Tuesday , May 22 2018
Home / ہندوستان / شوپیان ہلاکتوں کیخلاف کشمیر میں دوسرے دن بھی ہڑتال، تعلیمی ادارے بند

شوپیان ہلاکتوں کیخلاف کشمیر میں دوسرے دن بھی ہڑتال، تعلیمی ادارے بند

فوجی کیمپ مقامی آبادی کیلئے وبال جان ،علاقہ سے کیمپ ہٹانے کا مطالبہ ، سیکورٹی خدشات کے سبب ریل خدمات بدستور معطل

سری نگر۔ 6مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے پہنو نامی گاؤں میں اتوار کی شام فوج کی فائرنگ سے 6 شہریوں کی موت واقع ہوجانے کے خلاف جنوبی کشمیر کے چار اضلاع شوپیان، پلوامہ، اننت ناگ اور کولگام میں منگل کے روز دوسرے دن بھی مکمل ہڑتال کی گئی جس کے دوران معمول کی زندگی بری طرح متاثر رہی۔تاہم وادی کے باقی 6 اضلاع میں ایک روزہ ہڑتال کے بعد معمولات زندگی بحال ہوگئے ۔ انتظامیہ نے احتیاطی طور پر وادی کشمیر کے تمام تعلیمی اداروں کو چہارشنبہ کے روز تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔بیشتر اداروں بشمول جموں وکشمیر پبلک سروس کمیشن اور کشمیر یونیورسٹی نے چہارشنبہ تک لئے جانے والے تمام امتحانات ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ جنوبی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شوپیان، پلوامہ، اننت ناگ اور کولگام اضلاع کے بیشتر علاقوں میں منگل کو مسلسل دوسرے دن بھی دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بند رہی۔ان سبھی اضلاع میں پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب جبکہ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا۔اطلاعات کے مطابق جنوبی کشمیر کے بیشتر حصوں میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات منگل کو دوسرے دن بھی معطل رکھی گئیں، تاہم باقی اضلاع میں تیز رفتار والی فور جی اور تھری جی انٹرنیٹ خدمات بحال کی گئی ہیں۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ جنوبی کشمیر میں کوئی پابندیاں نافذ نہیں ہیں، تاہم امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر رکھی گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی کشمیر میں صورتحال قابو میں ہے ۔

اگرچہ جنوبی کشمیر سے گذرنے والی سری نگر جموں قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت جاری ہے ، تاہم اس شاہراہ پر عام دنوں کے مقابلے میں سیکورٹی فورسز کی اضافی بٹالین تعینات رکھی گئی ہے ۔دریں اثناء جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے پنجورہ اور پہنو نامی دو دیہات کے مکینوں نے منگل کے روز علاقہ میں قائم فوج کی 44 راشٹریہ رائفلز (آر آر) کے کیمپ کو ہٹانے کے مطالبے کو لیکر شدید احتجاج کیا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ستمبر 2016 میں قائم کئے جانے والا یہ کیمپ مقامی آبادی کے لئے وبال جان بن گیا ہے ۔ واضح رہے کہ پہنو میں قائم اس کیمپ کے باہر 4 مارچ کو فائرنگ کا ہلاکت خیز واقعہ پیش آیا۔ فائرنگ کے اس واقعہ کے بعد ریاستی پولیس کو جائے وقوع سے ایک جنگجو اور چار عام شہریوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ سبھی چار مہلوک عام شہریوں گوہر احمد لون، سہیل احمد وگے ، شاہد خان اور شاہنواز وگے کی عمر 20 سے 25 برس کے درمیان تھی۔فوج کا کہنا ہے کہ اس کے اہلکاروں نے اپنے دفاع میں جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں لشکر طیبہ سے وابستہ دو جنگجو اور ان کے چار ساتھی جاں بحق ہوئے ۔جنوبی کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پنجورہ شوپیان میں منگل کے روز سینکڑوں کی تعداد میں لوگ مہلوک جنگجو سہیل احمد کے گھر کے باہر جمع ہوئے اور پہنو میں موجود 44 آر آر کیمپ کو ہٹانے کا مطالبہ کرنے لگے ۔ایک رپورٹ کے مطابق بعض احتجاجی لوگ جلوس کی صورت میں منی سکریٹریٹ شوپیان پہنچے جہاں ان کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔واضح رہے کہ فوج کی فائرنگ سے 4 عام شہریوں کی موت واقع ہوجانے کے خلاف جنوبی کشمیر کے چار اضلاع میں منگل کو دوسرے دن بھی مکمل ہڑتال کی گئی جس کے دوران معمول کی زندگی بری طرح متاثر رہی۔دوسری طرف جموں وکشمیر میں شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان چلنے والی ریل خدمات منگل کو مسلسل دوسرے دن بھی معطل رکھی گئیں۔ یہ خدمات جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں اتوار کی شام پیش آنے والے فائرنگ کے واقعہ میں جنگجوؤں اور چار عام شہریوں کی ہلاکت کے بعد وادی بالخصوص جنوبی کشمیر میں پیدا شدہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر احتیاطی طور پر معطل کی گئی تھیں۔ محکمہ ریلوے کے ایک عہدیدار نے میڈیا کو بتایا ہم نے آج چلنے والی تمام ریل گاڑیاں معطل کردی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT