Friday , November 24 2017
Home / دنیا / شمالی کوریا کا سائنسدانوں کیلئے جشن ‘کم جونگ اُن کی مبارکباد

شمالی کوریا کا سائنسدانوں کیلئے جشن ‘کم جونگ اُن کی مبارکباد

جرمنی ‘ شمالی کوریا سے ایران طرز کے مذاکرات کیلئے تیار ‘ جرمنی سرگرم کردار ادا کرنے تیار ‘مرکل کا بیان
سیول، 10 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اون نے اب تک کا اپنا سب سے بڑا جوہری ٹیسٹ کا تجربہ کرنے والے سائنسدانوں کو مبارکباد دینے کے لئے ایک پر شکوہ جشن کا اہتمام کیا ہے ۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے ) کی طرف سے آج تصاویر جاری کی ہیں، جس میں مسٹر اون کو دو بڑے سائنسدانوں ری ہانگ سوپ اور ہانگ سنگ سو کے ساتھ نے انہیں ایک تھیٹر میں قہقہہ لگا تے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔دونوں سائنسدانوں نے شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے ۔واضح رہے کہ گزشتہ اتوار کو شمالی کوریا نے اپنے چھٹے جوہری بم کا تجربہ کیا تھا، لیکن دوسرے ممالک کا کہنا ہے کہ یہ ایک ہائڈروجن بم تھا۔ اس کے تجربے کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل،امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک نے سخت مذمت کی تھی۔امریکہ نے شمالی کوریا پر شمالی کوریا پر اضافی پابندی عائد کرنے کے لئے کو روکنے کے لئے ایک مسودے کی تجویز پر ووٹنگ کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں 11 ستمبر کو ایک میٹنگ طلب کرنے کی درخواست کی ہے ۔فرینکفرڈ ایم مین سے موصولہ اطلاع کے بموجب جرمنی شمالی کوریا کے نیوکلئیر ہتھیاروں اور میزائل کی تیاری کے سلسلہ میں اسی طرح ایک مذاکرات اور معاہدہ پر زور دے گا جیسے کہ ماضی میں ایران کے ساتھ ہوچکے ہیں اور عالمی طاقتوں کے ساتھ اُسے اس کے نیوکلئیر پروگرام سے دستبردار ہونے کے عوض چند ترغیبات کی پیشکش کی گئی ہے ۔ چانسلر جرمنی انجیلا مرکل نے آج کہا کہ وہ فوری طور پر کہنا چاہتی ہیں کہ اگر اُن سے مذاکرات میں شرکت کیلئے کہا جائے تو وہ اُس کیلئے تیار ہیں ۔ 6عالمی طاقتوں کی قبل ازیں ایران کے ساتھ بات چیت ہوچکی ہے اور 2015ء میں ایران کے ساتھ 6عالمی طاقتوں کا معاہدہ بھی ہوچکا ہے ‘ جس کے عوض ایران پر عائد تحدیدات ہٹالی گئی تھی اور ایران نے اپنی نیوکلئیر تنصیبات کے معائنہ کی اجازت بھی دی تھی ۔ سفارت کاریکیطویل لیکن اہم کوشش کے ذریعہ یہ اچھا مقصد حاصل ہوچکا تھا ۔ چانسلر جرمنی نے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسی نمونہ پر شمالی کوریا کے تنازعہ کی یکسوئی بھی چاہتی ہیں اور جرمنی اس سلسلہ میں سرگرم کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے ۔

 

TOPPOPULARRECENT