Wednesday , December 19 2018

شوہر اور والد کا نام بدل کر ووٹ ڈالنا غیرشرعی، ملک پیٹ میں عظیم اتحاد کے تلگودیشم امیدوار مظفر علی خان کے علاوہ سید عزیز پاشاہ کا خطاب

حیدرآباد ۔ 17 نومبر (سیاست نیوز) شوہر اور والد کا نام تبدیل کرکے ووٹ ڈالنا غیر شرعی اقدام ہے اور بوگس رائے دہی میںحصہ لینے والی مسلم خواتین کیلئے تجدید نکاح لازم ہوجاتا ہے ۔ نہ صرف مذہب اسلام بلکہ ہندو عقائد کی بنیا د پر بھی بوگس ووٹ گناہ ہے۔ اس بڑے گناہ میں وہ لوگ بھی برابر کے گنہگار رہیں گے، جو مظلوم اور معصوم مسلمان مرد او رخواتین کو بوگس رائے دہی کی ترغیب دیتے ہیں۔ذاتی مفادات اور حصول اقتدار کے لئے مسلمانوں کو بے دین کیاجارہا ہے۔ مسلمان چوکنا ہوجائیںاور بوگس رائے دہی میںشامل ہوکر گنہگار بننے کے بجائے صرف اپنا حق رائے دہی کااستعمال کرتے ہوئے جمہوریت کو مضبوط او رمستحکم کرنے کے حصہ دار بنیں ‘ اور گناہ کبیرہ سے بچیں۔اسمبلی حلقہ ملک پیٹ سے مہا کوٹمی( عظیم اتحاد) کے تلگودیشم امیدوار محمد مظفر علی خان نے ایمپریل گارڈن‘ چادرگھاٹ میں کل جماعتی کوآرڈنیشن کمیٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا سے سابق رکن پارلیمنٹ وقومی صدر تنظیم انصاف جناب سیدعزیز پاشاہ‘ تلگودیشم پارٹی کے گریٹر حیدرآباد صدر ایم این سرینواس‘ سی پی آئی گریٹر حیدرآباد جنرل سکریٹری ای ٹی نرسمہا‘ کانگریس قائد وجئے سمہا ریڈی‘ شیخ محمد ارشد‘ اعجاز علی خان‘امجد علی خان‘ مجتبیٰ عابدی‘ظفر اقبال کے علاوہ دیگر نے خطاب کرتے ہوئے مظفرعلی خان کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی اسمبلی حلقہ ملک پیٹ کی عوام سے اپیل کی ۔مظفر علی خان نے مزید کہاکہ حیدرآباد کے تمام سات اسمبلی حلقوں میں بوگس ووٹ کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے کی دوبارہ سازشیں کی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ شوہر اور والد کا نام بدل کر ووٹ ڈالنے کی اسلام میںسخت ممانعت اور گناہ کبیر ہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اقتدارحاصل کرنے کے لئے ملت کو گناہ میں ڈھکیلا جارہا ہے ۔ محمدمظفر علی خان نے کہاکہ انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی پرانے شہر کے مسلمانوں کو بی جے پی کے نام سے ڈرانے کا آغاز ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسمبلی حلقہ ملک پیٹ میں بی جے پی کو وجود باقی نہیں ہے او رسابق میںبھی 2009اور 2014میںکبھی بھی بی جے پی سے یہاں کے مسلمانوں کو خطرہ نہیںتھا مگر جیسا ہی عظیم اتحاد سے تلگودیشم پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے (محمد مظفر علی خان) کے نام کا اعلان ہوا تو مقامی جماعت نے اسمبلی حلقہ کے ملک پیٹ کے مسلمانوں کو بی جے پی کے نام سے خوفزدہ بنانا شروع کردیا۔مظفر علی خان نے کہاکہ فرضی حملہ کرائے جارہے ہیں تاکہ مسلمانوں میںڈر او رخوف کاماحول پیدا کیاجاسکے اور اسمبلی حلقہ ملک پیٹ کی عوام کو یہ باوار کرایا جاسکے کہ بی جے پی ملک پیٹ میںسرگرم ہورہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف اسمبلی حلقہ ملک پیٹ بلکہ پورے حیدرآباد سے بی جے پی کا صفایاہوگیاہے ۔انہوں نے کہاکہ ایمانداری سے کام کرنے والے منتخب عوامی نمائندے کو کسی کا بھی خوف نہیںہوتا۔ انہو ںنے مزیدکہاکہ سود خوروں ‘ لینڈگرابرس‘ اور اوقافی جائیدادوں پر قبضے کرنے والی کی پشت پناہی کرنے والوں کو ایماندار ی او ردیانت داری کے ساتھ عوامی خدمت کے جذبہ سے میدان انتخاب میںاترنے والے سے خوف او ردہشت طاری ہوجاتی ہے۔ انہو ںنے عوامی کی خدمات اگر کی ہوتی تو متعلقہ رکن اسمبلی کو حلقہ میںاپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی اور ہمارے حامیوں کو ڈرادھماکر انتخابی مہم سے دور کرنے کی کوشش نہیںکرنی پڑتی تھی۔انہوں نے کہاکہ پچھلے نو سالوں میںاسمبلی حلقہ ملک پیٹ میں پیش ائی دھاندلیوں اور بدعنوانیوں کے دستاویزی ثبوت میرے پاس موجود ہیں اور آنے والے دنوں میں مذکورہ دستاویزی ثبوت کے ساتھ میںاپنا مقدمہ اسمبلی حلقہ ملک پیٹ کی عوام کے سامنے رکھنے کا اعلان کیا۔ مظفرعلی خان نے کہاکہ میرا مقصد اسمبلی حلقہ ملک پیٹ کو تلنگانہ کامثالی حلقہ بنانا ہے۔

TOPPOPULARRECENT