Wednesday , December 19 2018

شمالی کوریا سے غیر مشروط مذاکرات کیلئے امریکہ کی پیشکش

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حمایت ہنوز غیرواضح

واشنگٹن۔ 13دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے بغیر کسی قبل از وقت شرائط کے شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کی پیشکش کی ہے ۔مسٹر ٹلرسن نے کل یہاں ایک تقریر میں شمالی کوریا کو پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ چلو ملتے ہیں۔ان کی اس پیشکش کے بعد امریکہ کو اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنا پڑ سکتا ہے ۔ امریکہ نے اس سے پہلے کہا تھا کہ نیوکلیئر ترک اسلحہ کی صورت میں ہی شمالی کوریا سے بات چیت ممکن ہے ۔شمالی کوریا کی جانب سے کئے جا رہے اعلی قسم کے نیوکلیئر ٹسٹ اور میزائل کے آغاز کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کافی بڑھ گئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تلخ الزامات و جوابی الزامات لگائے جارہے ہیں۔گذشتہ ماہ شمالی کوریا کی جانب سے انٹر کانٹینینٹل بیالسٹک میزائل کے ٹسٹ کو اپنی ’’بڑی کامیابی‘‘قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ امریکہ بھی اب اس کی زد میں آ گیا ہے توامریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات اور بھی خراب ہو گئے تھے ۔مسٹر ٹلرسن نے نیوکلیئر ہتھیار سے لیس شمالی کوریا کو برداشت نہیں کرنے کی امریکہ واشنگٹن کی طویل المدتی پوزیشن کو دہراتے ہوئے مسٹر ٹلرسن نے کہاکہ اگر جنوبی کوریا تیار ہوتا ہے تو امریکہ کسی بھی وقت مذاکرات کیلئے تیار ہے لیکن اس سے پہلے شمالی کوریا کو اپنے نیوکلیئر اور میزائل پروگراموں کے ساتھ اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہوگی”۔ اگرچہ یہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ انتظامیہ کے اندر تک رسائی رکھنے والے مسٹر ٹلرسن کی اس سفارتی کوشش کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے یا نہیں۔مسٹر ٹلرسن نے پہلے بھی شمالی کوریا کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی جس پر صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ان سے کہا تھاکہ وہ اپنا وقت ضائع کریں گے۔شمالی کوریا نے واضح کر دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت میں اس کی کوئی دلچسپی نہیں ہے جب تک کہ امریکی زمین تک وارکرنے والا نیوکلیئر میزائل تیار نہیں کر لیتا۔اگرچہ بیشتر ماہرین کا خیال ہے کہ شمالی کوریا ابھی تک اسے حاصل نہیں کر پایا ہے ۔مسٹر ٹلرسن نے اٹلانٹک کونسل میں کہا کہ ہم بغیر کسی پیشگی شرط کے پہلی بات چیت کو تیار ہیں۔
مسٹر ٹلرسن نے یہ بھی کہا کہ امریکہ شمالی کوریا کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کو سختی سے لاگو کرنے کیلئے کام کر رہا ہے ، خاص طور پر چین کی طرف سے لاگو کئے جا سکنے والے اقدامات میں بھی تعاون کر رہا ہے ۔ اگر ضرورت ہوئی تو امریکہ کے فوجی متبادل بھی کھلے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکہ نے چین کے ساتھ بات چیت کی ہے کہ کس طرح شمالی کوریا نیوکلیئر ہتھیاروں کو بحران میں محفوظ کیا جا سکتا ہے اور بیجنگ کو یقین دلایا گیا ہے کہ اگر امریکی فوج کسی طرح شمالی کوریا میں داخل ہو جاتی ہیں تو وہ جنوبی کوریا لوٹ آئیں گے ۔مسٹر ٹلرسن نے اگرچہ واضح کیا کہ امریکہ پرامن سفارتی کوششوں کے ذریعے شمالی کوریا مسئلے کو حل کرنا چاہتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT