Saturday , December 16 2017
Home / مضامین / شمالی کوریا، امریکہ، چین کی ’حرکتیں‘ ۔ انڈیا خواہ مخواہ نشانہ!

شمالی کوریا، امریکہ، چین کی ’حرکتیں‘ ۔ انڈیا خواہ مخواہ نشانہ!

 

عرفان جابری
زندگی کے لگ بھگ ہر شعبے میں اکثر و بیشتر دیکھنے میں آتا ہے کہ جب متعلقہ ذمہ داران کو مسائل کا کوئی حل سُجھائی نہیں دیتا تو وہ اپنی قابلیت پر ممکنہ سوالات کو ٹالنے کیلئے ان مسائل سے توجہ ہٹانے کی حرکتوں میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ یہ بات وسیع تناظر میں ملکوں اور قوموں پر بھی صادق نظر آتی ہے۔ قارئین کرام! حالیہ عرصے میں ہندوستان اور چین کے درمیان سطح مرتفع اور وادی والے پُرکشش علاقہ ’ڈوکلام‘ (جو ہندوستانی ریاست سکم سے متصل ہے) پر تنازع کے سبب 73 روزہ ملٹری کشیدگی؛ اور طاقتور پڑوس کے ’’نہایت شریر‘‘ پڑوسی لیڈر کم جونگ۔ اُن کی قیادت میں شمالی کوریا کے بار بار اشتعال انگیز نیوکلیائی تجربات سے بخوبی واقف ہوں گے۔ بین الاقوامی اور سفارتی اُمور کے تجزیہ کاروں کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ پیانگ یانگ (شمالی کوریائی دارالحکومت) اور ڈوکلام تنازع کے درمیان ربط ہوسکتا ہے۔ آج کی تحریر میں اسی تناظر میں ہند، چین، شمالی کوریا اور ڈونالڈ ٹرمپ زیرقیادت امریکہ کی مشرقی ایشیا کے تئیں پالیسی کا اجمالی جائزہ لینے کی کوشش کررہا ہوں۔
امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے حال ہی میں ادعا کیا تھا کہ امریکہ کے شمالی کوریا کے ساتھ راست ربط و ضبط کے ذرائع موجود ہیں۔ اس کے فوری بعد صدر ٹرمپ کا ایک مشہور ٹوئٹ سامنے آیا جس میں انھوں نے بتایا: ’’میں نے ہمارے قابل سکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹیلرسن سے کہا کہ وہ ’لٹل راکٹ میان‘ کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں میں اپنا وقت ضائع کررہے ہیں … اپنی توانائی بچائے رکھیں، ریکس! ہم جو کچھ ضروری ہے کرگزریں گے!‘‘ ٹرمپ کے تبصرہ کا پس منظر شمالی کوریائی لیڈر کا ریمارک ہے جس میں امریکی صدر کو ’’سٹھیایا ہوا شخص‘‘ کہا گیا تھا۔ بین الاقوامی سطح پر اس طرح کے لفظی تیر و نشتر سے نہ صرف نام نہاد مہذب قائدین کی گفتگو کی سطح کی نئی پستی ظاہر ہوتی ہے، بلکہ جنگ کا اندیشہ قرب و جوار میں ہر کسی کیلئے جھرجھری کا سبب بھی ہے۔ ایسے ماحول میں کیا ہم شمالی کوریا کے طاقتور پڑوسی اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں ’ویٹو پاور‘ کے حامل چین کی طرف سے کوئی مصالحانہ رول کی توقع کرسکتے ہیں؟

یہ امر تو عیاں ہے کہ چین کیلئے اپنے پڑوس میں غیرمستحکم نیوکلیر پاور کی موجودگی بہت تشویش کی بات ہے، بالخصوص اس لئے کیونکہ وہ اپنے بڑے مغربی پڑوسی کے تئیں دانستہ جھگڑالو رویہ اپنا رہا ہے۔ کم جونگ کے اَنکل اور کزن جو دونوں چین کے قریبی سمجھے جاتے تھے، انھیں قتل کروا دیا گیا۔ کم جونگ کے میزائل تجربات نے امریکہ کو جنوبی کوریا میں میزائل ڈیفنس سسٹم ’ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس‘ (THAAD) قائم کرنے کا عذرلنگ فراہم کردیا ہے جو اس کیلئے چین کے مقابل غیرمتناسب برتری ہوگئی۔ چونکہ نارتھ کوریا رواں سال فبروری سے ہر ماہ اوسطاً دو میزائل ٹسٹ کرتا جارہا ہے، اس لئے اب چین کے مفاد میں نہیں رہا کہ ’’بلی اور چوہے‘‘ کا کھیل کھیلتا رہے جب کہ شمالی کوریا اپنی ’شرارتیں‘ یوں ہی جاری رکھے۔ چینی خواب جو صدر شی جن پنگ نے گزشتہ دنوں ہفتہ طویل کلیدی کمیونسٹ پارٹی کانگریس کے آغاز پر اپنے ساڑھے تین گھنٹے طویل خطاب میں تفصیل سے پیش کیا ہے، اس میں چین کو اقوام کی چوٹی تک پہنچانے کا خاکہ متعارف کیا گیا ہے۔ اس تناظر میں نارتھ کوریا نہ صرف ایک خطرہ ہے، بلکہ وہ چین کیلئے ’’پرل ہاربر والی صورتحال‘‘ کی مانند بھی ہے، ایک ایسا موقع کہ پریشان کن عالمی مسئلہ کو حل کرے اور وسیع تر پذیرائی وصول کرے جو اسے ہمیشہ کیلئے بڑی مصالحانہ طاقت بنادے گی۔ یہ سب کچھ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ نارتھ کوریا کو امریکہ کے خلاف ڈھال والی مملکت کے طور پر ختم کئے بغیر کم جونگ سے چھٹکارہ پانا چین کے عظیم ترین مفاد میں ہے۔ پھر کیوں، اصل دھارے والی چینی صحافت میں شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کے مطالبات کے باوجود چین ظاہراً مفلوج بنا ہوا ہے؟

بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ نیوکلیائی اسلحہ سے لیس ایسی مملکت کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہے جو اپنے بچاؤ کیلئے اپنے ہتھیاروں کو بے جگری سے استعمال کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ چین کو امریکی صدر کی دُرُشت لفاظی سے بھی پریشانی ہورہی ہے ، جو ایک کھلا سوال پیدا کررہا ہے کہ اس مخمصہ میں سرکش مملکت آخر کون ہے! بعض مبصرین کا استفسار ہے کہ کہیں ٹرمپ کے ظاہری بے باکانہ تبصرے سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ تو نہیں کہ ناقابل قیاس کیفیت اور خوف پیدا کیا جائے۔ منصفانہ طور پر دیکھیں تو پھر ہمیں یہی شبہ کا فائدہ کی رعایت کم جونگ کی حرکتوں کے معاملے میں بھی روا رکھنی پڑے گی۔ ٹرمپ کی بے لگام باتیں ہوسکتا ہے اُن کے خاص حامیوں میں ان کی ساکھ بڑھاتی ہے لیکن ریپبلکن گروپ میں مسلسل بڑھتا گوشہ اُن کی حرکتوں کو بچکانہ پن سے تعبیر کررہا ہے۔ کم جونگ کی سرکشی بھی امریکی طویل تاریخ کا منطقی ردعمل سمجھی جاسکتی ہے کہ بڑی عالمی طاقت نے اپنے دشمنوں پر حملے، انھیں صفحۂ ہستی سے مٹانے یا پھر انھیں بے اثر کردینے کی ہمیشہ کوششیں کی ہیں … کیوبا اور عراق کی مثالیں فوری ذہن میں آتی ہیں۔ پھر بھی اس نفسیاتی عدم استحکام کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جو کم جونگ کی حرکتوں میں اسی طرح شامل ہے جیسے ان کی سوچی سمجھی دیدہ دلیری کا حصہ ہے۔
ہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں قائدین کے مخصوص مزاجوں کے یرغمال بنائے جارہے ہیں جن کی شخصیتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں دنیا کو خطرناک نیوکلیائی صورتحال کی طرف ڈھکیل رہی ہیں۔ یہی مسئلہ کیا کم تھا کہ چینی صدر نے ہندوستان کے ساتھ ایک نیا محاذ ڈوکلام میں کھول دیا، اور ٹرمپ نے کوئی واضح سبب بتائے بغیر ایران نیوکلیر معاملت کی توثیق سے انکار کردیا ہے۔ سوال پیدا ہوتاہے کہ اس طرح کے ’پاگل پن‘ کا کیا کوئی جواز بھی ہے؟ چینی لیڈر جن پنگ کا ایک ایسے ملک میں جسے تناؤ بھری معاشی تبدیلیوں کا سامنا ہے، اقتدار پر قبضہ قوم پرستانہ خوش و خروش کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ کرپشن کے خلاف جنگ پر مبنی ہے (جن پنگ کی پارٹی کی مخالف بدعنوانی مہم میں زائد از ایک ملین عہدیداروں کو سزا دی جاچکی اور درجنوں سابق سینئر آفیسرز جیل بھیج دیئے گئے ہیں)۔
شمالی کوریا کے معاملہ میں اپنے محدود امکانات کو دیکھتے ہوئے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (سی پی سی) کی 19 ویں نیشنل کانگریس سے قبل ساکھ بچانے کی حکمت عملی اختیار کی گئی، جو دیگر محاذوں پر توسیع پسندانہ حرکت ہے۔ جب ہم شمالی کوریا کے تعلق سے چین کی حدوں کو سمجھ جائیں تو 64 سالہ صدر جن پنگ کی حکمت عملی میں ڈوکلام (اور اسی طرح کے دیگر مشن) کا توجہ ہٹانے والا رول واضح ہوجاتا ہے۔ ٹرمپ کے ایران سے متعلق اقدام کا محرک بھی ہوسکتا ہے نارتھ کوریا کے معاملے میں ان کے پاس معقول امکانات کے فقدان سے توجہ ہٹانے کی کوشش رہی ہوگی۔ یوں تو ہندوستان کا چین کی ڈوکلام دراندازی پر تیزی سے ردعمل پُرزور تائید کا مستحق ہے لیکن پوشیدہ مفادات کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ کرلینا چاہئے کہ ایسی اشتعال انگیزیاں جاری رہیں گی۔ ہندوستان اور چین سے توقع ہے کہ وہ یونہی بہ یک وقت جھگڑے اور تعاون کے رشتے میں برقرار رہیں گے۔ دونوں فریقوں کو تاریخی تنازعات کو دیگر شعبوں میں ہر ایک کیلئے فائدہ بخش امکانات کو کھوجنے کی راہ میں حائل نہیں ہونے دینا چاہئے۔ ہندوستان کیلئے بہتر ہوگا کہ چین کے ساتھ جارحانہ انداز میں ہی نمٹا کرے، جو چینی اشیاء کیلئے طلب کے منبع کی حیثیت سے اپنی اہمیت کو استعمال کررہا ہے (ہندوستان کا چین کے ساتھ 51 بلین ڈالر کا تجارتی خسارہ ہے)، تاکہ سرحدی جھڑپوں کو کم سے کم کیا جاسکے۔

پھر بھی ، تعجب ہوتاہے کہ آیا حکومت ہند کی 2014ء سے اپنی نودریافت شدہ ’’طاقت‘‘ کا مظاہرہ پیش کرنے کی ضرورت اسے ایسے اقدامات کرنے سے روکتی ہے جو کشیدگیاں گھٹائیں گے۔ کشمیر میں حریت سے بات چیت کرنے سے انکار، ’’سرجیکل اسٹرائیکس‘‘ پر سینہ ٹھونک لینا، چین کے ’’وَن بیلٹ وَن روڈ‘‘ پراجکٹ پر میٹنگ میں اس اعتراض کے ساتھ حصہ نہ لینا کہ یہ معاشی راہداری پاکستان مقبوضہ کشمیر سے گزرتی ہے … غیرضروری ہٹ دھرمی ہے۔ معیشت کے معاملے میں ہندوستان ہو یا دنیا ، کچھ خاص دِکھانے کیلئے نہیں ہے، اندرون ملک اقتدار کی رسہ کشی کو بین الاقوامی تعلقات پر برتری دینا ایک نئے اور خوفناک مخمصہ کے مترادف ہے۔
سی پی سی کی 19 ویں کانگریس جو 24 اکٹوبر کو اختتام پذیر ہوگی، ایک دہے میں دو مرتبہ منعقد ہونے والا چین کا کلیدی ایونٹ ہے۔ اس میں نئی پولیٹ بیورو اسٹانڈنگ کمیٹی کا انتخاب ہوگا جو چین کی 1.4 بلین آبادی پر آئندہ پانچ سال کیلئے حکمرانی کرے گی۔ چونکہ صدر جن پنگ کا کنٹرول مزید تقویت پانے کی توقع ہے اور وہ ممکنہ طور پر 2022ء کے بعد تک بھی برسراقتدار رہیں گے جب اگلی کانگریس منعقد کی جائے گی۔ جن پنگ کو ماؤ زیدانگ کے بعد سے نہایت طاقتور چینی لیڈر مانا جارہا ہے، جنھوں نے 19 ویں کانگریس کے افتتاحی خطاب سے واضح کردیا کہ فی الحال وہ اپنے جانشین کو متعارف کرانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ، جو چین میں روایت رہی ہے اور خود جن پنگ 2007ء میں 17 ویں پارٹی کانگریس میں مستقبل کے لیڈر کے طور پر اُبھرے تھے۔ بہرحال جن پنگ کے ارادوں کے تناظر میں صورتحال واضح ہے کہ ہندوستان کو شاید اگلے دہے یا اس سے بھی زیادہ مدت تک جن پنگ سے نمٹتے رہنا پڑے گا۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT