Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / شمالی کوریا کے ایک اور نیوکلیر تجربہ کا خطرہ

شمالی کوریا کے ایک اور نیوکلیر تجربہ کا خطرہ

بین الاقوامی دباؤ نظرانداز، اقوام متحدہ سے خصوصی اجلاس طلب کرنے امریکہ کا مطالبہ
سیول ؍ واشنگٹن ؍ ٹوکیو9 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) شمالی کوریا کی سرکاری میڈیا نے آج قوم کی یوم تاسیس منائی جس میں بین الاقوامی تحدیدات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نیوکلیر ہتھیار تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جنوبی کوریا کی فوج نے بتایا کہ وہ شمالی کوریا پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور امکان ہے کہ 1948 ء میں ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا کے قیام کی یاد میں وہ میزائیل یا ایک اور نیوکلیر تجربہ کرسکتا ہے۔ شمالی کوریا نے گزشتہ سال 9 ستمبر کو پانچواں نیوکلیر تجربہ کیا تھا ، اس کے بعد ایک ہفتہ قبل اُس نے چھٹا تجربہ کیا اور کہاکہ یہ ہائیڈروجن بم تھا جسے میزائیل کے ذریعہ داغا جاسکتا ہے۔ شمالی کوریا کے اِس تجربہ کی ساری دنیا نے مذمت کی اور تحدیدات مزید سخت کرنے پر زور دیا ہے۔ امریکہ نے اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔ شمالی کوریا پر مزید پابندیاں لگانے کے لئے ایک تجویزکے مسودے پر ووٹنگ کی غرض سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے 11 ستمبر کو اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی ہے ۔اقوام متحدہ میں امریکی مشن نے کل ایک بیان میں کہا کہ وہ چاہتا ہے کہ اقوام متحدہ شمالی کوریا میں تیل پر پابندی لگائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ملبوسات کی برآمدات اور غیر ممالک میں شمالی کوریاکے مزدوروں کے کام کرنے پر پابندی لگائے ۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی املاک ضبط کرنے اور سفر پر پابندی عائد کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے ۔اس سے پہلے اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے شمالی کوریا کے خلاف ‘سخت ممکنہ اقدامات’ کی درخواست کی تھی۔اِس دوران جاپان کی ائیر سیلف ڈیفنس فورس یعنی ‘اے ایس ڈی ایف’ کا کہنا ہے کہ جاپانی ایف۔15 لڑاکا طیاروں نے ہفتہ کو امریکہ کے بی ون بی بمبار طیاروں کے ساتھ مل کر مشرقی بحیرہ چین کے اوپر فضائی مشقیں کی ہیں۔امریکہ اور جاپان کی یہ مشترکہ فضائی مشقیں ایک ایسے وقت ہوئی ہیں جب جنوبی کوریا کو شمالی کوریا کی طرف سے اس کے یوم تاسیس کے موقع پر مزید میزائل تجربات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔واضح رہے کہ شمالی کوریا نے چند دن پہلے اپنے چھٹا اور سب سے بڑا جوہری تجربہ کیا جس کی وجہ سے عالمی تجارتی منڈیوں کو دھچکا لگا اور خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا۔بتایا گیا ہے کہ ان فضائی مشقوں میں حصہ لینے والے امریکہ کے دو بی ون بی لانسر بمبار طیاروں نے بحر الکاہل میں واقع امریکی جزیرے گوام کے فضائی اڈے سے پرواز کی اور بعد ازاں دو جاپانی ایف۔15 لڑاکا طیارے بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔

TOPPOPULARRECENT