Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / شعراء ادیبوں کو عوامی مسائل پر فن کا مظاہرہ کرنے پر زور

شعراء ادیبوں کو عوامی مسائل پر فن کا مظاہرہ کرنے پر زور

دفتر سیاست میں مجموعہ کلام کا رسم اجراء ، جناب زاہد علی خاں کا خطاب
حیدرآباد ۔ 14 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : ملک ان دنوں جن مسائل و آلام میں گرفتار ہورہا ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے شعراء اور ادیب عوام کو حالات سے روشناس کروانے کے لیے اپنے فن کا استعمال کرنا ضروری ہے ۔ اس لیے کہ شعراء و ادیب ہی قوم و ملت کے لیے مشعل راہ ثابت ہوسکتے ہیں ۔ اور ساتھ ہی نوجوانوں کا تعلیم حاصل کرنا ناگزیر ہے ۔ جس سے مستقبل میں پیدا ہونے والے معاشی مسائل کا حل بھی ڈھونڈ نکالا جاسکے ۔ ان خیالات کا اظہار آج شام جناب زاہد علی خاں محبوب حسین جگر ہال میں رحمن جامی اور ان کے شاگردوں ڈاکٹر رحیم رامش ، عثمان شاہین ، قیوم خالد کے مجموعہ کلام کی رسم اجراء تقریب کے موقع پر کیا ۔ جو ادارہ اقلیم ادب کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا ۔ جلسہ کا آغاز قاری محمد نصیر الدین المنشاوی کی قرات کلام پاک سے ہوا ۔ غزل گلوکار جناب رکن الدین نے حمد باری تعالیٰ اور جناب فرید سحر نے نعت شریف پیش کئے ۔ پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی نے بھی شرکت کی ۔ اس موقع پر جناب یوسف روش اور سمیع اللہ سمیع نے جناب رحمن جامی ، ڈاکٹر رحیم رامش اور عثمان شاہین اور قیوم خالد کو منظوم تہنیت پیش کی ۔ جناب زاہد علی خاں نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے جناب رحمن جامی کے شعری و ادبی خدمات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ان کی خدمات اردو زبان کو پروان چڑھانے میں اہمیت کی حامل ہے ۔ اس کے پیش نظر انہیں شاعر اعظم کا خطاب دیا گیا جن کے شاگرد حیدرآباد اور بیرونی ممالک اور ہندوستان بھر میں اپنے فن کا جادو جگا رہے ہیں ۔ انہوں نے سماج اور معاشرہ میں پائی جانے والی برائیوں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ ان دنوں شادیوں میں بے جا اسراف اور گھوڑے جوڑے کے بناء آج غریب خاندانوں کو بڑے مسائل سے دوچار ہونا پڑرہا ہے ۔ حالیہ ایک شادی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر میں ہوئی اس شادی میں 8 کروڑ کے مصارف ہوئے جو ہماری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے شعراء و قلم کار جو موجودہ صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے مسائل کے حل پر اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے انہیں سیاست کی جانب سے مناسب ایوارڈ دیا جائے گا ۔ شعراء کو چاہئے کہ وہ گل و بلبل ، پیار و محبت کی شاعری سے اجتناب کریں ۔ جناب رحمن جامی نے روزنامہ سیاست سے دیرینہ وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاست عرصہ دراز سے قوم و ملت ، غریب افراد اور تعلیم حاصل کرنے والوں کی مختلف نہج پر خدمت کررہا ہے ۔ پروفیسر رحمت یوسف زئی ، پروفیسر بیگ احساس ، ڈاکٹر مسعود جعفری ، جناب ایم ایم یوسف ، نے شعراء کرام کی فن و شاعری پر روشنی ڈالی ۔ اس موقع پر شعراء برادری ، قلم کار ، ادیبوں اور نوجوانوں کی کثیر تعداد شریک تھی جن میں جسٹس ای اسماعیل ، ڈاکٹر مجید بیدار ، سید لطف محی الدین احمد ، احمد مکیش ، حافظ احمد شریف ، تشکیل رزاقی ، شاہ نواز ہاشمی ، شکیل حیدر ، ڈاکٹر عائشہ صدیقہ ، نسیم احمد نسیم اور جناب رحمن جامی کے شاگرد موجود تھے ۔ جناب حکیم ایس ایس خیر الدین صوفی نے کارروائی چلائی اور شکریہ ادا کیا ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT