Wednesday , July 18 2018
Home / Top Stories / شمالی کوریا مائیک پنس سے ملاقات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا

شمالی کوریا مائیک پنس سے ملاقات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا

نائب صدر امریکہ مائیک پنس کی آج جنوبی کوریا
میں سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت
شمالی کوریا پر سخت تحدیدات عائد کرنے پنس کا اشارہ
جنوبی کوریا آمد سے قبل جاپان میں امریکی اور
جاپانی فوجیوں سے پنس کا خطاب

پیونگ چانگ ۔ 8 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) شمالی کوریا نے آج ایک وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی نائب صدر مائیک پنس سے ملاقات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا جو سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کیلئے پیونگ چانگ آرہے ہیں۔ شمالی کوریا، جنوبی کوریا کو اپنا ایک وفد روانہ کررہا ہے جس میں شمالی کوریا قائد کم جونگ ان کی بہن بھی حصہ لے رہی ہیں جبکہ اسی دوران ایسی خبریں گشت کررہی تھیں کہ شمالی کوریا امریکی نائب صدر مائیک پنس سے ملاقات کرے گا۔ اسی دوران شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ مائیک پنس سے ملاقات ان کے ایجنڈہ میں شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمائی اولمپکس جیسے اسپورٹس ایونٹس کو سیاست سے خلط ملط نہیں کرنا چاہئے اور اس کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے۔ یاد رہیکہ مائیک پنس جمعرات کو جاپان سے جنوبی کوریا پہنچ رہے ہیں اور جمعہ کے روز پیونگ چانگ جائیں گے۔ دوسری طرف کم جونگ ان کی بہن جو حکمراں خاندان سے تعلق رکھنے والی ایسی پہلی خاتون ہیں جو جنوبی کوریا کا دورہ کرنے والے ایک وفد کا حصہ ہیں، جمعہ کو یہاں پہنچیں گی جہاں سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریبات انجام دی جائیں گی۔ فی الحال امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان جس نوعیت کے تعلقات ہیں انہیں دیکھ کر یہ بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہیکہ امریکہ اور شمالی کوریا کے قائدین کے درمیان ملاقات کیلئے ماحول قطعی سازگار نہیں ہے۔ شمالی کوریا کا سرمائی اولمپکس میں شرکت کا واحد مقصد جنوبی کوریا کے ساتھ پائی جانے والی کشیدگی میں کمی کرنا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ شمالی کوریا کی درخواست پر جنوبی کوریا نے امریکہ کے ساتھ اپنی فوجی مشقوں کو بھی سرمائی اولمپکس کے اختتام تک ملتوی کردیا ہے۔ اب اگر ہم امریکی نائب صدر مائیک پنس کے ارادوں کا جائزہ لیں تو حالیہ دنوں میں انہوں نے یہ بھی کہہ دیا ہیکہ شمالی کوریا کے تعلق سے امریکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال کا سامنا کرنے تیار ہے۔ البتہ امریکہ کے پاس شمالی کوریا کو مذاکرات کی میز پر لانے کا متبادل بھی موجود ہے۔ ٹوکیو کے یوکوٹا ایئربیس میں امریکی اور جاپانی فوج سے خطاب کرتے ہوئے مائیک پنس نے کہا کہ امریکہ شمالی کوریا پر دباؤ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا اور اس میں مزید سختی پیدا کی جائے گی تاکہ شمالی کوریا اپنے نیوکلیئر عزائم سے باز آجائے۔ پنس نے اس موقع پر شمالی کوریا کیلئے سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی مسلح افواج کو تن آسانی سے لینے والے کان کھول کر سن لیں کہ اگر وہ ایسا سمجھتے ہیں تو وہ ان کی (ان کا اشارہ شمالی کوریا کی طرف تھا) نادانی ہے۔ اب دنیا کو جان لینا چاہئے کہ میں یہاں سے (یوکوٹابیس) یہ چیلنج کررہا ہوں کہ امریکہ ہر نوعیت کی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے حالانکہ ہمارے حریف یہ بات بھی جانتے ہیں کہ ہمارے پاس دیگر متبادل بھی موجود ہیں تاہم اگر وقت آ گیا تو امریکہ اور جاپان کی مسلح افواج اپنا دفاع کرنا بخوبی جانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیوکلیئر ہتھیار کا اگر استعمال کیا گیا تو ہماری جانب سے بھی ایک انتہائی مؤثر اور عاجلانہ جوابی کارروائی کی جائے گی۔ یاد رہیکہ چہارشنبہ کو پنس نے شمالی کوریا پر سخت ترین امریکی تحدیدات عائد کرنے کا اعلان کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ جنوبی کوریا میں سرمائی اولمپکس کو شمالی کوریا کی جانب سے افراتفری کا شکار ہرگز ہونے نہیں دیا جائے گا کیونکہ اس طرح شمالی کوریا اپنے نیوکلیئر پروگرام کی جانب سے عوام کی توجہ ہٹانے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ تاہم ایسا ہوگا نہیں کیونکہ اسپورٹنگ ایونٹس کا ہر حال میں احترام کیا جانا چاہئے کیونکہ یہ کسی بھی ملک کے سیاسی حالات سے بالاتر ہوتے ہیں۔ فوجیوں سے خطاب کے بعد ہی مائیک پنس جنوبی کوریا کیلئے روانہ ہوئے جہاں وہ جمعہ کے روز سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریبات میں شرکت کریں گے حالانکہ مائیک پنس نے شمالی کوریائی عہدیداروں سے ملاقات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا ہے لیکن شمالی کوریا نے پہلے ہی وضاحت کردی ہیکہ وہ امریکہ سے ملاقات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔

TOPPOPULARRECENT