Monday , August 20 2018
Home / دنیا / شمالی کوریا میں قحط سالی، یو این فوڈ ایجنسی سربراہ کا دورہ متوقع

شمالی کوریا میں قحط سالی، یو این فوڈ ایجنسی سربراہ کا دورہ متوقع

غذا اور دیگر تعمیری کاموں کیلئے مختص فنڈس کو نیوکلیئر اور بالسٹک میزائلس پروگرام پر خرچ کرنے کا الزام
اقوام متحدہ ۔ 7 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) یو این ورلڈ فوڈ پروگرام کے سربراہ نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ قحط سالی کا شکار شمالی کوریا کا دورہ کرنا چاہتے ہیں جہاں ہزاروں لوگ فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پُراسرار ملک تک ہم زیادہ سے زیادہ رسائی حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ دی ایسوسی ایٹیڈ پریس کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے ڈیوڈ بیسلی نے کہا کہ ہم یہ بات واضح کردینا چاہتے ہیں کہ معصوم بچے فاقہ کشی سے فوت نہیں ہونا چاہئے۔ یاد رہے کہ یوں تو ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) ایک ٹیم شمالی کوریا میں بھی موجود ہے تاہم اس کے باوجود بھی ایجنسی اس بات کی خواہاں ہے کہ اسے رسائی کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کئے جائیں تاکہ اقوام متحدہ اس بات کو یقینی بناسکے کہ اس وقت جو لوگ بھی مصائب کا شکار ہیں اور ہماری امداد کے مستحق ہیں، انہیں بھرپور امداد مل سکے۔ ہمیں کسی ’’جاسوسی‘‘ کے لئے رسائی نہیں چاہئے بلکہ ضرورت مندوں کی امداد کے لئے وہاں پہنچنا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ شمالی کوریا کے قائد کم جونگ ان پر یہ الزامات بھی عائد کئے گئے ہیں کہ غذا اور دیگر تعمیری کاموں کے لئے جو رقومات مختص کی گئی ہیں تاکہ ضرورتمندوں کی امداد کی جاسکے، کم جونگ نے ان خطیر رقومات کو نیوکلیئر اور بالیسٹک میزائلس پروگرام پر خرچ کر ڈالا۔ شمالی کوریا میں اس وقت ناقص تغذیہ اہم ترین مسئلہ ہے اور غذا میں وٹامنس، معدنیات، پروٹین اور چربی کی کمی کی وجہ سے ملک کی عوام کو صحت کے مسائل درپیش ہیں۔ WFP کے مطابق اقوام متحدہ کو 2017ء میں شمالی کوریا کے لئے 52 ملین ڈالرس درکار تھے لیکن اب تک صرف 15 ملین ڈالرس ہی وصول ہوئے جس کے بعد شمالی کوریا کے بعض علاقوں میں امدادی کام کاج کو معطل کردینا پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT