Wednesday , June 20 2018
Home / ہندوستان / شمالی کوریا کو انسانی بنیادوں پر مزید امداد کا تیقن

شمالی کوریا کو انسانی بنیادوں پر مزید امداد کا تیقن

وزیرخارجہ ری سو یونگ کی سشماسوراج سے ملاقات، پاکستان کو میزائلس سربراہ کرنے پر تشویش

وزیرخارجہ ری سو یونگ کی سشماسوراج سے ملاقات، پاکستان کو میزائلس سربراہ کرنے پر تشویش
نئی دہلی ۔ 13 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وزیرخارجہ سشماسوراج نے آج شمالی کوریا کے ہم منصب ری سو یونگ کے ساتھ ملاقات کے دوران ہندوستان کی سیکوریٹی تشویش سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ کوریائی جزیرہ نما میں امن و استحکام ملک کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیرخارجہ شمالی کوریا کل نئی دہلی پہنچے اور یہ ان کا پہلا دورہ ہے۔ انہوں نے آج وزیرامورخارجہ سشماسوراج سے ملاقات کی اور اس موقع پر سشماسوراج نے شمالی کوریا کو انسانی بنیادوں پر اضافی امداد کی درخواست پر مثبت غور کا تیقن دیا۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت ہوئی جبکہ ایک ماہ بعد وزیراعظم نریندر مودی شیول کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ری سو یونگ کے دورہ کے ذریعہ ہندوستان کو شمالی کوریا کے ساتھ باہمی روابط مزید مستحکم بنانے کا موقع فراہم ہوا۔ یہ ملک اس وقت اقوام متحدہ اور دیگر مغربی ممالک کی معاشی و دیگر تحدیدات کا شکار ہے۔ انہوں نے کوریائی جزیرہ نما میں امن و استحکام کی برقراری کی اہمیت بھی واضح کی۔ تحدیدات اور مختلف ممالک کی پابندیوں کے باوجود بین الاقوامی برادری اب تک پیونگ یانگ کے عزائم کو روک نہیں پائی ہے اور اس نے حال ہی میں کئی نیوکلیئر تجربات کئے ہیں۔ اس کی وجہ سے شمالی کوریا پر مزید سخت تحدیدات عائد کی گئی ہیں۔ شمالی کوریا کی بنکنگ، سفر اور تجارت جیسے اہم شعبوں پر تحدیدات کی وجہ سے یہ ملک بین الاقوامی سطح پر یکا و تنہا ہوگیا ہے۔ وزارت خارجہ سطح کی بات چیت بالکل کھلے اور دوستانہ ماحول میں ہوئی اور دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی سیکوریٹی تشویش پربھی بات چیت کی گئی۔ وزارت امورخارجہ نے اجلاس کے بعد ایک بیان میں یہ بات بتائی۔ ہندوستان نے شمالی کوریا کی جانب سے پاکستان کو میزائلس کی سربراہی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ وزیرخارجہ شمالی کوریا ری سو یونگ نے ہندوستان کی جانب سے کی گئی مہمان نوازی پر سشماسوراج کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ہندوستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی انسانی بنیادوں پر امداد کی بھی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں ہمدردانہ غور کی ضرورت ہے اور اس امداد میں اضافہ کیا جانا چاہئے۔ وزیرخارجہ سشماسوراج نے ان کی درخواست پر مثبت غور کا تیقن دیا۔ ہندوستان شمالی کوریا کو انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرتا آرہا ہے کیونکہ یہ ملک گذشتہ چند سال سے قدرتی آفات کی بناء غذائی قلت سے دوچار ہے۔ 2011ء میں ہندوستان نے ایک ملین ڈالر مالیتی غذائی امداد ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت فراہم کی۔ وزیرخارجہ ری سو یونگ نے نائب صدرجمہوریہ حامد انصاری سے بھی ملاقات کی۔ شمالی کوریا کے وزیرخارجہ نے ایسے وقت ہندوستان کا دورہ کیا ہے جبکہ ان کا ملک بین الاقوامی برادری کی تحدیدات کا سامنا کررہا ہے۔ یہاں عوام کو غذائی قلت اور دیگر مسائل درپیش ہیں۔

TOPPOPULARRECENT