Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / شنکرسنہہ واگھیلا رکن اسمبلی کی حیثیت سے مستعفی

شنکرسنہہ واگھیلا رکن اسمبلی کی حیثیت سے مستعفی

چیف منسٹر وجئے روپانی اور بی جے پی کے سینئر وزراء کے ہمراہ اسپیکر سے ملاقات
احمدآباد ۔ 16 اگست (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر گجرات وجئے روپانی اور دیگر کئی سینئر وزراء کے ہمراہ کانگریس کے سابق سینئر لیڈر شنکرسنہہ واگھیلا نے آج بحیثیت رکن اسمبلی استعفیٰ کا اعلان کیا۔ واگھیلا کی بغاوت نے کانگریس پارٹی میں ہلچل پیدا کردی تھی تاہم انہوں نے آج کہا کہ وہ بی جے پی میں شامل نہیں ہوں گے۔ واگھیلا کا تعلق شتریہ طبقہ سے جس کا گجرات میں کافی اثرورسوخ ہے۔ انہوں نے اسمبلی اسپیکر رمن لال وورا کو استعفیٰ حوالہ کیا۔ اس موقع پر چیف منسٹر وجئے روپانی، ڈپٹی چیف منسٹر نتن پٹیل اور سینئر بی جے پی وزراء موجود تھے۔ چنانچہ یہ قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ واگھیلا بی جے پی میں شامل ہوسکتے ہیں۔ 77 سالہ لیڈر نے اس بارے میں تبصرہ سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی سیاسی جماعت سے وابستگی اختیار نہیں کریں گے۔ انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت رکن اسمبلی مستعفی ہونے کے بارے میں وہ کافی دن سے سوچ رہے تھے۔ انہوں نے اپنے حلقہ کے عوام سے ملاقات کی اور اس فیصلہ سے مطلع کرنے کے بعد ہی وہ آج مستعفی ہورہے ہیں۔ واگھیلا نے کانگریس سے اپنی وابستگی ختم کرتے ہوئے بحیثیت اپوزیشن لیڈر استعفیٰ دیدیا لیکن وہ رکن اسمبلی برقرار ہیں۔ واضح رہیکہ تقریباً دو دہے قبل انہوں نے بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ آج استعفیٰ کی پیشکشی کے موقع پر بی جے پی قائدین کی موجودگی سے یہ قیاس آرائیاں جاری ہیکہ وہ جاریہ سال منعقد شدنی اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی میں واپسی کرسکتے ہیں۔

واگھیلا کے استعفیٰ سے کانگریس پارٹی پر کافی اثر پڑا۔ وجئے روپانی نے کہا کہ بی جے پی کو یقینا فائدہ ہوگا لیکن انہوں نے واگھیلا کی پارٹی میں واپسی کے امکان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ واگھیلا کی کانگریس سے علحدگی کے بعد پارٹی کے مزید 6 ارکان نے بھی ریاستی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا تھا ان میں 3 ارکان بی جے پی میں شامل ہوگئے۔ انہوں نے کانگریس کے سینئر لیڈر اور پارٹی صدر سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمدپٹیل کو راجیہ سبھا انتخابات میں شکست دینے کی ناکام کوشش کی۔ واگھیلا کی جانب سے انحراف اور پارٹی ارکان اسمبلی کی علحدگی کے باوجود احمدپٹیل 8 اگست کو منعقدہ انتخابات میں کامیاب رہے۔ کانگریس پارٹی نے حال ہی میں 8 ارکان اسمبلی بشمول واگھیلا اور ان کے فرزند مہندرا سنہہ کو راجیہ سبھا انتخابات میں کراس ووٹنگ کی بناء برطرف کردیا ہے۔ ان ارکان نے صدارتی انتخابات میں کانگریس کی نامزد اپوزیشن امیدوار میراکمار کی مخالفت میں ووٹ دیا ہے۔ گجرات اسمبلی میں جہاں کانگریس ارکان کی تعداد 57 ہے لیکن انتخابات میں پارٹی امیدوار میراکمار کو صرف 49 ووٹ ملے تھے۔ کانگریس کے 10 ارکان اسمبلی بشمول واگھیلا کے بیٹے نے بی جے پی میں شمولیت کا اشارہ دیا ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ واگھیلا کانگریس کی مرکزی قیادت سے اس لئے ناراض تھے کیونکہ ڈسمبر میں منعقد شدنی اسمبلی انتخابات کیلئے انہیں پارٹی چیف منسٹر امیدوار نامزد نہیں کیا جارہا ہے۔ پارٹی ہائی کمان نے ان کے مطالبہ کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT