Tuesday , December 11 2018

شمال مغربی پاکستان میں دہشت گرد حملہ میں 30 ہلاک ، 40 زخمی

دہشت گرد حملہ پر چین کا اظہار مذمت، حفاظت کیلئے پاکستان پر زور،طالبان پر شبہ
پشاور ۔ 23 ۔ نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کے شورش زدہ صوبہ خیرپختون خواہ میں جمعہ کو ایک بڑے مذہبی ادارہ کے باہر مصروف ترین مارکٹ میں طاقتور بم دھماکہ ہوا جس کے نتیجہ میں کم سے کم 30 افراد ہلاک اور دیگر 40 زخمی ہوئے ۔ اورک زئی قبائیلی ضلع میں شیعہ مذہبی مقام پر امام بارگاہ کے قریب جمعہ بازار میں کھڑی ایک موٹر سیکل میں دھماکہ خیز مواد رکھ دیا گیا تھا ۔ عہدیداروں نے کہا کہ عوام گرم ملبوسات کی خریداری میں مصروف تھے کہ دھماکہ ہوگیا ۔ جیو نیوز نے ضلع انتظامیہ کے عہدیداروں کے حوالے سے توثیق کی کہ 30 افراد ہلاک اور دیگر 40 زخمی ہوئے ہیں ۔ عہدیداروں نے کہا کہ اکثر افراد کا تعلق اقلیتی شیعہ طبقہ سے تھا جو علاقہ میں ماضی میں بھی اس قسم کے حملوں کا نشانہ بنائے گئے تھے ۔ مہلوکین میں تین بچے بھی شامل تھے ۔ دھماکو مواد سے لدی موٹر سیکل سے ریموٹ کنٹرول مربوط کردیا گیا تھا ۔ اس تباہ کن حملے کے فوری بعد سارے علاقہ کی ناکہ بندی کردی گئی ۔ تحقیقات جاری ہیں اور مقامی دواخانوں میں اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایمرجنسی کا اعلان کردیا گیا ہے ۔ انسانی حقوق کی وزیر شیرین مزاری نے الزام عائد کیا کہ افغانستان میں امریکہ کی ناکامی اس حملے کیلئے ذمہ دار ہے ۔

انہوں نے پاکستانیوں کو خبردار کیا کہ وہ اس قسم کے مزید حملوں کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہیں ۔ مزاری نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ امریکہ چونکہ افغانستان میں ناکام ہوچکا ہے چنانچہ پاکستانیوں کو اس کا خمیازہ بھگتنے کیلئے تیار رہنا چاہئے اور ہمیں اپنے قبائیلی علاقوں بالخصوص اپنے عوام کی حفاظت کیلئے سیکوریٹی کو یقینی بنانا ہوگا ۔ کسی بھی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن بالعموم طالبان کے عسکریت پسند ہی اس قسم کے حملے کیا کرتے ہیں ۔ بیجنگ سے موصولہ اطلاع کے بموجب چین نے پاکستان کے بندرگاہی شہر کراچی میں اپنے قونصل خانہ پر آج ہوئے دہشت گرد حملے اور اس میں پانچ افراد کی ہلاکتوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی اور اپنے بااعتماد دیرینہ حلیف ( پاکستان ) سے اپنی سرزمین پر چینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان چنگ شوژنگ نے کہا کہ قونصل خانہ کا سارا اسٹاف اور ان کے ارکان خاندان اس حملے کے بعد محفوظ رہے ۔ چنگ نے روزمرہ کی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سفارتی ایجنسیوں کے خلاف پرتشد حملوں کی چین سخت مذمت کرتا ہے اور پاکستان کو چاہئے کہ اس ملک میں چینی شہریوں اور اداروں کی حفاظت کو یقینی بنائے ۔

TOPPOPULARRECENT