پیش کی ۔ انہوں نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب وقت کی اہم ضرورت تھی کیوں کہ نئی نسل شاعری کے فنی محاسن و تکنیکی پہلوؤں سے واقف نہیں ہے ۔ یہ کتاب اردو ادب کے جاننے والوں ، طلباء ، ریسرچ اسکالرس ، اساتذہ و مبتدی شعراء حضرات کے لیے یکساں طور پر مفید ثابت ہوگی ۔

یہ سمینار و جلسہ 9 نومبر کو این ٹی آر آڈیٹوریم باغ عامہ نامپلی میں منعقد ہوا ۔ صدارت پروفیسر اشرف رفیع سابق صدر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ نے کی ۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے ہونہار و قابل شاگرد پر بجا طور پر فخر کرسکتی ہوں کہ وہ جواں سال شاعر ہیں ۔ آج جس کتاب کی رسم اجراء عمل میں آئی ہے بلا شبہ اس کتاب کا شعر و سخن کے زمرے میں منفرد و ممتاز مقام رہے گا ۔ اس موضوع پر دکن میں آج تک کوئی ایسی کتاب شائع نہیں ہوئی ۔ انہوں نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ معائب سخن ہدایت نامہ شاعری پر مبنی کتاب ہے ۔ جس کی اہمیت و افادیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس کے مطالعہ سے شاعری کے قواعد یعنی بحور ، قوافی ، ردائف اور شاعری کے دیگر فنی مسائل کو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے ۔ معزز مہمان پروفیسر ایس اے شکور سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی نے کہا کہ ڈاکٹر معید جاوید ایک عملی آدمی ہیں ۔ ان کا دور صدارت حقیقی معنوں میں جامعہ عثمانیہ کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیوں کہ اس قلیل عرصہ میں ہمہ لسانی مشاعرے کے علاوہ دو بڑے قومی سمینار کا منعقد کرنا اس کا بین ثبوت ہے ۔ انہوں نے یہ امید بھی جتائی کہ ڈاکٹر معید جاوید شعبہ اردو کو مزید بلندیوں پر لے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ معائب سخن کی اشاعت اور سمینار کے انعقاد پر میں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں اور ضروری ہے کہ اس کتاب کو نصاب میں شامل کیا جانا چاہئے ۔

ڈاکٹر معید جاوید نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ یونیورسٹی میں جس کرسی صدارت پر فائز ہیں اس کی عظمت کو قائم رکھنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہیں گے ۔ استقبالیہ کے بعد جناب واحد نظام آبادی شریک مصنف معائب سخن نے اہل محفل کو اس کتاب میں موجود مواد کی انفرادیت سے روشناس کروایا ۔ پروفیسر محترمہ فاطمہ بیگم پروین سابق صدر شعبہ اردو حیدرآباد نے اپنی دلنشین نظامت سے سامعین کو مسحور کردیا ۔ اس محفل میں پروفیسر نرملا بابو راؤ باٹنی ڈپارٹمنٹ اور جناب عظیم الدین بھی مخاطب کرنے والوں میں شامل تھے ۔ اس تقریب میں مختلف شعبہ جات کے پروفیسرس ، ریسرچ اسکالرس ، محبان اردو طلباء و طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ شیخ فہیم اللہ کے پر اثر شکریہ پر محفل کا اختتام عمل میں آیا ۔ معائب سخن ہدایت نامہ شاعری کی رسم رونمائی سے قبل دوپہر دو بجے اسی مقام پر بہ موضوع ’ اردو ادب ۔ عروضی و فنی مسائل ‘ پر قومی سمینار منعقد ہوا ۔ جس کی صدارت پروفیسر مجید بیدار سابق صدر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ نے کی جب کہ مہمان خصوصی پروفیسر شوکت حیات تھے ۔ اس سمینار میں ڈاکٹر رؤف خیر ، ڈاکٹر فاروق شکیل ، ڈاکٹر معید جاوید ، ڈاکٹر مقبول احمد مقبول کرناٹک ، ڈاکٹر زبیر احمد قمر مہاراشٹرا ، جناب سردار سلیم ، جناب واحد نظام آبادی ، جناب سلیم ساحل نے مقالات پیش کئے ۔ ان مقالوں پر بحیثیت صدر محفل ڈاکٹر مجید بیدار نے سیر حاصل تبصرہ کیا اور سمینار کے اختتام سے قبل مقالہ نگاروں کو اسناد بھی پیش کئے ۔ اس پروگرام کے کنوینر جناب محمد نذیر احمد صدر شعبہ اردو ویمنس کالج کوٹھی تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT