Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / شمالی ہند کے مسلم اسکولی طلبہ کیساتھ متعصبانہ رویہ،فوری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت، محترمہ نازیہ ارم کی کتاب میں کئی باتوں کا انکشاف

شمالی ہند کے مسلم اسکولی طلبہ کیساتھ متعصبانہ رویہ،فوری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت، محترمہ نازیہ ارم کی کتاب میں کئی باتوں کا انکشاف

حیدرآباد۔7جنوری(سیاست نیوز) تعلیمی ادارو ںمیں اسکولی طلبہ کے ساتھ روا سلوک اور بڑھتے تعصب کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور ان حالات سے بچنے کیلئے فوری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہندستانی تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ کے ساتھ اختیار کئے جانے والے متعصبانہ رویہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے اور احساس دلانے کی ضرورت ہے اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ملک میں فرقہ پرستی اور عدم رواداری آئندہ نسلوں میں سرائیت کر جائے گی۔ بچوں کی بہتر پرورش اور انہیں اچھا انسان بنانے کیلئے تحریر کی گئی محترمہ نازیہ ارم کی کتاب میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ شمالی ہند کے اسکولو ںمیں مسلم طلبہ کے ساتھ نہ صرف ساتھی طلبہ کا رویہ متعصبانہ ہے بلکہ بعض اوقات اساتذہ کا رویہ بھی انتہائی افسوسناک ہے جو کہ قابل مذمت ہے۔ اسکولوں میں مسلم طلبہ کو طالبان‘ دہشت گرد‘ آئی ایس آئی ایس‘ اسامہ ‘ لادن‘ بغدادی اور اس طرح کے ناموں سے پکارا جانا اور انہیں پاکستانی کہہ کر ان پر طعنہ کسنا معمول بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ عرصہ میں یوریپ میں ہوئے ایک بم دھماکہ کے بعد دہلی کے ایک اسکول میں ٹیچر نے اپنی جماعت میں موجود واحد مسلم لڑکے ’’سعد‘‘ کو آواز لگائی اور کہا کہ سعد تم نے یہ کیا کردیا؟ سعد نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا لیکن اس کے باوجود یہ طعنہ دیا جاتا رہا۔ اسی طرح شمالی ہند کے اسکولوں میں بڑھ رہی اس طرح کی متعصب ذہنیت آئندہ نسل میں فرقہ پرستی کے زہر کو گھول سکتی ہے۔ نازیہ ارم نے اس کتاب کے ذریعہ اس مسئلہ کی سنگین نوعیت کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں رام جنم بھومی‘ بابری مسجد‘ گجرات فسادات اور دیگر فرقہ وارانہ ماحول کو مکدر کرنے والے واقعات طلبہ کے ذہنوں کو بھی پراگندہ کرنے لگے ہیں ۔ اہل سیاست کی جانب سے پھیلائی جانے والی نفرت کے سبب جو صورتحال پیدا ہورہی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا یا جاسکتا ہے کہ جو بچوں کی ذہن سازی کرنے کے ذمہ دار اساتذہ ہوتے ہیں ان کی جانب سے بھی کثرت میں وحدت کا درس دینے والی اس سرزمین پر مذہب کی بنیاد پر مسلم طلبہ کو نشانہ بنایاجانے لگا ہے۔اسی طرح کے ایک واقعہ میں 9ویں جماعت کی ایک طالبہ کوکسی پروگرام کیلئے پاکستانی پرچم کو پھاڑتے ہوئے دیکھ کر اسی کی ہم جماعت لڑکی نے کہا کہ ارے اپنے ہی ملک کا پرچم چاک کررہی ہو؟ اس مسلم لڑکی نے اس بات کی شکایت اپنی والدہ سے کی لیکن والدہ نے اس مسئلہ کو نظر انداز کرنے کی تاکید کی جبکہ اس بات کی شکایت کی جانی چاہئے تھی۔ دہلی کے ایک سرکردہ اسکول میں زیر تعلیم مسلم طالب علم کو نشانہ بناتے ہوئے اسی کے ہم جماعت طالب علم نے اسے بغدادی کہہ کر پکارنے کی عادت بنا لی جس کے خلاف اسکول انتظامیہ کی خاموشی نہ ٹوٹنے پر متاثرہ لڑکے کے والدین اس بات کی شکایت کی اور جب بغدادی کہہ کر پکارنے والے لڑکے کے والدین کو طلب کیا گیا تو والدہ نے کہا کہ بغدادی کہلانے والے لڑکے نے ان کے لڑکے کو ’’موٹا‘ کہا تھا اس طرح کے واقعات فوری طور پر نہ صرف توجہ طلب ہیں بلکہ انہیں فوری حل کرنے کیلئے اٹھ کھڑا ہونا چاہئے کیونکہ موٹا کہنے کے جواب میں بغدادی کہا جانا کوئی جواز نہیں ہے۔ امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران جو زہر افشانی کی ہے اس کے نتیجہ میں امریکی اسکولو ںمیں گذشتہ دو برسوں کے دوران اسکولو ںمیں منافرت پھیلتی نظر آنے لگی ہے۔مارچ 2017 میں امریکی ادارہ انسٹیٹیوٹ آف سوشل پالیسی اینڈ انڈر اسٹینڈنگ کی جانب سے کئے گئے سروے کے دوران 42 فیصد اولیائے طلبہ و سرپرستوں نے کہا کہ ان کے بچوں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر ستایا جانے لگا ہے جس میں ساتھی طلبہ کے علاوہ اساتذہ اور بعض مقامات پر اسکول انتظامیہ بھی ملوث ہے۔اسی طرح امریکن اسلامک ریلیشن ادارہ کی جانب سے کئے گئے 2017اکٹوبر کے سروے کے دوران یہ بات منظر عام پر آئی ہے کہ 36فیصد طالبات کو ان کے حجاب کے سبب ہراساں کیا جاتا ہے اور 57 فیصد مسلم طلبہ نے اس بات کی شکایت کی ہے کہ انہیں ان کے ساتھی آن لائن مذہب پر طعن کرتے ہوئے ہراساں کرتے ہیں۔ امریکی اسکولو ںمیں جو صورتحال پیدا ہورہی ہے اسی طرح کی فرقہ وارانہ عدم برداشت اور رواداری کے خاتمہ کا یہ سلسلہ ہندستان کے مختلف شہرو ںمیں بھی دیکھا جانے لگا ہے۔ اس طرح کی شکایات اور واقعات پر اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کو فوری متحرک ہونا چاہئے کیونکہ اس طرح کے واقعات سے نہ صرف ہراسانی کے شکار طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ بسا اوقات یہ حرکتیں اجتماعی نقصان کا سبب ثابت ہونے لگتی ہیں کیونکہ بچپن میں اسکولی تعلیم کے دوران ہی اگر بچوں میں مذہب کے نام پر زہر گھولنے کی کوشش کی جانے لگے اور انہیں دہشت گردوں کے نام سے پکارا جانے لگے تو ان کے ذہن پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اس بات کا اندازہ لگایا جانا دشوار نہیں ہے اور یہ بات ملک کے مفادات کے مغائر ہے۔

TOPPOPULARRECENT