شوپیان میں انکاونٹر ‘ 6 عسکریت پسندوں سمیت 8 ہلاک

سرینگر 25 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان سے کام کرنے والی لشکرطیبہ اور حزب المجاہدین کو آج اس وقت شدید جھٹکا لگا جب ایک انکاونٹر میں اس کے چھ عسکریت پسند ہلاک ہوگئے جن میں ایک پاکستانی بھی شامل تھا جو عام شہریوں کو ہلاک کرنے میں ملوث تھا ۔ کہا گیا ہے کہ اس انکاونٹر میں ایک عام شہری اور ایک سپاہی بھی ہلاک ہوگیا ہے ۔ یہ انکاونٹر شوپیان ضلع میں پیش آیا ۔ پولیس نے بتایا کہ مخصوص اطلاعات ملنے پر کہ وہاں دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں علاقہ کی ناکہ بندی کردی گئی اور تلاشی مہم شروع کی گئی ۔ یہ مہم رات دیر گئے پولیس اور سکیوریٹی فورسیس کی جانب سے مشترکہ طور پر شروع کی گئی تھی ۔ تلاش کے دوران عسکریت پسندوں نے تلاشی پارٹی پر فائرنگ کردی جس نے موثر جواب دیا اور پھر انکاونٹر کا آغاز ہوگیا ۔ ابتداء میں 34 راشٹریہ رائفلس کا ایک جوان فائرنگ کے تبادلہ میں زخمی ہوا تھا جسے دواخانہ منتقل کردیا گیا تھا اور اب وہاں اس کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے ۔ ایک اور جوان 34 راشٹریہ رائفل سے تعلق رکھنے والا نظیر احمد انکاونٹر کے آخری مرحلہ میں شدید زخمی ہوگیا تھا اور پھر وہ جانبر نہ ہوسکا ۔ کہا گیا ہے کہ ایک عسکریت پسند کی مشتاق احمد میر کی حیثیت سے شناخت ہوئی ہے جو پولیس کے بموجب شوپیان میں نوجوانوں کو عسکری تربیت کیلئے راغب کر رہا تھا ۔ اس کے علاوہ وہ عوام سے رقومات طلب کرنے میں بھی ملوث تھا ۔ دوسروں کی محمد عباس بھٹ اور خالد فاروق ملک ( شوپیان سے تعلق رکھنے والے ) عمر مجید ( کلگام ) محمد حمید واگے اور ایک پاکستانی دہشت گرد کفیل کی حیثیت سے شناخت ہوئی ہے ۔ انسپکٹر جنرل پولیس ( کشمیر رینج ) سوائم پرکاش پانی نے انکاونٹر کے بعد میڈیا کو بتایا کہ یہ انٹلی جنس اطلاعات پر مبنی کارروائی تھی جس میں چھ دہشت گردوں کا صفایا کردیا گیا ہے ۔ یہ لوگ عام شہریوں اور سکیوریٹی فورسیس کی بہیمانہ ہلاکتوں میں ملوث رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT