Saturday , June 23 2018
Home / شہر کی خبریں / شمال اور دکن کی سیاست کے زمینی حقائق: پانڈو رنگاریڈی

شمال اور دکن کی سیاست کے زمینی حقائق: پانڈو رنگاریڈی

حیدرآباد ۔ 7 ۔ مارچ : ( پریس نوٹ ) : کیپٹن ایل پانڈو رنگا ریڈی نے بتایا کہ جغرافیہ تاریخ کی جائے پرورش ہے ۔ طاقتور ماں اور بہتر نظم و ضبط سے گھر محفوظ رہتا ہے ۔ مصر کو دریائے نیل کا تحفہ ملا اور ہندوستان کو انڈس اور گنگا کی بیٹی تصور کیا جاتا ہے ۔ جغرافیہ کا تاریخ میں ہمیشہ ایک مقام رہا ہے ۔ حالیہ دنوں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا بیان ان کی سیاسی اور سماجی بہتری کی ذمہ داری کو پیش کرتا ہے ۔ ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ قومی سطح پر قومی سیاست میں قومی پارٹیوں کی روک تھام کرتے ہوئے مقامی سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم کے ذریعہ قومی پارٹیز بی جے پی اور کانگریس کو شکست سے دوچار کرنا جیسی باتیں کرتے ہوئے الجھاؤ پیدا کرنا ایسی خوش کن باتیں سننے کے لیے مناسب لگتی ہیں ۔ ایسے اقدام کی خواہش کرنا بھی مناسب ہے ۔ مگر یہ ناممکن ہے ان تمام قائدین کو یہ جان لینا چاہئے کہ ایسی مقبول تحریکوں کے اثرات کیا ہوں گے ۔ اس کے کوئی نتائج سامنے نہیں آئیں گے ۔ شمال اور دکن کی محدود حکمرانی میں یہ ناممکن ہے ۔ کل ہند سطح پر کوئی بھی ایسی سیاسی جماعت نہیں ہے جسے دکن کے تعاون کی ضرورت نہ ہو ۔ اس کے علاوہ دہلی اور دکن کے درمیان معاملت نہیں ہوپائے گی ۔ اندرا گاندھی کے دور میں بھی تمام اختیارات آندھرا پردیش کو جو کہ دکن کے لیڈر این ٹی راما راؤ کو دئیے جانے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ جب انہیں اس کا احساس ہوا تو وہ بھی یہ جان گئے کہ ایسا کرنا ممکن نہیں ہے ۔ حالانکہ انہوں نے قومی سطح کی بھارت دیشم کے نام سے پارٹی بھی قائم کی جب انتخابات ہوئے تو نتائج اس امید کے برخلاف آئے ۔ دکن اور شمال کے علاقوں کی سیاست یکساں نہیں ہے ۔ ساتاواہناس شمالی علاقوں کے قلعہ وجیا نگرا اور بھمینس کی پالیسی الگ نوعیت کی ہے جو کہ ناکام ثابت ہوئی ۔ مراہٹہ عوام کئی عرصہ سے دکن پر بھروسہ سے کامیاب ہیں ۔ اسی طرح شمالی ہندوستان میں بھی ایسے معرکے ناکام رہے ۔ جس کی مثال 1761 میں پانی پت کی جنگ ہے ۔ جس میں بی مادھو راؤ صدمہ سے فوت ہوگیا اور اندرون 57 سال مراہٹہ الحاق بھی تاریخ کا حصہ بنا ۔ چندرا بابو نائیڈو بھی کامیاب رہے لیکن 2004 اور 2009 میں انہیں ناکامی کا منہ اس لیے دیکھنا پڑا کہ وہ قومی سیاست کا حصہ بننا چاہتے تھے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو چاہئے کہ پہلے وہ تلنگانہ عوام کو ان سے کئے وعدوں کے مطابق سہولتیں دینے میں کامیاب ہوئے یا نہیں بعد میں وہ ملکی سیاست میں حصہ لینے کی فکر کریں ۔ زمینی حقائق کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔

TOPPOPULARRECENT