Thursday , November 23 2017
Home / دنیا / شمالی کوریا پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی سخت تحدیدات

شمالی کوریا پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی سخت تحدیدات

بعض برآمدات پر امتناع اوربعض پر تخفیف ،امریکی مندوب نکی ہیلی کی پریس کانفرنس
واشنگٹن۔ 12 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکہ کے تیار کردہ مسودہ قرارداد کو متفقہ طور پر منظوری دے دی گئی جس کے بموجب سخت ترین تحدیدات شمالی کوریا پر عائد کی جائیں گی۔ اقدامات میں بڑی برآمدات پر امتناع اور تمام برآمدات میں 30% کی تخفیف بھی شامل ہے۔ امریکی سفیر برائے اقوام متحدہ نکی ہیلی نے کہا کہ آج شمالی کوریا پر تحدیدات کی قرارداد نمبر 2375 اقوام متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل میں متفقہ طور پر منظور کردی گئی۔ ہم دنیا سے کہہ دینا چاہتے ہیں کہ ہم نیوکلیئر اسلحہ سے آراستہ شمالی کوریا کو قبول نہیں کریں گے۔ آج سلامتی کونسل نے کہا کہ اگر حکومت شمالی کوریا اپنا نیوکلیئر پروگرام ترک نہ کرے تو ہم اسے اپنے طور پر روکنے کی کارروائی کریں گے۔ ہم اس نظام کو درست اقدام پر آمادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اب شمالی کوریا کو غلط کام کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنا چاہتے ہیں۔ نکی ہیلی نے کہا کہ بین الاقوامی برادری شمالی کوریا کی ایندھن کی صلاحیت پر ضرب لگاکر اور ہتھیاروں کے پروگراموں کو مالیہ فراہم کرنے سے روکنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیل، شمالی کوریا کی شہہ رگ ہے جس سے اس کی تعمیر ہوتی اور نیوکلیئر ہتھیار حاصل ہوتے ہیں، نکی ہیلی نے کہا کہ شمالی کوریا کو فراہم کئے جانے والے تیل میں تقریباً 30% کی اور گیاس، ڈیزل، ایندھن کے بھاری تیل کی مقدار میں 55% کمی کی جائے گی۔ علاوہ ازیں آج کی قرارداد مکمل طور پر قدرتی گیاس اور تیل کی دیگر ذیلی مصنوعات جو تخفیف شدہ پٹرولیم کے متبادل کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہیں، میں زبردست تخفیف کریں گے۔ نکی ہیلی نے کہا کہ تاحال یہ طاقتور ترین تحدیدات ہیں جو شمالی کوریا پر عائد کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ہمیں حکومت شمالی کوریا کو نیوکلیئر اور میزائل پروگرامس کیلئے مالیہ اور ایندھن فراہم کرنے سے روکا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قرارداد سے امریکہ کو ایسا کرنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ اقدامات اسی صورت میں موثر ہوں گے جب ہر ملک اس پر مکمل طور پر اور فوری جارحانہ انداز میں عمل آوری شروع کرے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کی 90% سے زیادہ آبادی نے اطلاع دی ہے کہ تمام برآمدات اب مکمل طور پر بند ہوچکی ہیں۔ علاوہ ازیں یہ قرارداد حکومت شمالی کوریا کو دولت کمانے سے روک سکتی ہے۔ شمالی کوریا کے 93,000 شہری اسے سمندر پار سے کام کرکے زبردست ٹیکسوں کی ادائیگی کیلئے رقم روانہ کرتے ہیں۔ یہ امتناع آخرکار حکومت شمالی کوریا کو 50 کروڑ امریکی ڈالرس سے یا اس سے زیادہ سالانہ آمدنی سے محروم کردے گا۔ ایک ارب 30 کروڑ امریکی ڈالر مالیہ سالانہ شمالی کوریا کو روانہ کیا جاتا ہے۔ بحری عہدیدار اس کو روکنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ وہ کوئلہ کی اسمگلنگ اور دیگر ممنوعہ اشیاء کی دنیا کو سربراہی بند کروا دیں گے۔

TOPPOPULARRECENT