شوہر بیوی کے رشتہ میں محبوبہ کا بھر پور فائدہ

سودے بازی میں مسلمان و عوام کا عظیم نقصان ، اتم کمار ریڈی کا بیان

حیدرآباد 21 جولائی ( سیاست نیوز ) ہندوستانی سیاست میں جو کچھ بھی ہوتا ہے ۔ اس کی عکاسی بہتر انداز میں صرف فلموں کی جاتی ہے ۔ کہتے ہیں سیاست اور محبت میں سب کچھ جائز ہے ۔ جس طرح شوہر اور بیوی کے درمیان جو پاکیزہ رشتہ ہوتا ہے اس کی مثال کسی دو سیاسی جماعتوں کے مابین اتحاد کو سمجھانے دی جاتی ہے لیکن ان دو سیاسی جماعتوں کے درمیان تیسرا آجاتا ہے تو میاں بیوی کے درمیان اختلافات کا باعث بننے والی ’ محبوبہ ‘ کی مثال دی جاتی ہے یا پھر دو اتحادیوں کے درمیان پیغام رساں کا تیسری جماعت کو نام دیا جاتا ہے ۔ آج کل ریاست میں اس طرح کی سیاست کارفرما ہے جہاں بی جے پی ٹی آر ایس و مجلس ایک دوسرے سے جائز و ناجائز بندھن میں بنے ہیں ۔ سیاسی تجزیہ نگار اور سیاستداں کے درمیان موجود رشتوں کو صاحب بیوی اور غلام میاں بیوی اور وہ ، پتی ، پتنی اور وہ ، جیسی فلموں کے ناموں سے منسوب کررہے ہیں ۔ صدر پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے آج ایک پریس کانفرنس میں ٹی آر ایس ۔ بی جے پی اور مجلس کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں کے درمیان ظاہری اور خفیہ اتحاد ہے ۔ ٹی آر ایس جہاں بی جے پی کی تائید کررہی ہے ۔ وہیں مجلس ‘ ٹی آر ایس کی تائید کررہی ہے ۔ اس طرح یہ تینوں راست و بالواسطہ ایک دوسرے کے قصیدے پڑھ رہے ہیں ۔ ایک صحافی کے سوال پر اتم کمار ریڈی نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کی ٹی آر ایس اور مجلس نے مجبوری میں تائید و مخالفت کی ہے ۔ بی جے پی اور نریندر مودی سے اظہار محبت کیلئے ٹی آر ایس ‘ووٹنگ کے موقع پر غائب ہوگئی اور اسد اویسی نے مسلمانوں میں شکوک و شکوک کو دور کرنے اپوزیشن کا ساتھ دیا ہے ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ مجلس بی جے پی کی تائید کرنے والی ٹی آر ایس کی حلیف ہے ۔ متذکرہ بالا سطروں میں جو فلموں کے ناموں کا حوالہ دیا گیا ہے ان میں میاں بیوی کی محبت کے درمیان والے تیسرے کردار کو منفی انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ ایک ایسا کردار جو ایک پر سکون گھر کے امن و چین کو برباد کردیتا ہے ۔ لیکن تلنگانہ کی سیاست میں میاں بیوی اور وہ کی فلم چل رہی ہے ۔ اس میں ’ سیاسی محبوبہ ‘ عوام کے مفادات کا سودا کرتے ہوئے میاں بیوی کو تو فائدہ پہونچا رہی ہے اس سودے بازی میں وقفہ وقفہ سے محبوبہ بھی فائدہ ہورہا ہے ۔ کبھی شوہر سے تو کبھی بیوی سے ۔

TOPPOPULARRECENT