Saturday , May 26 2018
Home / دنیا / شمالی کوریا پر دباؤ بنانے آئندہ ماہ ’’وینکوور گروپ‘‘ کا اہم اجلاس

شمالی کوریا پر دباؤ بنانے آئندہ ماہ ’’وینکوور گروپ‘‘ کا اہم اجلاس

٭ 16 جنوری کو امریکہ اور کینیڈا کی میزبانی والے اجلاس میں ہندوستان کی بھی شرکت
٭ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اور کینیڈین ہم منصب کرسٹیا فری لینڈ کا اوٹاوہ میں اعلان

واشنگٹن۔ 20 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ اور کینیڈا کی میزبانی میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کا آئندہ ماہ انعقاد ہونے جارہا ہے جس میں ہندوستان بھی شرکت کرے گا۔ کانفرنس کا ایجنڈہ شمالی کوریا کی جانب سے پے در پے کئے جانے والے نیوکلیئر میزائل ٹسٹوں اور اسے اپنے ارادوں سے باز آنے کے لئے مختلف ممالک کی جانب سے ڈالے جانے والے دباؤ میں بہتری پیدا کرنا ہے۔ یاد رہے کہ شمالی کوریا بین براعظمی بالسٹک میزائل کی ٹسٹنگ یکے بعد دیگرے کرتا آرہا ہے اور امریکہ کو آنکھیں دکھاتے ہوئے یہ تک کہہ دیا ہے کہ اس کے میزائلس امریکہ تک رسائی کے حامل ہیں جو امریکہ کو تباہ و برباد کرسکتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اور ان کے کینیڈین ہم منصب کرسٹیا فری لینڈ نے اوٹاوہ میں کل اپنی ملاقات کے دوران یہ اعلان کیا۔ 16 جنوری کو امریکہ اور کینیڈا کی میزبانی میں منعقد کی جانے والی کانفرنس کا مقام وینکوور ہوگا جسے ’’وینکوور گروپ‘‘ سے موسوم کیا گیا ہے جو شرکاء ممالک کے وزرائے خارجہ پر مشتمل ہوگا جن میں آسٹریلیا ، بلجیم، برطانیہ، کولمبیا، ایتھوپیا، فرانس، یونان، لگژمبرگ، نیدرلینڈس، نیوزی لینڈ، فلپائن، جنوبی آفریقہ، تھائی لینڈ اور ترکی شامل ہیں۔ اس دوران ٹلرسن نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مندرجہ بالا ممالک کے علاوہ چند دیگر اہم ممالک جیسے عوامی جمہوریہ کوریا، جاپان، ہندوستان اور سویڈن کو بھی شامل کیا جائے گا کیونکہ ان ممالک کو بھی ہم انتہائی اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں۔ خصوصی طور پر ہندوستان اس وقت ایشیا کی ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے لہذا وینکوور گروپ میں یہ تمام ممالک اپنی موجودگی کا احساس ضرور دلائیں گے جہاں کے وزرائے خارجہ سرجوڑ کر بیٹھیں گے اور یہ دیکھا جائے گا کہ شمالی کوریا پر ڈالا جانے والا دباؤ کس حد تک موثر ہے۔ اگر موثر نہیں ہے تو اس میں کس طرح نئی روح پھونکی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام فیصلے اس بنیاد پر کئے جائیں گے کہ آیا شمالی کوریائی حکومت پر کس طرح دباؤ میں اضافہ کیا جاسکتا ہے اور اس کے لئے کیا اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ کس طرح ہم اپنی سفارتی کوششوں کو وسیع تر کرسکتے ہیں اور کس طرح ہم شمالی کوریا کو مذاکرات کی میز پر لانے رضامند کرسکتے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہے کہ شمالی کوریا نے جاریہ سال اپنے میزائل پروگرام میں قابل لحاظ تیزی پیدا کی ہے۔ ماہ فروری سے اب تک اس نے 23 میزائلس داغے ہیں جبکہ 29 نومبر کو شمالی کوریا کے قائد کم جونگ ان کے واضح طور پر امریکہ کو یہ دھمکیاں دی تھیں کہ شمالی کوریا نے نیوکلیئر ملک ہونے کا موقف حاصل کرلیا ہے کیونکہ اس نے ایک ایسے میزائل کا کامیابی سے ٹسٹ کیا ہے جو امریکہ کے کسی بھی مقام کو نشانہ بناسکتا ہے۔ اس دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی لفظی جنگ بھی چھڑ گئی تھی۔ جب انہوں نے کم جونگ کو ’’پستہ قد دیوانہ‘‘ اور ’’راکٹ مین‘‘ کہا تھا اور کم جونگ نے ٹرمپ کو ’’پاگل‘‘ کہا تھا۔ ریکس ٹلرسن نے کہا کہ اگر شمالی کوریا پر مندرجہ بالا تمام ممالک دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ تنازعہ مذاکرات کی میز پر پہنچ کر ہی ختم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی قیادت بین الاقوامی برادری اس وقت تک شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات نہیں کرسکتی جب تک خود شمالی کوریا مذاکرات کیلئے تیار نہ ہو، لہذا ہم اب شمالی کوریا کے منتظر ہیں کہ وہ کوئی ایسا پیغام دے جس سے یہ پتہ چلے کہ وہ مذاکرات میں دلچسپی لے رہا ہے۔ ٹلرسن نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ اس وقت ’’وینکوور گروپ‘‘ جس نے شمالی کوریا پر دباؤ بنانے کا عزم کر رکھا ہے، یہ مستقبل میں بھی برقرار رہے گا۔ شمالی کوریا یہ نہ سمجھے کہ اس کے انکار پر ہم اپنے گروپ کو تحلیل کردیں گے اور خاموش تماشائی بن جائیں گے۔ ہم اس وقت تک اس مہم کو جاری رکھیں گے جب تک شمالی کوریا اپنے نیوکلیئر عزائم کو ترک نہ کردے۔ دوسری طرف فری لینڈ نے کہا کہ مجوزہ کانفرنس کا مقصد شمالی کوریا کی خطرناک اور غیرقانونی سرگرمیوں کے خلاف بین الاقوامی یگانگت کا اظہار ہے۔ اس کانفرنس کے ذریعہ ہمیں یہ موقع ہاتھ آیا ہے کہ ہم اپنی مہم کو سفارتی کوششوں کے ذریعہ بروئے کار لائیں اور شمالی کوریائی جزیرہ نما کو ایک پرامن اور نیوکلیئر توانائی سے پاک مستقبل عطا کرسکیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا جب تک اپنی مشتبہ سرگرمیوں کو ترک نہیں کردیتا، اس وقت تک اس پر دباؤ بنائے رکھنے کا سلسلہ جاری رہے گا جس میں وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ ہی ہوتا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT