Thursday , December 14 2017
Home / مضامین / ’’شمیم خاں تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ تو پٹھان ہوتا‘‘

’’شمیم خاں تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ تو پٹھان ہوتا‘‘

کے این واصف
نوٹ : یہ مضمون سعودی عرب کے معروف این آرآئی جناب عبدالعزیز شمیم خاں کے اعزاز میں جمعرات کی شب منعقد تہنیتی تقریب میں پڑھا گیا تھا ۔ اس تقریب کا اہتمام انڈین کمیونٹی ریاض نے کیا تھا۔
بزرگان دین اور اولیاء اللہ دنیا کے ہر خطہ میں ہوئے ہیں اور بے شک ہم میں سے سب کے ذہن میں چند ایک اولیاء اللہ کے نام اور آستانے ضرور ہوں گے ۔ مگر آج تک کم از کم ہم نے کسی ولی کے نام کے ساتھ ’’خاں‘‘ لگا نہیں دیکھا نہ سنا۔ سوائے ایک کے اور وہ ولی بھی صرف ولی نہیں بلکہ خاں کی قوسین میں ولی ہیں۔ یعنی ’’ خاں ولی خاں‘‘
سامعین کرام : مضمون کا عنوان سن کر آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ اس کی اصل حضرت غالب کے شعر سے ہے۔
یہ مسائل تصوف یہ تیرا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
غالب صاحب مسائل تصوف سے تو واقف تھے مگر اس کے ساتھ ’’بلا نوش‘‘ بھی تھے بلکہ بلا کے ، بلا نوش تھے۔ ’’چٹھتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی‘’ کا معاملہ تھا ۔ اس لئے انہوں نے خود اعتراف کیا ’’تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا‘‘۔
میرے عزیز ترین دوست عبدالعزیز خاں شمیم بے چارے نہ بلا نوش ہیں نہ کبھی اس ’’کافر‘‘ کومنہ لگایا جس کے بارے میں حضرت ذوق نے کہا ہے   ؎
اے ذؤق دخترَ رز کو نہ منہ لگا
چٹھتی نہیں ہے منہ سے کافر لگی ہوئی

مگر شمیم خاں جسے میں محبت سے ’’ٹھاکر‘‘ کہہ کے بلاتا ہوں تو اتنا پرہیز گار آدمی ہے کہ تمباکو نوشی تک نہیں کرتا اور پٹھان ہونے کے باوجود دانتوں میں نسوار بھی نہیں دباتا۔
شمیم خاں کو میں کوئی ربع صدی سے جانتا ہوں ۔ گو کہ ہم دونوں کا تعلق حیدرآباد شہر سے ہے مگر شمیم خاں سے میری ملاقات ریاض ہی میں ہوئی۔ سعودی عرب کے قیام نے مجھے جو مخلص اور قابل فخر احباب بخشے ہیں، ان میں شمیم خاں ایک ہیں۔ شمیم خاں ایک خوش مزاج اور فیق القلب انسان ہیں لہذا ان سے شناسائی کو بے تکلفی میں بدلنے میں دیر نہیں لگی۔ تقریباً 25 سال سے ان کے گھر کی ضیافتوں میں، میں نصاب میں لازمی مضمون کی طرح شامل رہتا ہوں۔ پٹھان لوگ مہمان نوازی کیلئے مشہور ہیں۔ سنا کہ ایک شخص پٹھانوں کے علاقہ میں محلے کی مسجد میں گیا ، ایک پٹھان نے علیک سلیک کے بعد اس شخص سے پوچھا ، آپ اس محلے میں نئے معلوم ہوتے ہو۔ اس نے جواب دیا ہاں مسافر ہوں ، تو پٹھان نے فوراً کہا مسافر ہو تو آج رات کا کھانا ہمارے ساتھ کھاؤ۔ مسافر نے دعوت قبول کرلی ۔ مسجد سے باہر نکلا ہی تھا کہ دوسرے پٹھان نے وہی سوال کیا اور اسے عشائیہ کیلئے مدعو کیا ۔ مسافر نے کہا آپ کے ایک ہم محلہ نے مجھے ابھی ابھی آج رات کے کھانے کی دعوت دی ہے۔ اس پر پٹھان بولا نہیں تم میرے گھر کھانا کھاؤ گے اور اگر نہیں آئے تو میں تمہیں گولی ماردوں گا ۔ مسافر گھبرایا اور پہلے پٹھان سے رجوع ہوکر ماجرا بیان کیا۔ پہلے پٹھان نے کہا تم گھبراؤ نہیں ۔ تم میرے ساتھ ہی کھانا کھاؤ۔ مسافر نے کہا وہ دوسرا پٹھان تو مجھے گولی ماردے گا ۔ اس پر پہلے پٹھان نے کہا کوئی بات نہیں تم کھانا میرے گھر ہی کھاؤ۔ اگر وہ میرا ایک مہمان مارے گا تو میں اس کے دو مہمان کو گولی ماردوں گا۔ اسی لئے شمیم خاں جب بھی کھانے کیلئے دعو کرتے ہیں تو میں اپنی ساری مصروفیات منسوخ کر کے ان کے گھر چلا جاتا ہوں۔
شمیم خاں بہت عمدہ وسترا ادبی ذؤق بھی رکھتے ہیں۔ وہ جہاں اپنی پرتکلف دعوتوں سے احباب کیلئے شکم سیری یا جسمانی غذا کا انتظام کرتے ہیں وہیں ای میل ، فیس بک وغیرہ پر معروف فنکاروں کی گائی بہترین غزلیں روانہ کر کے روح کی غذا کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔ ان کی پوسٹ میں ادب عالیہ سے لیکر ہلکی پھلکی موسیقی تک ملتی ہے۔ خصوصاً وہ جو پرانے فلمی گانوں کا انتخاب کر کے نیٹ پر پوسٹ کرتے ہیں، وہ ہماری ہندی فلموں کی قدیم اور اچھی قدروں کی یاد دلاتے ہیں جس میں ہیرو، ہیروئین کسی باغ میں رومانٹک گانا گاتے ہوئے بھی آپس میں اخلاقی فاصلے برقرار رکھتے ہیں اور گانے کے آخر میں جب وہ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں تو کسی درخت کے پیچھے ہوجاتے ہیں اور کیمرہ اوپر ہوتے ہوئے کسی شاخ پر جاکے رکھ جاتا ہے ، جہاں طوطا طوطی کو چونچ لڑاتے ہوئے دیکھا جاتا تھا ۔ حالانکہ شمیم خاں اس دور کے انسان ہیں جس دور کی فلموں میں محبوبہ اپنے محبوب سے کہہ رہی ہے ’’چپکالے سینیاں فیوی کال سے‘‘

شمیم خاں، دکن کلچرل اسوسی ایشن جس کے وہ بانی اور چیرمین ہیں، کے زیر اہتمام آئے دن غزل اور لائیٹ میوزک کے پروگرامس کا انعقاد عمل میں لاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی اسوسی ایشن کے ذریعہ کئی ایک ابھرتے ہوئے فنکاروں کو اسٹیج فراہم کر کے ان کی ہمت افزائی کی اور ان کے فن کو جلا بخشی۔
میں سعودی عرب ذرا پکی عمر میں آیا۔ یہ کوئی 1993 ء کی بات ہوگی جب میں شمیم خاں سے متعارف ہوا تھا ۔ شمیم خاں ویسے اب بھی جوان ہیں مگر اس وقت تو بڑے بانکے جوان تھے۔ ابتدائی ملاقات میں شمیم خاں سے میں نے پوچھا کہ آپ کب سے سعودی عرب میں ہیں تو انہوں نے بتایا کہ کوئی 12 سال سے  اور مزید کہا کہ 1981 ء میں وہ آرامکو سے منسلک ہوئے تھے ۔ میں نے کہا خاں صاحب آپ چہرے مہرے سے اتنے سینئر نہیں لگتے۔ کیا آپ کو بچپن میں آرامکو کی چوکھٹ پر ڈال دیا گیا تھا؟ اس پر خوش مزاج شمیم خاں نے قہقہ لگایا ۔ اللہ کا شکر ہے ۔ یہ پٹھان ہمارے اس جملے پر ناراض نہیں ہوا ۔ ویسے شمیم خاں روزِ اول سے مجھے اپنے بڑے بھائی کی طرح مانتے ہیں اور ان کی ساری فیملی مجھے بڑا عزیز رکھتی ہے اور مجھ سے بڑے ادب و احترام کا رویہ روا رکھتی ہے۔ شمیم خاں 1986 ء سے ریاض میں مقیم ہیں وہ عرب نیشنل بینک میں سینئر مینجر کے عہدے پر فائز ہیں۔ شمیم خاں نے یہ ترقی اپنے بل بوتے پہ حاصل کی ہے جس میں صرف ان کی محنت اور قابلیت کا دخل ہے۔

ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ بندہ شادی اس لئے کرتا ہے کہ وہ سکون سے رہے اور جو شادی نہیں کرتے وہ بھی اس لئے نہیں کرتے۔ شمیم خاں نے بھی شادی کی اور ہنسی خوشی تین دہائیوں سے پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔

شمیم خاں اور نکہت کے چار ہونہار بچے ہیں، جن میں سے وہ ایک لڑکی اور لڑکا کی شادی کی ذمہ داریوں سے بھی سبکدوش ہوچکے ہیں۔ یہ دونوں نانا ، نانی تو بن گئے ، انشاء اللہ عنقریب دادا ، دادی بھی ہوجائیں گے۔کہتے ہیں انسان کے اندر ایک چلبلا بچہ رہتا ہے اور یہ بچہ شمیم خاں سے چو بیسوں گھنٹے چھیڑ چھاڑ اور شرارتیں کرواتا رہتا ہے۔ مگر یہ بچہ چونکہ پٹھان ہے اس لئے کبھی کبھی غراتا بھی ہے ۔ ظاہر ہے پٹھانی خون ہے ذرا جلد جوش مارتاہے ۔ مگر شمیم خاں کی اچھی بات یہ ہے کہ وہ جلد ٹھنڈے بھی ہوجاتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ whatsaap یا فیس بک پر چھڑی بحثوں میں اگر کوئی بات انہیں بری لگی تو وہ فوری کھرا جواب دیتے ہیں، مگر کوئی انہیں واجبی دلیل سے قائل کرے تو فوری لکھ دیتے ہیں۔ ’’ ٹھیک ہے صاحب میں نے ہتھیار ڈال دیئے‘‘۔ غلطی کرنا غلط نہیں مگر غلطی پر اڑنا اور بحث کرنا غلط بات ہے اور شمیم خاں کبھی ایسا نہیں کرتے، جو ایک اچھے اور نیک  نفس انسان ہونے کی دلیل ہے ۔ شمیم خاں ایک جہاں دیدہ شخص ہیں۔

دنیا کے چالیس سے زائد ممالک کا پانی پی چکے ہیں۔ شمیم خاں بہت زیادہ ہوائی سفر کرتے ہیں لیکن پھر بھی کبھی اُڑتے نہیں۔ ہمیشہ زمین پرچلتے ہیں۔ ان میں غرور، تکبر اور میں پن بالکل نہیں ہے۔ بے حد یار باش آدمی ہیں ، جس محفل میں بیٹھیں گے اسے اپنی بدلہ سنجی سے خوشگوار بنائیں گے ۔ پٹھان ہیں ڈپلومیسی یا منہ دیکھی بات نہیں کرتے ۔ منافقت سے دور رہتے ہیں۔ بات کھری کھری ضرور کرتے ہیں مگر کسی کی دل آزاری نہیں کرتے نہ کسی کی بے جا خوشامد کرتے ہیں، وہ ایک خدا ترس انسان ہیں۔ بے حد پراکٹیکل مسلمان ہیں ۔ مستحق اور ضرورت مند افراد کی بند مٹھی مدد کرتے ہیں ۔ میں اس بات کا گواہ ہوں، وہ میرے ذریعہ حیدرآباد میں ایسے کئی افراد کی مالی مدد کرتے ہیں جو ضرورت مند ہیں مگر ہاتھ نہیں پھیلاتے۔ یعنی شمیم خاں ہم نفسوں کے تئیں ایک دردمند دل رکھتے ہیں اور کما حقہ اپنے خالق مطلق کی طاعت و شکر گزاری بھی کرتے ہیں۔ آدمی کو زندگی کے اسٹیج پر بیک وقت بہت سے کردار نبھانے پڑتے ہیں۔ بیٹا ، بھائی ، شوہر ، باپ ، عزیز رشتہ دار، دوست اور پڑوسی وغیرہ وغیرہ ۔ میں سمجھتا ہوں کہ شمیم خاں نے اس رنگ منچ پر سارے کرداروں کو بخوبی نبھایا ۔ ان ساری باتوں کو میں اگر دو جملوں میں کہوں تو شمیم خاں ایک اچھے انسان اور پیاری شحصیت کا نام ہے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT