Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / شعبہ تعلیم میں سرمایہ کاری کی ترغیب ، تعلیم کو تجارت بننے سے روکنے میں حکومت ناکام

شعبہ تعلیم میں سرمایہ کاری کی ترغیب ، تعلیم کو تجارت بننے سے روکنے میں حکومت ناکام

حکومت کا دوہرا معیار ، خانگی اسکول فیس پر کنٹرول کرنے سے قاصر
حیدرآباد۔25ستمبر(سیاست نیوز) تعلیم کو تجارت بننے سے روکنے کیلئے حکومت کی جانب سے اقدامات کی بات کی جاتی ہے اور ان اسکولوں کو یا تعلیمی اداروں کو قطعی اجازت نہیں دی جاتی جو تعلیمی ادارہ تجارتی اغراض و مقاصد کیلئے اسکول یا کالجس قائم کرتا ہے لیکن حکومت کی جانب سے اختیار کردہ اس موقف کے برعکس شہر حیدرآباد کے علاوہ ملک و ریاست کے شہری علاقوں میں شعبہ تعلیم کو سرمایہ کاری کیلئے بہترین اور منافع بخش شعبہ تصور کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس شعبہ میں سرمایہ کاری بہترین منافع کا سبب بن رہی ہے ۔ قومی سطح پر چلائے جانے والے تعلیمی اداروں بالخصوص وہ تعلیمی ادارے جو کارپوریٹ طرز پر چلائے جاتے ہیں ان کی جانب سے سرمایہ کاری کی ترغیب دی جا رہی ہے اور انہیں ایس ایم ایس روانہ کئے جا رہے ہیں کہ وہ اس شعبہ میں سرمایہ کاری کریں اور دوگنا منافع حاصل کریں۔ تعلیم کو تجارت کے طور پر فروغ دیئے جانے کے اس عمل کے دوران حکومت کی خاموشی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی و مرکزی حکومت کی جانب سے اس مسئلہ کو نہ صرف غیر اہم تصور کیا جا رہا ہے بلکہ اس طرح کے اداروں کی سرپرستی کی جا رہی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی سطح پر کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ ریاستی حکومت سے متعدد شکایات کے باوجود بھی حکومت کی جانب سے خانگی اسکولوں کی فیس کو باقاعدہ بنانے کے عمل کے متعلق کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے گئے اور طلبہ اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کے مطالبات کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔خانگی کارپوریٹ تعلیمی اداروں میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کیلئے گشت کر رہے ایس ایم ایس کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا رہا ہے کہ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال میں شعبہ تعلیم ہی ایسا واحد شعبہ ہے جس میں سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کو محفوظ تصور کر رہے ہیں ۔ جناب سید آصف نے کہا کہ شعبہ تعلیم کو تجارتی طرز پر فروغ دینے میں صرف کارپوریٹ ادارے نہیں بلکہ کئی ریاستوں میں خود سیاستدانوں کا اہم رول ہے اور سیاستدانوں کی جانب سے چلائے جانے والے تعلیمی اداروں کے سبب عہدیدار کاروائی کی جرأت نہیں کرتے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کو ان کارپوریٹ تعلیمی اداروں کے ذریعہ جو ٹیکس وصول ہوتا ہے اسی لئے حکومت بھی ان تجارتی طرز پر چلائے جانے والے تعلیمی اداروں کی جانب متوجہ نہیں ہوتی بلکہ ان کی من مانیوں پر خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔ جناب فضل الرحمن خرم نے بتایا کہ قوانین و قواعد کے اعتبار سے اس طرح کی تشہیر بلکلیہ طور پر غیر قانونی ہے لیکن اس کے باوجود حکومت کی خاموشی افسوسناک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیمی ادارہ قائم کرنا سوسائٹی کے ذریعہ ہی ممکن ہے لیکن اس طرح کے تجارتی اداروں کو تعلیمی ادارہ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے علاوہ ملک کے کئی مقامات پر پری پرائمری اسکولوں کو تجارتی شکل دی جارہی ہے جو کہ قانون کے دائرہ میں نہیں آتے لیکن اس کے باوجود اگر حکومت اور متعلقہ محکمہ خاموشی اختیار کرتے ہیں تو ایسی صورت میں شعبہ تعلیم ایک تجارتی شعبہ میں تبدیل ہو جائے گا اور اس شعبہ پر کارپوریٹ اداروں کی اجارہ داری ہونے لگے گی۔

TOPPOPULARRECENT