Saturday , December 15 2018

شمالی کوریا کیساتھ ’’بات چیت برائے بات چیت‘‘ بے معنی ہوگی : شینزوابے

l کوریا کا صحیح سمت قدم : وزیرخارجہ چین
l سیاسی ماہرین شمالی کوریا کی پیشکش پر مشکوک
l بات چیت کے شرکاء کیلئے سخت آزمائش

بیجنگ ؍ ٹوکیو ؍ سیول ۔ 8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) چین کے وزیرخارجہ نے آج امریکہ سے اپیل کی کہ شمالی کوریا سے متعلق بات چیت کا جلد سے جلد آغاز کیا جائے کیونکہ اس وقت جس نیوکلیئر بحران کا سب کو سامنا ہے، اس بات چیت کے ذریعہ حصہ لینے والے ممالک کی سنجیدگی کی بھی آزمائش ہوجائے گی۔ وزیرخارجہ وانگ لی نے یوں تو سیول کی جانب سے پیانگ یانگ کے بات چیت پر آمادہ ہونے کا خیرمقدم کیا ہے۔ یاد رہیکہ شمالی کوریا نے سیکوریٹی کی طمانیت کے عوض امریکہ سے نیوکلیئر پروگرام ترک کرنے بات چیت کیلئے آمادگی کا اظہار کیا تھا جبکہ شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے صدر مون جے ان کے ساتھ اپریل میں تاریخی اجلاس کے انعقاد پر ملاقات کیلئے بھی رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ مسٹر وانگ نے سالانہ پارلیمانی اجلاس کے موقع پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوریائی جزیرہ نما نے بالآخر صحیح سمت قدم بڑھایا ہے لہٰذا اب ضرورت اس بات کی ہیکہ اس جانب سنجیدگی سے توجہ دی جائے اور بات چیت کو آئندہ بہتر سطح تک لے جایا جائے۔ ہم امریکہ اور دیگر ممالک سے یہی خواہش کرتے ہیں کہ بات چیت کے آغاز میں اب بالکل تاخیر نہ کی جائے لیکن اس کے باوجود بھی یہ کہنا پڑتا ہیکہ تعلقات پر جمی برف پگھلنے میں کچھ وقت تو لگے گا۔ مسٹر وانگ نے البتہ یہ اشارہ بھی کیا کہ ماضی میں نیوکلیئر موضوع پر ہوئی بات چیت ناکام بھی ہوچکی ہے۔ ہم نے جس سفر کو بہتر توقعات کے ساتھ شروع کیا ہے، ضروری نہیں اس سفر کا اختتام خوشگوار ہو کیونکہ تاریخ گواہ ہیکہ جب جب کوریائی جزیرہ نما میں کشیدگی کم ہوئی ہے، وہیں دیگر ممالک کی مداخلتوں نے بنتا کام بگاڑا ہے

لہٰذا اس پس منظر میں یہ کہنا پڑتا ہے کہ اسی وقت بات چیت کے شرکاء کی سنجیدگی کی آزمائش کی جاسکتی ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم جاپان شینزوابے نے آج انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا نے امریکہ کے ساتھ اپنے نیوکلیئر پروگرام کو ترک کرنے کیلئے بات چیت کی جو پیشکش کی ہے وہ محض وقت گزاری بھی ہوسکتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہیکہ اس سلسلہ میں مزید ’’مؤثر‘‘ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ یاد رہیکہ شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان سفارتی تعلقات پر جمی برف پگھلنے اور اس میں بہتری آنے کے بعد پہلی بار اپنے عوامی خطاب کے دوران شینزوابے نے کہا کہ ’’بات چیت برائے بات چیت‘‘ سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ میں نے یہ بات ایک دو بار نہیں بلکہ کئی بار کہی ہے کہ ہمیں ایسے حالات پیدا کرنے کی ضرورت ہے جہاں شمالی کوریا پر دباؤ اتنا زیادہ بڑھایا جائے کہ وہ ہم سے بات چیت کرنے پر آمادہ ہوجائے۔ البتہ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ماضی میں شمالی کوریا نے ہمارے ساتھ محض وقت گزاری کی تھی اور بات چیت کے نام پر نیوکلیئر میزائیل تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرلی تھی لہٰذا میں ایک بار پھر یہ بات کہتا ہوں کہ بات چیت برائے بات چیت سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ سیاسی تجزیہ نگاروں نے شمالی کوری اور امریکہ کے درمیان ہونے والی بات چیت پر ابھی سے یہ کہہ کر عدم اطمینانی کا اظہار کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان نیوکلیئر ہتھیاروں پر ہونے والے کسی بھی سودے کا راستہ پُرخطر ہوسکتا ہے۔ یہاں پر صدر جنوبی کوریا مون جے ان کو درپیش تشویش کا تذکرہ کرنا بھی ضروری ہے جو انہوں نے شمالی کوریا کے نیوکلیئر موضوع پر بات چیت کیلئے امریکہ اور جنوبی وکریا کی جانب راغب ہونے پر ظاہر کی ہے۔ انہوں نے سیول کے دو سینئر افسران کے امریکہ جانے سے قبل بات چیت کی جو امریکہ جاکر وہاں کے متعلقہ افسران کو شمالی کوریا کے دورہ سے حاصل ہونے والے نتائج کی تفصیلات بتائیں گے۔ بعض ماہرین کا خیال ہیکہ شمالی کوریا نے بات چیت کی جو پیشکش کی ہے، کیا اس میں وہ صدفیصد سنجیدہ ہے کیونکہ ماضی میں اس نے جب بھی ترک اسلحہ کی بات کی ہے اس کے ذریعہ اس نے نہ صرف مراعات حاصل کیں بلکہ درپردہ اپنے نیوکلیئر پروگرام کو جاری بھی رکھا۔

TOPPOPULARRECENT