Thursday , February 22 2018
Home / ہندوستان / شوپیان واقعہ کی ایس آئی ٹی انکوائری کا مطالبہ

شوپیان واقعہ کی ایس آئی ٹی انکوائری کا مطالبہ

پولیس اور آرمی کی دو علیحدہ ایف آئی آر پر تنازعہ، عمر عبداللہ کا ردعمل
جموں۔2 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر عمر عبداللہ نے آج مطالبہ کیا کہ ضلع شوپیان میں پتھرائو کرنے والوں کی جانب سے ایک قافلہ کو نشانہ بنانے پر سکیوریٹی فورسس نے فائرنگ کرتے ہوئے تین افراد کو ہلاک کردیا ہے، جس کی اعلی سطح کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی تشکیل کے ذریعہ انکوائری کرائی جائے۔ عمر نے اسمبلی میں کہا کہ حکومت سے میری مخلصانہ درخواست ہے کہ شوپیان واقعہ کے سلسلہ میں درج دونوں ایف آئی آر کی تحقیقات کے لیے اعلی سطح کی ایس آئی ٹی تشکیل دی جائے اور تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی کوئی نتیجہ اخذ کیا جائے۔ وہ چیف منسٹر محبوبہ مفتی کی جانب سے آج مختلف محکمہ جات کے لیے پیش کردہ مطالبہ زر پر مباحث کے تحت مخاطب تھے۔ عمر نے کہا کہ پولیس اور آرمی کے دائر کردہ دو علیحدہ ایف آئی آر پر اب رساکشی کا ماحول پیدا ہوگیا ہے اور کسی بھی اسٹیشن ہائوز آفیسر ایس ایچ او کے لیے اس معاملہ کی تحقیقات کرنا مشکل رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد ریاستی حکومت کو مجسٹریٹ کے ذریعہ تحقیقات کا جو حکم دیا ہے وہ بھی علیحدہ طورپر جاری رہے گی۔ آرمی نے 27 جنوری کے واقعہ کی اپنی رپورٹ پیش کردی ہے۔ آرمی کے ایک قافلے کو ضلع شوپیان میں حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ فوج نے پتھرائو کرنے والے ہجوم پر فائرنگ کرنے کی وجوہات کی وضاحت کی ہے۔ آرمی کے بیان کے مطابق جو گزشتہ روز پیش کیا گیا، فورس کے قافلے پر سنگ باری کرنے والوں کے گروپ نے حملہ کیا اور اس کے فوجیوں کو اپنی جان بچانے کی خاطر فائرنگ کرنا پڑا۔ آرمی کا بیان ریاستی پولیس کی جانب سے اس واقعہ کے بارے میں ایف آئی آر کے بعد سامنے آیا۔

TOPPOPULARRECENT