شمالی کوریا پر جنوبی کوریا کی تازہ تحدیدات

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے علاوہ جانبدارانہ تحدیدات کا من مانے اقدام ‘ شمالی کوریا پوری دنیا سے کٹ کر الگ تھلگ
سیول ۔ 10ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) جنوبی کوریا یکطرفہ طور پر نیوکلیئر طاقت شمالی کوریا پر تازہ تحدیدات عائد کرے گا ۔ ایک رپورٹ کے بموجب جو آج جاری کی گئی جنوبی کوریا میں تازہ ترین کوششیں شمالی کوریا پر دباؤ ڈالنے کیلئے شروع ہوگئی ہیں ۔ جب کہ شمالی کوریا نے سلسلہ وار ہتھیاروں کی جانچ شروع کردی ہے ۔ جس کے نتیجہ میں علاقائی کشیدگی پر عروج پر پہنچ گئی ہے ۔ یہ اقدام شمالی کوریا کے سینئر اقوام متحدہ کے نایاب دورہ کے بعد شروع ہوا ہے جس نے شمالی کوریا اور بین الاقوامی برادری کے درمیان مذاکرات پر زور دیا تھا تاکہ کسی بھی قسم کی اندازہ کی غلطی کے نتیجہ میں آفت کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ جب کہ اس علاقہ میں نیا اعلیٰ سطحی نیوکلیئر بحران پیدا ہوچکا ہے ۔ جنوبی کوریا کے تازہ ترین اقدامات ایک مہینہ کے اندر دوسری مرتبہ یکطرفہ تحدیدات عائد کرنے کا اقدام ہے جسے پڑوسی ملک امریکہ کے اشارہ پر کیا ہوا اقدام سمجھتا ہے ۔ شمالی کوریا کی جملہ 20 تنظیموں بشمول بینکوں اور تجارتی کمپنیوں اور 12 شمالی کوریا کے افراد پر جن میں سے بیشتر بینک کار ہیں پیر کے دن سے سیاہ فہرست میں شامل کرلئے جائیں گے ۔ جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارہ یونگ ہاپ نے ایک غیرملکی وزارت کے عہدیدار کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے ۔ یہ تنظیمیں اور افراد خطرناک ہتھیاروں کی تیاری کیلئے مالیہ فراہم کرنے میں ملوث تھے اور ان اشیاء کی تجارت میں بھی شامل تھے جنہیں غیرقانونی قرار دیا گیا ہے ۔ یون ہاپ کے بموجب عہدیدار نے کہا کہ جنوبی کوریا کے اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اقدامات کے علاوہ ہوں گے‘ جن کے نتیجہ میں غربت زدہ شمالی کوریا پوری دنیا سے کٹ کر الگ تھلگ ہوگیا ہے ۔ لیکن اپنی میزائل اور نیوکلیئر تجربوں کے ذریعہ طاقت میں اضافہ کرتا جارہا ہے ۔ شمالی کوریا کے ساتھ صرف چین کے سفارتی اور فوجی تعلقات ہیں ۔ چین نے اقوام متحدہ کی تحدیدات کی تائید کی ہے لیکن بار بار اس پر بھی زور دیتا رہا ہے کہ کشیدگی دور کرنے کیلئے بات چیت کی جائے ۔
اقوام متحدہ کے انڈر سکریٹری جنرل جیفری فیلٹ میان نے شمالی کوریا کا ایک ہفتہ قبل ہی دورہ کیا ہے ‘ جب کہ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے نئے بین البراعظمی میزائل کا تجربہ کیا ہے جو امریکہ تک پہنچ سکتا ہے ۔ اُن کے دورہ کا اختتام امریکہ اور جنوبی کوریا کی اب تک کی سب سے بڑی مشترکہ فوجی فضائی مشقوںکے ساتھ ہوا ۔ جب کہ شمالی کوریا نے اس مشق کو اشتعال انگیزی اور اپنے نیوکلئیر پروگرام کے خلاف امریکہ اور جنوبی کوریا کے عزائم کا اظہار قرار دیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT