Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / شمالی کوریا پر چین زیادہ سے زیادہ دبائو بنائے رکھے: ٹرمپ

شمالی کوریا پر چین زیادہ سے زیادہ دبائو بنائے رکھے: ٹرمپ

واشنگٹن۔17 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اب اس بات کے خواہاں ہیں کہ چین کو شمالی کوریا کے نیوکلیر میزائل پروگرام سے روکنے اہم ترین رول ادا کرنا چاہئے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ شمالی کوریا پر اتنا زیادہ دبائو بڑھایا جائے کہ وہ بوکھلاکر نیوکلیئر توانائی کے حامل ملک ہونے کا خواب دیکھنا چھوڑدے۔ یاد رہے کہ امریکہ نے یہ خواہش ایک ایسے وقت کی ہے جب چین نے شمالی کوریا کو اپنا ایک خصوصی قائد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صدرچین ژی جن پنگ کے خصوصی قاصد سانگ ٹائو آج شمالی کوریا کا دورہ کریں گے جہاں وہ شمالی کوریا کی قیادت کو چین کی حکمراں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا (CPC) کی حالیہ کانگریس میں کئے گئے فیصلہ سے آگاہ کریں گے۔ توقع ہے کہ مسٹر سانگ مسٹر ژی کا ایک پیغام شمالی کوریائی قیادت کے حوالے کریں گے جس میں شمالی کوریا سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ اپنا نیوکلیئر پروگرام ترک کرنے کے لیے بات چیت کی میز پر آئے۔ یہی نہیں بلکہ مسٹر سانگ شمالی کوریائی قیادت سے حالیہ دنوں میں ژی جن پنگ اور ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان شمالی کوریا کے بارے میں ہوئی بات چیت کا خلاصہ بھی پیش کریں گے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ گزشتہ ہفتہ بیجنگ میں ژی جن پنگ اور ٹرمپ کے درمیان ہوئی بات چیت مکمل طور پر شمالی کوریا پر منحصر تھی۔ بیجنگ سے روانہ ہونے کے بعد ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ وہ چین سے بیحد متاثر ہوئے کیوں کہ چین نے کوریائی جزیرہ نما کو نیوکلیئر توانائی سے پاک علاقہ بنانے میں جو توانائیاں صرف کی ہیں وہ یقیناً قابل ستائش ہیں۔ وائٹ ہائوس پریس سکریٹری سارہ سٹیڈرس نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ یہی چاہتے ہیں کہ چین شمالی کوریا پر زیادہ سے زیادہ دبائو بنائے رکھے۔

حافظ سعید کی نظر بندی میں توسیع کا آئندہ ہفتہ فیصلہ
لاہور۔17 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ایک پاکستانی جوڈیشیل بورڈ 22 نومبر کو یہ فیصلہ کرے گا کہ الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کی نظر بندی میں توسیع کی جائے یا نہیں۔ حافظ سعید 2008ء ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ ہیں۔ عدالت کو آج یہ بات بتلائی گئی۔ پنجاب کی صوبائی حکومت کے ایک لاء آفیسر نے سعید کی نظربندی معاملہ کی سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ جج قاصی امین احمد کو بتایا کہ پنجاب کا جوڈیشیل بورڈ اس معاملہ پر 22 نومبر کو قطعی فیصلہ کرے گا۔

TOPPOPULARRECENT