Monday , February 26 2018
Home / دنیا / شمالی کوریا نے صدر جنوبی کوریاکو پیونگ یانگ دورے کی دعوت دی

شمالی کوریا نے صدر جنوبی کوریاکو پیونگ یانگ دورے کی دعوت دی

دونوں سربراہوں کی 10 سال بعد پہلی ملاقات متوقع

سیئول۔10 فروری (سیاست ڈاٹ کام) شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے جنوبی کوریائی صدر مون جے ان کو ایک سمٹ میں شرکت کیلئے پیونگ یانگ دعوت دی ہے۔ روایتی حریف ممالک شمالی و جنوبی کوریا رواں سال کے آغاز سے سفارتی سطح پر قریب آتے جا رہے ہیں۔سیئول حکومت نے ہفتے 10 فروری کے روز اس پیش رفت کی تصدیق کر دی ہے کہ جنوبی کوریائی رہنما نے شمالی کوریائی صدر کو شمالی کوریا میں ہونے والے ایک سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے باقاعدہ طور پر دعوت دی ہے۔ یہ دعوت کم جونگ اْن کی بہن کم یو جونگ نے جنوبی کوریائی صدر مون جے اِن تک آج پہنچائی ہے۔ کم یو جونگ کے مطابق ان کے بھائی، صدر مون جے اِن سے جتنی جلدی ممکن ہو ملنا چاہتے ہیں۔ صدر مون نے کم یو سے صدارتی محل میں ملاقات کی۔ شمالی و جنوبی کوریا کی ایک سمٹ اگر ہوتی ہے، تو یہ اپنی نوعیت کی تیسری ایسی سمٹ ہو گی۔ اس سے قبل شمالی کوریا کے موجودہ رہنما کم جونگ ان کے والد اور سابق رہنما کم جونگ دوم نے سیئول کے کم ڈے یْنگ اور روح مو ہیون سے 2000 اور 2007 میں ملاقاتیں کی تھیں۔ یہ دونوں ہی ملاقاتیں پیونگ یانگ میں ہوئی تھیں۔جنوبی کوریائی صدر مون جے ان نے شمالی کوریا کے اعزازی سربراہ حکومت کم یونگ نام اور کم یو جونگ سے ہفتے کو ملاقات کی۔ بعد ازاں صدر مون کے ترجمان نے بتایا کہ خصوصی مندوب کی حیثیت سے ان کے ملک میں موجود کم یو جونگ نے صدر کو ایک خط دیا، جس میں لکھا ہے کہ کم جونگ ان دونوں کوریائی ریاستوں کے مابین تعلقات بہتر بنانے کے خواہاں ہیں۔صدر مْون نے اس ملاقات میں اس توقع کا اظہار کیا کہ سرمائی اولمپک گیمز کے دوران خیر سگالی کے جذبات میں تسلسل رہے گا اور دونوں کوریائی ملکوں میں پیدا کشیدگی میں کمی واقع ہو گی۔ یہ ملاقات دارالحکومت سیئول میں جنوبی کوریائی صدر کی سرکاری رہائش گاہ بلْو ہاؤس میں ہوئی۔ شمالی کوریائی لیڈر کی بہن کل جمعہ کو سرمائی اولمپکس کے آغاز سے قبل جنوبی کوریا پہنچی تھیں۔

TOPPOPULARRECENT