Monday , December 11 2017
Home / اداریہ / شمالی کوریا اور نیوکلیر جنگ

شمالی کوریا اور نیوکلیر جنگ

امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان کشیدگی کا بڑھنا ہر دو کے لیے خطرے کا باعث ہے ۔ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات اور شمالی کوریا کی قیادت کی نیوکلیر جنگ کی دھمکیوں نے نازک صورتحال پیدا کی ہے ۔ دونوں جانب ایک دوسرے کو مشتعل کرنے والے بیانات اور جوابی بیانات سے گریز کرنے پر دھیان ہی نہیں دیا جارہا ہے ۔ امریکہ نے اپنے جزیرہ گوام میں جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ مل کر مشترکہ فوجی مشق کر کے شمالی کوریا کو نیرکلیر ہتھیاروں کے اٹھالینے کے لیے اشتعال دلایا ہے ۔ صدر ٹرمپ بظاہر شمالی کوریا کے ساتھ سفارتکاری کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں ۔ امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن نے اس سفارتکاری کی کوشش کو اس وقت تک جاری رکھنے کا اشارہ دیا ہے جب تک پہلا بم نہیں پھینکا جاتا ۔ امریکہ کو اپنی طاقت پر زعم ہے مگر اس طرح کی عاقبت نا اندیش بیانات سے شمالی کوریا کو خاموش کرانے میں کامیابی نہیں ملے گی تو آگے کیا ہوگا ۔ یہ غور کرنا ضروری ہے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ سے باہر کی دنیا کو اپنی جس آنکھ سے دیکھ رہے ہیں وہ شمالی کوریا کی نیوکلیر جنگ کے شکل میں نمودار ہوتی ہے تو یہ ایک بھیانک تباہی ہوگی ۔ ڈونالڈ ٹرمپ اس وقت بہ ایک وقت دو ملکوں ایران اور شمالی کوریا کو ایک تیر سے دو شکار کے مصداق نشانہ بنا رہے ہیں ۔ ایران کے نیو کلیر معاہدہ کے حوالے سے ٹرمپ کے موقف کی سابق امریکی خارجہ سکریٹری جان کیری نے مذمت کی ہے ۔ ٹرمپ کی پالیسی سے بین الاقوامی بحران بھی پیدا ہوسکتا ہے ۔ ایران کے حوالے سے شمالی کوریا کو بھی دھمکی دی جارہی ہے ۔ انہوں نے حال ہی میں یہ بھی کہا تھا کہ ’ راکٹ مین کم ‘ کے ساتھ سفارتی ڈپلومیسی کام نہیں آئے گی ۔ تاہم شمالی کوریا کے ساتھ راست بات چیت کے امکان کو وہ مسترد بھی کرنا نہیں چاہتے ۔ وہ اپنی دوہری باتوں سے وقت ضائع کرتے ہوئے شمالی کوریا کے ہاتھوں کو نیوکلیر ہتھیاروں کے قریب پہونچنے کا موقع بھی فراہم کررہے ہیں ۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس طرح کی نیوکلیر کشیدگی کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ہے ۔ چین نے بھی دونوں ملکوں پر بات چیت کے لیے زور دیا ہے ۔ لیکن امریکہ اور اس کا حلیف ملک جاپان ، اپنی انا کی چادر اوڑھے شمالی کوریا کی قیادت سے ایک میز پر بیٹھنے سے گریز کررہا ہے ۔ایسے میں شمالی کوریا کو نیوکلیر ہتھیاروں کے استعمال اور میزائیل حملوں کے لیے اکسایا جاتا ہے تو یہ بھیانک و تباہ کن کارروائی ہوگی ۔ شمالی کوریا کے سلسلہ وار میزائیل تجربات کی وجہ سے بھی امریکہ کے ساتھ کشیدگی پیدا ہوئی ہے مگر اس سے زیادہ بھیانک کیفیت دونوں جانب کے قائدین کی بیان بازیاں ہیں ۔ ٹرمپ اور کم کی لفظی جنگ نے حقیقی روایتی جنگ کو ہوا دینے کا کام کیا ہے تو اس لفظی جنگ کو فوری ختم کر کے بات چیت کی میز پر آنا چاہئے ۔ سفارتکاری کو ہی مسائل کا حل مان لیا جائے تو کشیدگی اور تلخیوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی ۔ شمالی کوریا کا احساس ہے کہ ساری دنیا میں وہ ہی ایک واحد ملک ہے جس پر 1970 سے امریکہ کے نیو کلیر خطرات کا خوف ہے ۔ لیکن اب شمالی کوریا بھی خود کو نیوکلیر ہتھیاروں سے آراستہ کرلیا ہے تو یہ دفاعی خود اختیاری ہے ۔ اگر شمالی کوریا کی نیوکلیر طاقت سے متعلق اس ملک کی قیادت کے دعویٰ پر یقین کیا جائے تو اس کے ایک بم سے امریکہ کی بھاری تباہی ہوگی اور لاکھوں اموات ہوں گے ۔ کیا اس عصری دور میں لاکھوں اموات کا موجب بننے والا قدم اٹھانا انسانی فطرت کی ایک اور تباہ کن غلطی ثابت نہیں ہوگی ۔ ہیروشیما کے واقعات کے بعد آج کی دنیا کو چند ایک ملکوں کی حماقت کی نذر کرنے سے بچانے کے لیے ماباقی ملکوں کو چپ تماشائی بن کر نہیں رہنا چاہئے ۔ راست بات چیت اور سفارتی سطح پر کوششوں کو تیز کرنا ہی ہر دو کے حق میں بہتر ہوگا ۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر دونوں جانب سفارتی کوششیں ناکام ہوتی ہیں تو کیا ان دونوں کو انسانی جانوں کو تباہ کرنے کی اجازت دی جانی چاہئے ۔ بلاشبہ ڈپلومیسی میں اس مسئلہ کا حل ہے تو اس پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT